قادرخان، اسلامی تعلیمات پر ریسرچ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آپ بالی وڈ اداکار اور مکالمہ نویس قادر خان کو فلموں میں ایک کامیڈین یا ایک شفیق باپ کے کردار میں دیکھتے رہے ہیں لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات پر ریسرچ کررہے ہیں اور ایک اوپن یونیورسٹی قائم کرنے جارہے ہیں؟ کسے پتہ تھا کہ قادر خان جنہوں نے 700 سے زائد فلموں میں اداکاری کی اور مکالمے لکھے وہ کبھی اسلامیات پر ریسرچ بھی کریں گے؟ قادرخان کی شخصیت کا یہ پہلو شاید ابھی دنیا کے سامنے کھل کر نہیں آیا ہے۔ لوگ انہیں آج بھی ایک ہمہ جہت فنکار کے طور پر جانتے ہیں۔ کیونکہ وہ فلموں میں کبھی ویلن بنے تو کبھی کامیڈین، کبھی شفقت کرنے والے باپ کا کردار نبھایا تو کبھی ایک عیاش مرد اور بدعنوان سیاستداں۔ ان کے با معنی مکالموں پر ہال تالیوں سے گونج جاتے ہیں۔ لیکن وہی قادر خان آج دنیا کو قرآن کی تعلیمات اور خصوصی طور پر مسلمانوں کو عربی زبان سمجھانے اور دنیا کی ہر زبان میں اس کی ڈکشنری تیار کرنے کے لئےگزشتہ دس برسوں سے ریسرچ کر رہے ہیں۔ ن کی شخصیت کے اس پہلو کو سمجھنے اور ان کے اس ریسرچ ورک کی تفصیلات جاننے کے لئے بی بی سی اردو ڈاٹ کام نے ان سے ملاقات کی۔ ممبئی کے علاقے سانتاکروز میں اپنے دفتر میں اسلامی، دین و فقہ جیسی کتابوں سے اٹی پڑی کتابوں میں گھرے قادر خان روزانہ دس سے بارہ گھنٹے کام کرتے ہیں۔ قادر خان اس وقت لوگوں کو عربی زبان سکھانے، اس کے قواعد، اس کا صحیح تلفظ ادا کرنے پر کام کر رہے ہیں۔ اس کے لئے وہ کتابیں لکھ رہے ہیں۔ پہلے وہ اردو، ہندی، انگریزی زبانوں میں کتاب لکھنے کا کام مکمل کریں گے پھر اسے دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ کریں گے۔ قادرخان کہتے ہیں کہ چونکہ یہ ان کا خواب تھا، اس لئے فلموں میں اداکاری کرنے کے دوران ہی انہوں نے حیدرآباد کی عثمانیہ یونیورسٹی سے عربی زبان میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ عربی کی ان کتابوں کی تکمیل کے بعد قادر خان پہلے ممبئی سے دور پونے میں اسکول قائم کریں گے جہاں ابتدائی تعلیم کے بعد اس کا ڈپلومہ اور ڈگری کورس ہو گا۔ رفتہ رفتہ یہ اسکول انڈیا سے باہر دبئی، لندن، کینیڈا میں قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس کے بعد اسلامی تعلیمات کے ساتھ ایک اوپن یونیورسٹی قائم کرنا بھی ان کے پروجیکٹ میں شامل ہے۔ اسکول قائم کرنے سے پہلے وہ کتابیں مکمل کرنا چاہتے ہیں جن میں عربی زبان کی گائیڈ سمیت ایک سو پچاس کتابیں ہیں۔ آخرعربی زبان سکھانے اور اسلامی تعلیمات عام کرنے کا خیال ان کے دل میں کیوں آیا؟ اس کا جواب تھا کہ ان کے والد عبدالرحمن جو عربی کے عالم تھے کہا کرتے تھے کہ ’تم چاہے جہاں کہیں چلے جاؤ فلم کرو یا تھیئٹر، ایک دن تمہیں لوٹ کر تعلیم اور مذہب کی طرف ہی آنا ہے اور ان کا یہ قول پورا ہوا۔’ قادرخان کے مطابق ’کسی بھی ملک کا قانون جاننے کے لئے اس ملک کی زبان میں اس کے قانون کی کتابیں پڑھنا لازمی ہے، اس لئے قرآن پاک کو سمجھنے کے لئے عربی زبان کا جاننا ضروری ہے۔’
قادرخان کے نزدیک قران اور حدیث یہ دونوں کتابیں انسانی زندگی کی مکمل ترجمان ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ آج کا دور مسلمانوں پر سب سے برا دور کہا جا سکتا ہے۔ انڈیا میں آج مسلمان غریب ہیں، اس لئے اس کی بڑی تعداد ان پڑھ ہی نہیں، جہالت کے دور سے گزر رہی ہے۔ اسے گھر میں سکون نہیں۔ چند لوگوں کی وجہ سے پوری مسلم قوم کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ بم دھماکوں کے خون کے چھینٹے عام مسلمانوں کے دامن پر پڑے ہیں۔ لیکن کیا آج کی نئی نسل عربی کی تعلیم حاصل کرے گی اور ان کا یہ پروجیکٹ کتنا مقبول ہو گا؟ لیکن قادرخان پراعتماد ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یہ میں اپنے انداز میں ان تک لے جاؤں گا اور مجھے یقین ہے کہ یہ پروجیکٹ کامیاب ہو گا۔’ دنیا بھرمیں اسلام اور اس کی تعلیمات کے تئیں ایک احساس بیداری پیدا ہوا ہے اور ایسے میں ان کی لکھی کتابیں، بنائے گئے کیسیٹ اور اوپن یونیورسٹی مسلم اور غیرمسلم دونوں کی توجہ کا مرکز بنے گی۔ لوگ بذات خود قرآن کو آسان انداز میں سمجھنے کے قابل ہوجائیں گے۔ فلمی دنیا میں ان کا کوئی رول ماڈل نہیں ہے لیکن وہ اپنی زندگی کا رول ماڈل اپنے استاد سید شہاب الدین دسنوی کو مانتے ہیں جنہوں نے ان کی ہی نہیں، ان سے تعلیم حاصل کرنے والے ایسے کئی طلباء کی زندگی سنوار دی جن میں شہنشاہ جذبات دلیپ کمار بھی شامل ہیں۔ قادرخان کا رجحان ہمیشہ سے مذہب کی طرف رہا اس لئے وہ فلم کی شوٹنگ کے دوران سیٹ پر بھی نماز پڑھتے دیکھے گئے۔ انہیں ان کی فلمی کرئیر میں تین فلم فیئر ایوارڈ مل چکے ہیں اور درجنوں دوسرے ایوارڈ۔ ان کے تین بیٹے ہیں: قدوس، سرفراز اورشاہنواز۔ سرفراز نے فلم ’تیرے نام میں’ سلمان خان کا دوست بن کر فلمی دنیا میں قدم رکھ دیا لیکن شاہنواز ابھی دو نئی فلموں کے ساتھ فلمی دنیا میں قدم رکھ رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں نئے رجحانات اور بدلتے رشتوں کی فلموں کا سال31 December, 2005 | فن فنکار بالی وڈ: پرانے فنکار بیگانگی کا شکار04 January, 2006 | فن فنکار بولی وڈ اب پاکستانی ٹی وی پر 06 January, 2006 | فن فنکار لالی وڈ: اور پھرٹی وی آگیا!19 March, 2006 | فن فنکار سپر اسٹار امیتابھ بچن دوبارہ بیمار 26 March, 2006 | فن فنکار 1979 فلمی صنعت کا تاریخ ساز سال31 March, 2006 | فن فنکار فلم تاج محل اٹھائیس اپریل سے16 April, 2006 | فن فنکار مغل اعظم کا لاہور میں پریمئر شو23 April, 2006 | فن فنکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||