’عشق دا وارث‘ برطانیہ میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستانی پنجاب میں وارث شاہ کی زندگی پر بنی فِلم ’وارث: عشق دا وارث‘ جمعے کے روز برطانیہ میں ریلیز ہو رہی ہے۔ مبصرین نے کہا کہ اب تک وارث شاہ کی زندگی کو فِلم بند کرنے کی کسی بڑی کاوش کا ذکر نہیں کیا جا سکتا اور یہ فِلم شاید ایسی پہلی کوشش ہے۔ ’ہیر رانجھا‘ کی داستان کو شہرت بخشنے والے پنجاب کے صوفی شاعر وارث شاہ کے بارے میں اس فِلم کی کہانی سورج سانم نے لکھی ہے۔ فِلم کی ہدایات منوج پنج نے دی ہیں اور مرکزی کردار گرداس مان، جوہی چاولہ، دویا دتا، مکیش رشی، سشنت سنگھ اور گُرکیرتن ادا کر رہے ہیں۔ منوج پنج نے فِلم کا تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ ’وارث شاہ: عشق دا وارث‘ عظیم بزرگ شاعر کی زندگی کی عکاسی کرنے کی ایک عاجزانہ کوشش ہے۔ انہوں نے کہ فِلم میں وارث شاہ کی زندگی اور وہ حالات دکھائے ہیں جن میں انہوں نے ’ہیر رانجھا‘ لکھی تھی۔ پنج نے کہا کہ فِلم میں دکھایا گیا ہے کہ کیسے وارث شاہ کی زندگی کے واقعات کی عکاسی ’ہیر وارث شاہ‘ میں ہوتی ہے۔ فلم سازوں نے کہا کہ وارث شاہ نے اس زمانے میں موسیقی کو مقبول کیا جب مغلیہ سلطنت کے آخری دور میں حکمران اس کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ فلم سازوں کا کہنا ہے کہ فِلم کے لیئے ضروری تھا کہ ایسا شہر بسایا جائے جو اٹھارویں صدی کا منظر پیش کرتا ہو۔ اس کے لیئے پنجاب کے ضلع روپ نگر کو چنا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ سیٹ کے لیئے اصل درخت لگائے گئے اور بغص اوقات سیٹ دیکھنے کے لیئے آنے والے وہاں بنی مسجد میں داخل ہونے سے پہلے اپنے جوتے بھی اتار دیتے تھے۔ توقع کی جا رہی کہ فِلم پاکستانی پنجاب کے باسیوں میں بھی مقبول ہوگی جہاں سے وارث شاہ کا تعلق تھا۔ | اسی بارے میں بلھے شاہ اساں مرنا ناہیں26 August, 2004 | قلم اور کالم ’دِل اپنا پنجابی‘ بازی لے گئی24 September, 2006 | فن فنکار فلم لڑکی پنجابن، سلاخیں مؤخر27 September, 2003 | فن فنکار لگے رہو رام گوپال ورما23 September, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||