BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 January, 2009, 11:12 GMT 16:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عمرعبداللہ نے وزیر اعلٰی کا حلف اٹھالیا
 عمر عبداللہ
عمر عبداللہ ریاست کے سب سے کم عمر کے وزیر اعلی ہیں
نیشنل کانفرنس کے لیڈر عمر عبداللہ نےجموں و کشمیر کے نئے وزیراعلٰی کے عہدے کا حلف اٹھالیا ہے۔

عمر عبداللہ نیشنل کانفرنس اور کانگریس پارٹی کی مخلوت حکومت کی کمان سنبھالیں گے۔

کانگریس پارٹی کے لیڈر تارا چند نے ڈپٹی وزیراعلی کے عہدے کا حلف اٹھایا ہے۔

عمرعبداللہ کی حلف برداری کا پروگرام جموں یونیورسٹی کے زورآور اسٹیڈیم میں منعقد کیا گیا تھا۔اس موقع پر کانگریس پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی کے علاوہ وزیر داخلہ پرنب مکھرجی سیمت کئی اہم سیاسی لیڈر موجود تھے۔

جموں پہنچنے پر عمر عبداللہ نے کہاکہ ’مجھے پورا یقین ہے کہ میں ریاست کی ترقی کے لیے کام کروں گا اور لوگوں کی امیدوں پر کھرا اتروں گا۔‘

گزشتہ ماہ جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات میں نیشنل کانفرنس نے سب سے زیادہ سیٹیں جیتی تھیں۔ نیشنل کانفرنس کو 28 سیٹیں، پی ڈی پی کو 21، کانگریس کو 17 جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو 11 اور پینتھرس پارٹی کو تین سیٹیں ملی تھیں۔

ریاست میں حکومت بنانے کے لیے 44 سییٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ انتخابات کے بعد نیشنل کانفرنس اور کانگریس میں مخلوت حکومت قائم کرنے پر اتفاق ہوا تھا۔

عمر عبداللہ ریاست کے اب تک کے سب سے کم عمر کے وزیراعلٰی ہیں۔ وزیر اعلی کے عہدے کے لیے ان کے والد اور نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ نے ان کا نام پارٹی کو تجویز کیا تھا۔ جس پر بعد میں ریاست میں ان کی اتحادی کانگریس نے بھی مہر لگادی تھی۔

سینتیس سالہ عمر عبداللہ نے ابتدائی تعلیم سرینگر کے معروف عیسائی مشنری سکول ’برن ہال‘ سے حاصل کی ہے۔ بعد ازاں انہوں نے ہندوستانی صوبہ ہماچل پردیش کے دارالحکومت شملہ اور امریکہ کے تعلیمی اداروں سے بھی پیشہ ورانہ تربیت حاصل کی۔ مسٹر عمر صوبے کی سیاسی تاریخ میں سب سے کم عمر وزیراعلیٰ ہونگے۔

واضح رہے کانگریس اور نیشنل کانفرنس اکیس سال بعد ایک بار پھر صوبے میں مخلوط حکومت بنا رہے ہیں۔ اس سے قبل اُنیس سو ستاسی میں دونوں نے فاروق عبداللہ کی قیادت میں مخلوط حکومت کی بُنیاد ڈالی تھی۔ تاہم اس دوران افغانستان سے سابق سوویت یونین کا انخلا ہوا اور کشمیر میں شورش برپا ہوئی۔ فاروق عبدللہ مستعفی ہوکر بیرون ملک چلے گئے اور صوبے میں قریب آٹھ سال تک گورنر راج نافذ رہا۔

کشمیر انتخاباتکشمیر انتخابات
پہلے دور میں کس کی جیت ہوئی؟
شکیل احمداخوان یا ’بدنام‘محلہ
عسکریت پسندی سے فوج کی جاسوسی تک
 کشمیری ووٹرووٹ بھی آزادی بھی
کشمیری انتخابات، ووٹ بھی چاہیے اور آزادی بھی
کشمیر پولنگبدلا بدلا کشمیر
کیا کشمیر کی سیاسی تاریخ میں یہ نیا موڑ ہے
شیخ عبداللہکشمیر انتخابات
کب اور کیسے – ایک تاریخی منظر
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد