’ آخرِ کار میں پاس ہو گیا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پانچ برس میں دو سو اکہتر مرتبہ ناکام رہنے کے بعد جنوبی کوریا کے سیو سینگ مون نے ڈرائیونگ کے تحریری امتحان میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ اتنی کڑی محنت اور مستقل مزاجی کے باوجود وہ ابھی بھی گاڑی نہیں چلا سکتے کیونکہ گاڑی چلانے کے لیے ضروری ہے کہ وہ پریکٹیکل امتحان بھی پاس کریں۔ سیو سینگ مون کا کہنا تھا کہ ’ ڈرائیونگ ایک مشکل کام ہے لیکن 271 مرتبہ کوشش کرنے کے بعد میں خوفزدہ نہیں ہوں‘۔ 69 سالہ کاریگر کا کہنا تھا کہ ان کی ناکامی کی بنیادی وجہ ان کی ناخواندگی تھی جس کی بناء پر وہ ڈرائیونگ مینؤل نہیں پڑھ سکتے تھے۔ سیو سینگ مون نے جنوبی کوریا کے ایک اخبار کو بتایا کہ ناخواندہ ہونے کی بنا پر وہ تحریری ٹیسٹ دینے کے قابل نہ تھے اور سنہ 2000 میں زبانی ٹیسٹ کے آغاز کے بعد ہی انہوں نے ٹیسٹ کے لیےدرخواست دی۔ پانچ برس کے دوران سیو سینگ مون نے ڈرائیونگ ٹیسٹ کی فیس کی مد میں ایک ہزار امریکی ڈالر ادا کیے ہیں۔ سیو مون کے ٹیسٹ پاس کرنے پر ڈرائیونگ ٹیسٹ حکام نے بھی خوشی کا اظہار کیا ہے۔ ٹیسٹ سنٹر حکام نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ’ وہ یہاں پانچ برس سے آ رہا ہے اور ہمارے لیے خاندان کا ایک فرد بن چکاہے‘۔ سیو سینگ مون نے اب پریکٹیکل ٹیسٹ پاس کرنے کے لیے ایک ڈرائیونگ سکول میں داخلہ لے لیا ہے۔ ان ک کہنا کہ ’ میں پراعتماد ہوں اور میں نے اپنی بیوی سے یہ مشورہ بھی کر لیا ہے کہ ہم کونسی کار خریدیں گے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||