کشمیر: دو حزب کمانڈر ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں فوج کا کہنا ہے کہ اس نے پولیس کے ساتھ ایک مشترکہ آپریشن میں حزب المجاہدین کے تحصیل کمانڈر کو ساتھی سمیت ہلاک کر دیا ہے۔ جموں میں تعینات بھارتی فوج کی شمالی کمان کے ترجمان لیفٹنٹ کرنل اچاریہ نے بی بی سی کو بتایا: ’چوبیس راشٹریہ رائفلز اور جموں کشمیر پولیس کے جوانوں نے مصدقہ اطلاع ملنے پر ضلع ڈوڈہ کے گندوہ تحصیل میں بٹی ہاس جنگل میں اُس جگہ کا محاصرہ کرلیا جہاں مسلح شدت پسند چُھپے بیٹھے تھے۔ انہوں نے فوج پر فائرنگ کی اور جوابی کاروائی میں دو مسلح شدت پسند مارے گئے۔‘ ترجمان کا کہنا ہے کہ مارے گئے دو شدت پسندوں میں بارہ سال سے ضلع میں سرگرم ممنوعہ حزب المجاہدین کا تحصیل کمانڈر ظہور الدین کھانڈے بھی ہے جو بارودی دھماکے کرنے میں ماہر تھا۔ اس کے ساتھ کی شناخت سجاد حٰسین کے طور کی گئی ہے جو فوج کے مطابق پچھلے سال سے شدت پسندوں کے ساتھ وابستہ ہوگیا تھا۔ اچاریہ کے مطابق مذکورہ جنگلی علاقہ میں ابھی بھی آپریشن جاری ہے کیونکہ بقول ان کے وہاں مزید شدت پسندوں کی موجودگی کا امکان ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ آپریشن کے پہلے مرحلے میں دو کلاشنکوف رائفلیں بھی برآمد کی گئیں۔ گزشتہ روز صوبے کی پولیس کے سربراہ کُلدیپ کمار کھُڈا نے سال دوہزار آٹھ کے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے اس سال کو اب تک کا سب سے زیادہ پُرامن سال قرار دیا۔ قابل ذکر ہے کہ نومبر اور دسمبر میں سات مرحلوں کے اندر ہونے والے اسمبلی انتخابات میں بھی کوئی تشدد نہیں ہوا۔ ان انتخابات میں ساڑھے تیرہ سو سے زائد اُمیدواروں نے حصہ لیا۔ واضح رہے کہ حزب المجاہدین پچھلے اٹھارہ سال سے جموں کشمیر میں سرگرم ہے۔ حزب نے پہلی بار جولائی دوہزار میں یکطرفہ فائربندی کا اعلان کیا تھا جس کے بعد حکومت ہند اور حزب کمانڈروں کے درمیان بات چیت ہوئی۔ تاہم صرف پندرہ روز کے اندر سیز فائر ختم ہوگیا۔ بعد ازاں حزب المجاہدین کے متعدد اعلیٰ کمانڈروں کو مختلف آپریشنوں میں ہلاک کیا گیا۔ جمعرات کو پاکستان کے معروف روزنامہ ’دی نیوز‘ نے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں مقیم شدت پسند گروپوں کے بارے میں لکھا تھا کہ لشکر طیبہ اور حزب المجاہدین نے کشمیر پالیسی پر نظرثانی کا فیصلہ کرلیا ہے۔ واضح رہے کہ دونوں تنظیموں کی اب تک کی پالیسی یہ تھی کہ مسئلہ کشمیر کو مسلح مزاحمت کے ذریعہ حل کیا جاسکتا ہے۔ | اسی بارے میں کشمیر2008:تشدد، عدم تشدد اور تبدیلی31 December, 2008 | انڈیا جموں: فوجی آپریشن جاری03 January, 2009 | انڈیا عمرعبداللہ نے وزیر اعلٰی کا حلف اٹھالیا05 January, 2009 | انڈیا جموں: آپریشن ختم، شدت پسند فرار09 January, 2009 | انڈیا سرکردہ’ شدت پسند کمانڈر‘ گرفتار14 January, 2009 | انڈیا ’غیر ضروری بیان کی ضرورت نہیں‘ 15 January, 2009 | انڈیا جموں:مبینہ خودکش بمبار گرفتار23 December, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||