ریاض مسرور بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر |  |
 | | | علیحدگی پسندوں نےاس دن کو ’یوم سیاہ‘ کے طور منانے کا اعلان کیا ہے |
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں بھارتی یوم جمہوریہ سے قبل بعض پُرتشدد واقعات کے بعد سرینگراوردیگر بڑے قصبوں میں فوج ، نیم فوجی دستوں اور پولیس کو مزید چوکس کردیا گیا ہے۔ علیحدگی پسندوں نے پہلے ہی اس دن کو ’یوم سیاہ‘ کے طور منانے کا اعلان کیا ہے اور لوگوں سے عام ہڑتال کرنے کے لیے کہا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے بڑی تقریب صوبے کے سرمائی دارالحکومت جموں میں ہوگی جہاں مولانا آزاد سٹیڈیم میں صوبائی گورنر این این ووہرا پریڈ کا معائنہ کریں گے اور مارچ پاسٹ پر سلامی لیں گے۔ جموں میں مولانا آزاد سٹیدیم کے گردونواح میں پولیس اور نیم فوجی عملے کی اضافی نفری کو تعینات کیا گیا ہے۔ تاہم سرینگر کے بخشی سٹیڈیم کو چاروں طرف سے پولیس اور نیم فوجی عملے نے گھیر لیا ہے، اور اتوار شام سے ہی وہاں جانے والے تقریباً تمام راستوں کو سیل کردیا گیا۔ واضح رہےبئشی سٹیڈیم میں صوبائی وزیر علی محمد ساگر 26 جنوری کو پریڈ کی سلامی لیں گے۔ پولیس کے مطابق چوبیس اور پچیس جنوری کوجموں خطے اور کشمیر میں الگ الگ تصادموں کے دوران کم از کم چھ شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔ |