جموں:مبینہ خودکش بمبار گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیر اتنظام کشمیر کے جموں علاقے میں پولیس کا کہنا ہے کہ جموں کے ایک ہوٹل سے اس نے ایک پاکستانی فوجی اور شدت پسند تنظيم جیش محمد کے تین کارکنوں کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ افراد شہر میں خودکش حملے اور سلسہ وارانہ دھماکے کرنے کے مقصد سے آئے تھے۔ ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کلدیپ کھوڈا نے صحافیوں کو بتایا کہ شدت پسندوں کے منصوبے کو عمل میں لانے میں اس لیے دیر ہوگئی کیونکہ ایک کشمیری شخص انہیں اسلحہ فراہم کرنے والے تھا جو وقت پر نہیں آ پایا۔ پولیس کے مطابق کشمیری شخص انہیں دھماکہ خیز مواد سے لیس گاڑی بھی فراہم کرنےوالا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ایک شدت پسند نے تفتیش کے دوران بتایا ہے کہ ان افراد کی ایسی تربیت ہوئی ہے جس سے وہ دھماکہ خیز مواد سے لیس گاڑی کو نشانے پر مار سکتے ہیں۔ گرفتار کیے گئے افراد کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے پولیس کا کہنا تھا کہ تینوں افراد کا تعلق پاکستان سے ہے اور ان میں سے ایک فرید نامی شخص کا تعلق پاکستانی فوج کے 10 آزاد کشمیر رجمنٹ سے ہے۔ فرید کا تعلق پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے بھیمبار علاقے سے ہے۔ پاکستانی فوج میں شامل ہونے سے پہلے فرید شدت پسند تنظیم حرکت الجہادی اسلامی سے منسلک تھا۔ گرفتار کیے گئے دو دیگر افراد کی پہچان محمد عبداللہ اور محمد عمران کے طور پر ہوئی ہے۔ محمد عبداللہ کا تعلق پاکستان کے صوبہ سرحد سے ہے۔ جبکہ محمد عمران کا تعلق پاکستان کے بھاولپور علاقے سے ہے۔ ان دونوں نے جموں کے سمراٹ ہوٹل میں 21 دسمبر کوفرضی نام اکھیلیش پرساد اور اندر پرکاش سے ہوٹل کی بکنگ کرائی تھی۔پولیس کے مطابق دونوں کی تربیت جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کے بھائی مفتی عبدالرؤف کے ماتحت ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق عبدالرؤف نے ان افراد کے جعلی پاسپورٹ اور ویزا کا بندوبست کیا تھا۔ یہ افراد بنگلہ دیش کے راستے 15 دسمبر کو بھارت داخل ہوئے اور 18 دسمبر کو کولکاتہ پہنچے اور ٹرین کے ذریعے 20 دسمبر کوجموں پہنچے اور سمراٹ ہوٹل منتفل ہونے سے پہلے ریلوے سٹیشن کے قریب ایک ہوٹل میں ٹھہرے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے گرفتاری کے وقت کولکاتہ کا گائیڈ ان کے ساتھ نہیں تھا۔ پولیس کو اسکی تلاش ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ایک کشمیری شخص انہیں اسلحہ فراہم کرنے والا تھا تاکہ ممبئی حملوں کے طرز پر وہ حملے کرسکیں لیکن سرینگر اور جموں ہائی وے کے بند ہونے کی وجہ سے ان تک اسلحہ نہیں پہنچ پایا۔ | اسی بارے میں ’کشمیری انتخاب میں حصہ نہ لیں‘27 October, 2008 | انڈیا کشمیریوں نے ووٹ کیوں ڈالا ؟ 17 November, 2008 | انڈیا ووٹ پڑے تو؟22 November, 2008 | انڈیا پینسٹھ فیصد سے زیادہ پولنگ23 November, 2008 | انڈیا ’ہم دل سے ووٹ نہیں ڈالتے‘30 November, 2008 | انڈیا کشمیر: الیکشن کا چوتھا مرحلہ07 December, 2008 | انڈیا کشمیر: پانچویں مرحلے کی ووٹنگ13 December, 2008 | انڈیا کشمیر میں چھٹے مرحلے کی ووٹنگ17 December, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||