صدر مشرف پر فلم، انڈین ڈائریکشن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی فلمساز زاہد باصر پاکستان کے صدر جنرل پوریز مشرف کی زندگی پر ایک فلم بنانا چاہتے ہیں لیکن اس کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس فلم کی ہدایت کے لئے انہوں نے قومی ایوارڈ یافتہ انڈین ڈائرکٹر اجول چیٹرجی کو پیشکش کی ہے۔ اجول چیٹرجی نے زاہد کی جانب سے اس پیشکش کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں خوشی اس بات کی ہے کہ پاکستان کے صدر کی زندگی پر فلم بنانے کے لئے انہیں منتخب کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’زاہد نے انہیں دلی بلایا تھا اور اس سلسلے میں ممبئی میں ان سے ملاقات بھی کی تھی‘۔ اجول نے خوشی ظاہر کی کہ انہیں پاکستان کے صدر کی زندگی پر فلم بنانے کا موقع مل رہا ہے لیکن ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ یہ موضوع بہت وسیع ہے اور اس کے لئے کافی ریسرچ کی ضرورت ہے۔ اجول منفرد خیالات کے ہدایت کار ہیں اس لئے انہوں نے اب تک جتنی فلمیں بنائی ہیں وہ عام موضوع سے ہٹ کر رہی ہیں۔ جیسا کہ Escape from Taliban اور اب ’اٹھان‘ جو دلی کی ماڈل جیسیکا لال کے متنازعہ قتل پر بنائی گئی ہے۔ اجول آزاد کشمیر اور حب الوطنی جیسے موضوع پر بھی فلم بنا رہے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ اسی لئے زاہد نے ان سے رابطہ کیا ہے؟ اس پر اجول کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں پتا لیکن شاید کسی نے انہیں میرے بارے میں بتایا ہے۔
اجول کی بیوی ساگریکا نے جو عالمی سیاست پر شکاگو یونیورسٹی میں ریسرچ کر رہی ہیں‘ اب تک صدر پرویز مشرف پر کافی ریسرچ کی ہے۔ ساگریکا کا کہنا ہے کہ ان کی ریسرچ شاید اس فلم میں کام آئے۔ اجول کے مطابق انہوں نے زاہد سے فلم کی ہدایت دینے کا وعدہ ضرور کیا ہے لیکن ساتھ ہی مہلت بھی طلب کی ہے۔ اجول کے مطابق یہ ایک انتہائی حساس موضوع ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ وہ ایسی فلم بنائیں جس سے دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہوں اور آپس میں محبت بڑھے۔ اجول کو افسوس ہے کہ دونوں ممالک میں جب بھی تعلقات بہتر ہونے لگتے ہیں تو کچھ نہ کچھ انہونی ہو جاتی ہے اس لئے وہ چاہتے ہیں کہ اس فلم میں وہ کچھ ایسا دکھائیں کہ جس کے ذریعے محبت کا پیغام پہنچے۔ فلم اردو اور انگریزی میں ہوگی اور اس کی شوٹنگ پاکستان کے علاوہ انڈیا میں بھی ہو گی۔ اجول نے بتایا کہ زاہد نے فلم کا اسکرپٹ اور مشرف پر ریسرچ ان کے حوالے کی ہے۔ اس سوال پر کہ کیا اسکرپٹ میں کرگل جنگ اور کشمیر جیسے معاملات بھی شامل ہوں گے؟ تو جواب میں اجول نے کہا کہ ’ہاں اس کے بغیر تو فلم شاید مکمل ہی نہ ہو اور چونکہ یہ بہت حساس اور متنازعہ معاملات ہیں اسی لئے انہوں نے زاہد سے کچھ وقت طلب کیا ہے‘۔ | اسی بارے میں افغان اور بالی وڈ کا اشتراک 26 September, 2006 | فن فنکار ’عشق دا وارث‘ برطانیہ میں25 September, 2006 | فن فنکار ’رنگ دے بسنتی ایک خاص فلم ہے‘26 September, 2006 | فن فنکار ہر لمحہ ایک لطف: لتا منگیشکر28 September, 2006 | فن فنکار ٹورونٹو: سکھوں کا فلمی میلہ29 September, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||