BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 January, 2009, 16:12 GMT 21:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: دو حزب کمانڈر ہلاک

فوج کے مطابق کشمیر میں تشدد میں کمی آئی ہے
فوج کے مطابق کشمیر میں تشدد میں کمی آئی ہے
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں فوج کا کہنا ہے کہ اس نے پولیس کے ساتھ ایک مشترکہ آپریشن میں حزب المجاہدین کے تحصیل کمانڈر کو ساتھی سمیت ہلاک کر دیا ہے۔

جموں میں تعینات بھارتی فوج کی شمالی کمان کے ترجمان لیفٹنٹ کرنل اچاریہ نے بی بی سی کو بتایا: ’چوبیس راشٹریہ رائفلز اور جموں کشمیر پولیس کے جوانوں نے مصدقہ اطلاع ملنے پر ضلع ڈوڈہ کے گندوہ تحصیل میں بٹی ہاس جنگل میں اُس جگہ کا محاصرہ کرلیا جہاں مسلح شدت پسند چُھپے بیٹھے تھے۔ انہوں نے فوج پر فائرنگ کی اور جوابی کاروائی میں دو مسلح شدت پسند مارے گئے۔‘

ترجمان کا کہنا ہے کہ مارے گئے دو شدت پسندوں میں بارہ سال سے ضلع میں سرگرم ممنوعہ حزب المجاہدین کا تحصیل کمانڈر ظہور الدین کھانڈے بھی ہے جو بارودی دھماکے کرنے میں ماہر تھا۔ اس کے ساتھ کی شناخت سجاد حٰسین کے طور کی گئی ہے جو فوج کے مطابق پچھلے سال سے شدت پسندوں کے ساتھ وابستہ ہوگیا تھا۔

اچاریہ کے مطابق مذکورہ جنگلی علاقہ میں ابھی بھی آپریشن جاری ہے کیونکہ بقول ان کے وہاں مزید شدت پسندوں کی موجودگی کا امکان ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ آپریشن کے پہلے مرحلے میں دو کلاشنکوف رائفلیں بھی برآمد کی گئیں۔

گزشتہ روز صوبے کی پولیس کے سربراہ کُلدیپ کمار کھُڈا نے سال دوہزار آٹھ کے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے اس سال کو اب تک کا سب سے زیادہ پُرامن سال قرار دیا۔ قابل ذکر ہے کہ نومبر اور دسمبر میں سات مرحلوں کے اندر ہونے والے اسمبلی انتخابات میں بھی کوئی تشدد نہیں ہوا۔ ان انتخابات میں ساڑھے تیرہ سو سے زائد اُمیدواروں نے حصہ لیا۔

واضح رہے کہ حزب المجاہدین پچھلے اٹھارہ سال سے جموں کشمیر میں سرگرم ہے۔ حزب نے پہلی بار جولائی دوہزار میں یکطرفہ فائربندی کا اعلان کیا تھا جس کے بعد حکومت ہند اور حزب کمانڈروں کے درمیان بات چیت ہوئی۔ تاہم صرف پندرہ روز کے اندر سیز فائر ختم ہوگیا۔ بعد ازاں حزب المجاہدین کے متعدد اعلیٰ کمانڈروں کو مختلف آپریشنوں میں ہلاک کیا گیا۔

جمعرات کو پاکستان کے معروف روزنامہ ’دی نیوز‘ نے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں مقیم شدت پسند گروپوں کے بارے میں لکھا تھا کہ لشکر طیبہ اور حزب المجاہدین نے کشمیر پالیسی پر نظرثانی کا فیصلہ کرلیا ہے۔ واضح رہے کہ دونوں تنظیموں کی اب تک کی پالیسی یہ تھی کہ مسئلہ کشمیر کو مسلح مزاحمت کے ذریعہ حل کیا جاسکتا ہے۔

اسی بارے میں
جموں: فوجی آپریشن جاری
03 January, 2009 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد