ستمبر سےچوتھی بار شرحِ سود کم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین میں مرکزی بینک نے ستمبر کے وسط سے اب تک چوتھی مرتبہ شرح سود کو کم کیا ہے۔ شرحِ سود میں تازہ ترین کمی ایک فیصد سے زیادہ کی ہے جس کی توقع نہیں کی جا رہی تھی۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ مرکزی بینک کے اس اقدام سے یہ پیغام واضح ہے کہ چینی قیادت ملک کو درپیش موجود معاشی صورتِ حال کو سنگین سمجھتی ہے۔ شہنگائی سے بی بی سی کے نامہ نگار کرس ہوگ نے اپنے مراسلے میں لکھا ہے کہ ایک سال پہلے پالیسی ساز افراطِ زر کو کم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے تھے۔ لیکن اب معاشی بحران کی وجہ سے ان کی توجہ افراطِ زر میں کمی کی بجائے ترقی کی شرح بڑھانے کی طرف ہو گئی ہے۔ عام طور پر خیال تھا کہ ملک میں سود کی شرح میں کمی کی جائے گی لیکن شاید ہی کسی نے سوچا ہو کہ یہ کمی اتنی زیادہ ہوگی۔ مرکزی بینک نے قرضوں اور بچت کھاتوں کی شرح بھی کم کر کے ایک اعشاریہ صفر آٹھ فیصد کر دی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اب ایک سال کے لیے قرض پر سود کی شرح پانچ اعشاریہ چھ فیصد سے ذرا سی کم ہوگی۔ بچت کھاتوں کے ریٹ بھی کم ہو کر دو اعشاریہ پانچ فیصد سے کچھ اوپر رہ گئے ہیں۔ چین میں ریٹ میں اس طرح کی کمی سنہ انیس سو نوے کے بعد اب دیکھی گئی ہے۔ وہ بچت کھاتے جو بینکوں کو ہر حال میں رکھنے ہیں اسے بھی کم کر دیا گیا ہے۔ اس طرح بینکوں کو یہ آزادی ہوگی کہ وہ کاروبار کے لیے اور افراد کو انفرادی حیثیت میں قرض دے سکتے ہیں۔ چین میں ان اقدامات سے یہ امید کی جا رہی ہے کہ اس سے پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میں ہاؤسنگ مارکیٹ میں جان پڑ جائے گی اور سرمایہ کاری کو فروغ حاصل ہوگا۔ کچھ تجزیہ نگاروں نے خبردار کیا ہے کہ شرح سود میں کمی کوئی زیادہ مؤثر نہیں ہو گی۔ بینکوں کے کھاتہ دار قرض لینے یا سرمایہ کاری سے قبل ملک کی وسیع معاشی صورتِ حال پر نگاہ ڈالنا چاہیں گے۔ |
اسی بارے میں چین کےغریب دیہاتی کی ترقی 05 March, 2006 | آس پاس چین میں پانی کی قلت01 June, 2006 | آس پاس چین: ماحولیاتی ناکامی کا اقرار28 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||