ویلکم ٹو ڈئیر بورن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈیٹروئیٹ کے ڈاؤن ٹاؤن یا شہر کے مرکزی علاقے سے ذرا سا باہر نکلیں اور جیسے ہی ارد گرد کے گھروں کی حالت خستہ دکھائی دینی شروع ہوجائے اور ٹوٹی پھوٹی دکانوں کے ساتھ کئی بے جان سی گلیاں نظر آئیں تو یہاں آنے والے کو سمجھ لینا چاہئیے کہ یہ ڈئیر بورن کا علاقہ ہے۔ ویلکم ٹو ڈئیر بورن۔ ان خستہ حال دیواروں اور عطر کی خشبو والی چھوٹی چھوٹی دکانوں میں وہ ہزاروں عراقی بھی ملیں گے جو پہلی خلیجی جنگ کے بعد پہلے سعودی عرب کے کیمپوں میں پڑے رہے اور پھر مشی گن کے ایک کونے میں پناہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے اور یہاں ان اردنی اور لبنانی لوگوں سے بھی آپ کا ٹاکرا ہوسکتا ہے جن کی اب دوسری نسل یہاں جوان ہورہی ہے۔ وہ نسل جس کے بچوں کی لمبی لمبی قطاریں سکول کی چھٹی کے بعد یہاں سے وہاں گھومتی آپ کو مسلسل یہ یاد دلاتی ہیں کہ ہجرت انسانی زندگی میں کیا کیا رنگ لاتی ہے۔ گھر سے دور گھر جیسے ماحول میں قہوہ خانوں اور ریستورانتوں میں خاموشی سے بیٹھے ان عرب امریکیوں کے ساتھ باہر سے آئے ہوئے صحافیوں کو بات کرنے میں کتنی بھی دلچسپی کیوں نہ ہو انہیں اپنی خاموشی ہی عزیز ہے۔ اور ہو بھی کیوں نہ۔ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد سے اب ان لوگوں کو اپنے گھر کے باہر ذرا سی غیر معمولی آواز بھی چوکنا کردیتی ہے۔لیکن جو بولنے کی ہمت کرتے ہیں وہ مایوس بھی ہیں اور غصے میں بھی۔ اپنی دکان کے کاؤنٹر پر ایک طرف اپنے تین بھائیوں کی تصویر بڑے فخر سے سجائے اور دوسری طرف امریکی جھنڈا لگائے حسن مہنا اسی مایوسی کا اظہار کرتے ہیں جو یہاں کی بڑی آبادی محسوس کررہی ہے۔ دوسرے کونے میں کھڑے ان کے کزن حسین مہنا شاید ایک لمحے کے لئے اپنے غصے کو روک نہیں سکے۔ غصے اور جذبات سے ہٹ کر یہاں ایسے لوگ بھی ملے جو اپنے سیاسی خیالات اور سماجی فیصلے بہت محنت کے بعد کرتے ہیں۔ انہی لوگوں میں میرا ہمدرد ڈرائیور بھی شامل تھا جسے نہ صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ فلاں اخبار کا ایڈیٹر اب یہ سیاسی لائن کیوں لے رہا ہے بلکہ یہ بھی کہ فلاں ٹی وی چینل پر فلاں ملک میں پابندی کیوں لگائی گئی ہے۔ ویسے تو امریکہ میں لمبے فاصلوں اور ڈرائیونگ کے کلچر کی وجہ سے عموماً ڈرائیور لوگ بہت دلچسپ ہوتے ہی ہیں لیکن ابو نور شاید ابھی تک یہاں ملنے والے لوگوں میں سب سے زیادہ ’جانو‘ شخص ہے۔ اگر ابو نور نے تو اپنے سیاسی فیصلے بہت سوچ سمجھ کے کئے ہیں تو ڈییر بورن سے ذرا سا دور ایک اور شہر سٹرلنگ ہائیٹس میں بھی صورتحال اب بدل رہی ہے جہاں قدرے امیر عرب آباد ہیں اور جہاں عموماً سیاسی انتخاب کاروباری اصولوں پر اور ہمیشہ ری پبلکن پارٹی کی حمایت میں کیا جاتا تھا۔ اردنی نژاد طارق حریش جو اپنی کمپنی میں ٹیری کے نام سے جانے جاتے ہیں، عراق کی جنگ کے بعد سے ری پبلکن پارٹی کے حمایت کرنے سے باغی ہوگئے ہیں باوجود اس کے کہ ڈیموکریٹ پارٹی کاروباری لوگوں پر ٹیکس میں اضافہ کرنا چاہتی ہے۔ مشی گن کی عرب آبادی میں غریب اور امیر کی تقسیم کے علاوہ یہاں رہنے والے ان عیسائی عراقیوں کا ایک مخصوص گروپ جو ہمیشہ سے کٹر ری پبلکن رہا ہے، اس مرتبہ شائد ڈیموکریٹک پارٹی کو ہی سپورٹ کرے۔ امریکہ کی اس وسیع ریاست میں جس میں شہر سے باہر چاروں طرف ایسے پلانٹس کے علاوہ اور کچھ نظر نہیں آتا جہاں تقریباً ہروز سینکڑوں ملازموں کو فارغ کیا جارہا ہے اور بڑی کمپنیاں زیادہ منافع کے لئے سستے ملکوں میں کارخانے لگا رہی ہیں، چار دن گزارنے کے بعد یہی محسوس ہوتا ہے کہ یہ ریاست الیکشن سے اپنی تقدیر کے ساتھ ساتھ ملک کا صدر بدلنے میں بہت دلچسپی رکھتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||