ایشیا امریکی وزیر خارجہ کےایجنڈےپر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلِنٹن نے کہا ہے کہ امریکہ ایشیائی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات میں وسعت دینا چاہتا ہے۔ اتوار سے شروع ہونے والے ایشیائی ممالک کے دورے سے قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ہلیری کلِنٹن نے کہا کہ شمالی کوریا کا ایٹمی پروگرام، عالمی اقتصادی بحران اور دنیا میں ماحولیاتی تبدیلی ان کے ایجنڈے پر ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ نے شمالی کوریا کو کسی ’اشتعال انگیز کارروائی‘ کے خلاف وارننگ دی لیکن یہ بھی کہا کہ اگر وہ اپنا ایٹمی پروگرام ترک کردے تو اس کے لیے مالی مراعات فراہم کی جائیں گیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایشیائی ممالک سے اپنے تعلقات مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ ہیلری کلِنٹن جاپان، چین، جنوبی کوریا اور انڈونیشیا کا دورہ کریں گی۔ واشنگٹن میں بی بی سی کی نامہ نگار کِم غطاس کا کہنا ہے کہ ہلیری کلِنٹن نے اپنے دورے کے لیے جن ممالک کا انتخاب کیا ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ اس خطے میں امریکہ کے مختلف نوعیت کے تعلقات ہیں۔ ہلیری کلِنٹن نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکہ ایک ایسی طاقت نہیں ہے جس کے تعلقات صرف یورپ سے ہیں بلکہ وہ ایشیا پیسِفک میں بھی اہم طاقت ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ ایشیا پیسِفک میں تعلقات اور مواقع پیدا کرنا چاہتا ہے جو امریکی اقدار کے موافق ہوں اور امریکہ کے قومی سلامتی مفادات میں ہوں۔ امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اوباما انتظامیہ کے تحت امریکہ اس بات کا خواہش مند ہے کہ وہ اپنے ہم نوا ممالک کے ساتھ مل کر ان مسائل کا حل کریں جن کا سبھی ممالک کو سامنا ہے۔ ہلیری کلِنٹن کے خیال میں ماحولیاتی تبدیلی، ایٹمی ہتھیاروں کا پھیلاؤ اور بیماریوں کی روک تھام ایسے خطرات ہیں جن کا تمام ممالک کو سامنا ہے۔ ہماری نامہ نگار کِم غطاس کا کہنا ہے کہ امریکہ اور چین کے تعلقات ماضی میں اقتصادی معاملات پر مرکوز رہے ہیں اور اب امریکی وزارت خارجہ ان تعلقات کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ ہماری نامہ نگار کے مطابق گزشتہ ساٹھ برسوں میں یہ پہلی بار ہے کہ ایک امریکی وزیر خارجہ اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنا پہلا دورہ ایشیائی ممالک کا کر رہی ہیں۔ اس سے قبل نیو یارک میں واقع ایشیا سوسائٹی سے اپنے ایک اہم خطاب میں ہیلری کلنٹن نے شمالی کوریا سے اپیل کی کہ وہ کوئی اشتعال انگیز کارروائی نہ کرے جس سے ایٹمی تنازعے پر مذاکرات کی نفی ہوتی ہو۔ امریکی وزیر خارجہ ایسے وقت ایشیائی ممالک کا دورہ کرنے والی ہیں جب علاقائی ذرائع ابلاغ اس بات کی قیاس آرائی کر رہے ہیں کہ شمالی کوریا طویل فاصلے تک مار کرنے والے ایک میزائل کا تجربہ کرنے والا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر چھ فریقی مذاکرات میں شامل ممالک کو مشترکہ طور پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ چھ فریقی مذاکرات میں امریکہ، چین، جاپان، روس، شمالی کوریا اور جنوبی کوریا شامل ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ شمال کوریا کو اپنا ایٹمی پروگرام ترک کرنے کے وعدے پر قائم رہنا ہوگا جس کے جواب میں اسے اقتصادی اور سفارتی مراعات حاصل ہوں گیں۔ ان کا کہنا تھا اگر شمالی کوریا صحیح معنوں میں ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق اپنا پروگرام ترک کرنے کو تیار ہے تو صدر باراک اوبامہ کی انتظامیہ امریکہ اور شمالی کوریا کے تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے تیار ہوگی۔ ہلیری کلنٹن نے کہا کہ امریکہ اس بات کے لیے تیار ہے کہ خطے میں جنگ بندی کے معاہدوں کی جگہ ایک مستقل امن معاہدہ طے پائے اور اس صورت میں شمالی کوریا کے عوام کے لیے اقتصادی اور توانائی کی ضروریات پوری کی جائیں گیں۔ شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام پر ہونے والے چھ فریقی مذاکرات مہینوں سے تعطل کا شکار ہیں۔ جبکہ اس بات پر فکرمند ہے کہ ایٹمی معاملات سے متعلق شمالی کوریا کی ماضی کی کارروائیوں کا کیسے پتہ لگایا جائے۔ لہذا، امریکہ چاہتا ہے کہ شمالی کوریا اپنے ایٹمی ہتھیاروں کی مکمل تفصیلات فراہم کرے۔ جبکہ شمالی کوریا کی کمیونِسٹ حکومت کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ سن دو ہزار میں کیے جانے والے سمجھوتے کے تحت اسے جس اقتصادی امداد کا وعدہ کیا گیا تھا وہ نہیں مل رہی ہے۔ |
اسی بارے میں ’ایٹمی بجلی گھر مہینوں بند رہے گا‘10 August, 2007 | آس پاس چینی معیشت کو بھی خطرہ20 October, 2008 | آس پاس شمالی، جنوبی کوریا کی تلخیاں گہری03 August, 2008 | آس پاس شمالی کوریائی رہنما منظر عام پر05 October, 2008 | آس پاس کوریا، غیر ملکی قرضوں کی ضمانت19 October, 2008 | آس پاس شمالی کوریا، ’تمام معاہدے ختم‘30 January, 2009 | آس پاس ’دنیا پر پاکستان کا اثر منفی‘06 February, 2009 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||