توقعات کے برعکس شمالی کوریا کے 60 برس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی کوریا اگر اپنی ساٹھویں سالگرہ پر کسی بات پر خوشی منا سکتا ہے تو وہ اس کی اپنی بقاء ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں ان غیر ملکیوں مبصرین کے تبصروں کو غلط ثابت کیا گیا ہے جنہوں نے شمالی کویا کے خاتمے کی پیش گوئی کی تھی۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ دیگر کمیونسٹ ممالک یا تو جھکا دیے گئے ہیں یا پھر توڑ دیے گئے ہیں۔ چین اور ویتنام جیسے ممالک رشتے جوڑنے پر مجبور ہوئے اور اپنی منڈیوں کو پوری دنیا کے لیے کھول دیا۔ جبکہ کیوبا بظاہر اصلاحات کے ذریعے اس سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ لیکن شمالی کوریا منظم طریقے سے دنیا کے سب سے پر اسرار کیمونسٹ ملک کے طور پر قائم ہے۔ لیکن اگر ایک معروضی نظریے کی بات کريں تواس ملک کے لیے یہ ایک اقتصادی آفت بھی ہے۔ تو یہاں یہ سوال کیا جانا لازمی ہے کہ شمالی کوریا جو اپنی ساٹھویں سالگرہ کے لیے اس وقت اب تک کی سب سے بڑی تقریب منعقد کرنے جا رہا ہے اس نے کس طرح اب تک اپنے وجود کو قائم رکھا۔ آج منقسم کوریا کے دو حصوں کے درمیان خلیج بظاہر تو بے حد سادہ نظر آتی ہے۔ جنوبی کوریا ایک پھلتی پھولتی جمہوریت ہے جس کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور جہاں کی بنی ہوئی اعلٰی ٹیکنالوجی سے لیس کاریں دنیا کے کونے کونے میں نظر آتی ہیں۔
وہیں شمالی کوریا میں ایک پارٹی والی حکومت ہے جس کا زرعی نظام انیسويں صدی میں ہی اٹکا ہوا ہے جو اپنے بھوکے لوگوں کو خوراک بھی فراہم نہیں کر سکتا ہے۔ لیکن یہاں ہمیشہ سے ایسی صورتحال نہیں تھی۔ دوسری جنگ عظیم میں اتحادی فورسز کی جانب سے جاپانی مقبوضہ کالونیوں کو شکست دینے کے بعد آج کے دور کے دو جدید کوریا وجود میں آئے۔ سویت یونیئن نے شمالی کوریا کا اقتدار سمبھالا جبکہ امریکہ نے جنوبی کوریا کا۔ وجود میں آنے کے بیس برس تک دونوں ملک بہت حد تک ایک دوسرے کے مخالف نظر آئے۔ سرد جنگ کے دوران دیکھا گیا کہ جنوبی اور شمالی کوریا میں ایک دوسرے سے لڑتے رہے جس میں شمالی کوریا کو چین سے جبکہ جنوبی کوریا کو امریکہ کی فوج سے مدد ملی۔ نوے کی دہائی کی شروعات میں سویت یونین کی جانب سے حمایت واپسی کے بعد شمالی کوریا قحط سالی کی طرف بڑھا جس سے لاکھوں افراد کی جانیں گئیں۔
سیؤل نیشنل یونیورسٹی کے اعزازی پروفسیر پائک ناک چھنگ کے مطابق شمالی کوریا میں امریکہ کے ممکنہ حملے نے شمالی کوریا کے لوگوں کو اقتدار کے ہمنوا رہنے پر مجبور کیا۔ ساٹھویں سالگرہ کے موقع پر کمیونسٹ کابینہ کی جانب سے کہا گیا ’دشمن اگر ملک میں حملے کی کوشش بھی کرے گا تو ہم اس کو سخت سزا دیں گے، فوجی انقلاب آئے گا اور امریکہ کے خلاف جنگ ميں حتمی کامیابی حاصل ہوگی‘۔ سیؤل کوکم یونیورسٹی کے پروفیسر انڈرئی لانکو کا کہنا ہے ’بین الاقوامی طاقتیں شمالی کوریا کے سقوط سے ڈرتی ہیں اس لیے کوئی بھی اس کے سختی سے پیش نہیں آ رہا ہے‘۔ اگر سرحدیں ختم ہوتی ہيں تو اقتصادی عدم مساوات کی مار جھیل رہے شمالی کوریا کے پڑوسیوں کو بھی نئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ساٹھ برس پہلے شمالی کوریا نے اپنی زندگی کی شروعات زمینی اصلاحات، فصل کی پیداوار میں بہتری اور ملازمین کے لیے نئی آزادی کے خواب کے ساتھ کی تھی۔ 1949 میں شمالی کوریا، جنوبی ایشاء کا پہلا ملک بنا جو یہ دعوی کر سکا کہ اس نے ناخواندگی کا خاتمہ کر دیا ہے۔ لیکن اس ساٹھ برس کی عمر میں اسے ایک ایسے ملک کے طور پر جانا جاتا ہے جہاں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالی کی جاتی ہے۔ یہاں لوگوں کو بولنے اور سفر کرنے کی آزادی نہیں، اورغیر ملکی امداد پر، جو زیادہ تر امریکہ سے آتی ہے، منحصر رہتا ہے۔ لیکن مسٹر لانکوؤ سے پوچھا گیا کہ ان برسوں میں جو کچھ بھی ہوا ہے اس کے بعد شمالی کوریا کو جشن منانے کی ضرورت ہے تو ان کا کہنا تھا ’شاید نہیں‘۔ ’شمالی کوریا نے اپنے عوام کو ڈرا کر انہیں عالمی برادری سے دور رکھا ہے اس لیے ملک کی بقاء کے لیے کوئی ضروری نہیں ہے کہ ہم جشن منائیں‘۔ |
اسی بارے میں افغانستان: آٹھ کوریائی مغوی رہا29 August, 2007 | آس پاس مغویوں کو رہا کریں: جنوبی کوریا26 July, 2007 | آس پاس شمالی کوریا کے ری ایکٹر کا معائنہ جلد27 June, 2007 | آس پاس شمالی کوریا پر پابندیاں نافذ14 October, 2006 | آس پاس شمالی کوریا پر پابندیوں کا مسودہ12 October, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||