ایران: مشرق کا جنیوا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مجھے بہت اچھی طرح یاد ہے کہ انیس سو چونسٹھ میں جب ابھی میں نے میٹرک کا امتحان بھی نہیں دیا تھا اسکولوں کے درمیان ہونے والے ایک تقریری مقابلے میں تقریر کرتے ہوئے میں نے شاعر مشرق علامہ اقبال کا یہ شعر پڑھا تھا۔ تہران ہو گر عالم مشرق کا جنیوا اس وقت تو مجھے اس شعر کا فلسفیانہ مطلب ہر گز معلوم نہیں تھا اور پھر جب میں پہلی مرتبہ میٹرک کے امتحان کے بعد ایران گیا تھا تو اس وقت بھی عمر ایسی نہیں تھی کہ اقبال کے اس شعر کے تعبیر تلاش کرنے کی کوشش کرتا۔ لیکن ایک تخلیق کار ہونے کے ناطے یہ جستجو ہمیشہ رہی کہ شعر کا پس منظر آخر ہے کیا اور اب جو چند ہفتے قبل کوئی آٹھ روز کے لیے ایران جانے کا موقع ملا تو اسلامی انقلاب اور عراق ایران جنگ کے بعد کے ایران کو دیکھ کر یہ احساس نہایت شدت سے ہوا کہ واقعی اگر ایران مشرق کا جنیوا بن جاتا تو عالمی سیاست اور اس سیاست میں مشرق کا کردار بالکل مختلف ہوتا۔ ایک علمی اور ادبی سیمینار میں شرکت کے لیے ایران سے ایک دعوت اب سے چند ماہ پہلے بھی موصول ہوئی تھی لیکن اس وقت بام میں آنے والے شدید زلزلے کی وجہ سے جانے کا پروگرام ملتوی ہو گیا تھا۔ تا ہم چند ہفتے قبل جون میں ایک بار پھر سفر ایران کا پروگرام طے پایا اور اب کے یہ پروگرام پایۂ تکمیل کو بھی پہنچا۔ لندن میں ایران کے ویزا سیکشن سے اچھی خاصی ریاضت کے بعد ویزا حاصل کرکے میں جب لندن سے براستہ بلجیئم ایران میں تہران کے مہر آباد کے ہوائی اڈے پر اترا تو وہاں فجر کا وقت ہو چکا تھا۔ مہر آباد کا ہوائی اڈہ ایران کا قدیم ترین بین الاقوامی ہوائی اڈہ ہے لیکن اب نہایت جدید اور وسیع ہوائی اڈہ خمینی ایئر پورٹ کے نام سے جلد ہی مکمل ہونے والا ہے۔ ایران جاتے ہوئے میرے ذہن میں ذرائع ابلاغ کی وہ تمام تصاویر تھیں جنہیں دیکھ اور سن کرمیں خود صحافی اور لکھاری کے طور پر موجودہ ایران کا ایک تشخص اپنے ذہن میں بنائے ہوئے تھا جس کو پہلا دھچکا ہوائی اڈے پر اترتے ہی لگا۔ امیگریشن اور کسٹمز کا زیادہ تر عملہ سیاہ رنگ کی چادریں اوڑھے خواتین پر مشتمل تھا جو نہایت تیزی سے کمپیوٹر پر تمام اندراج کر کے مسکراتے ہوئے مسافروں کو پاسپورٹ واپس کر رہی تھیں اور ایران میں خوش آمدید کہہ رہی تھیں۔ اسی قسم کی صورت حال ایئر پورٹ سے باہر نکلتے ہی نظر آئی جہاں کراچی کے ہوائی اڈے کا سا منظر تھا بس فرق اتنا تھا کہ ٹیکسی والے اور کرنسی تبدیل کرنے والے آپ کے کپڑے نہیں پھاڑ رہے تھے اور ہاں ان ٹیکسی چلانے والوں میں ایک بڑی تعداد خواتین ڈرائیوروں کی بھی تھی۔ میں نے ابھی تک یہی سن رکھا تھا کہ ایران میں خواتین کو آزادانہ چلنے پھرنے کی آزادی نہیں ہے اور ان کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں کا سا سلوک کیا جاتا ہے۔
میرے میزبان مجھے لینے کے لیے ذرا تاخیر سے پہنچے تو اس دوران میں نے ہوائی اڈے کے باہر سے ہی کچھ کرنسی تبدیل کرا لی اور جب ایک برطانوی پاؤنڈ کے بارہ سو ایرانی ریال ملےتو یہ فقیر تو جاپان میں چار سالہ قیام کے بعد زندگی میں دوسری مرتبہ خود کو لاکھ پتی تصور کرنے لگا۔ ایران میں سیاحت کے کئی مقامات پر تصاویر اتارنے کی اجازت نہیں ہے اور یہی صورت حال مجھے شام میں اس وقت برداشت کرنی پڑی جب میرے میزبان مجھے ایران کے مرحوم و معزول شہنشاہ رضا شاہ پہلوی کے وہ محلات دکھانے لے گئے جن میں سے کچھ کو عوام کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ ان محلات کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ملک میں موجود نو محلات میں سے صرف ایک محل کے فقط ایک مختصر سے حصے کو دیکھنے کے لیے کوئی تین گھنٹے لگے۔ محل کی سیر کے بعد باغ جمشید کی سیر کی جو نہایت بلندی پر بہت خوبصورت تفریح گاہ ہے جہاں متعدد نوجوان لڑکے لڑکیاں لاہور کے جناح باغ کی طرح ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے مسکراتے ہوئے ڈھلتے سورج کا منظر دیکھ رہے تھے۔ اسی شام وسطی تہران سے کوئی بیس کلو میٹر دور ایران میں انقلابِ اسلامی کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی کا مزار دیکھنے گئے جو کئی ایکڑ کے علاقے میں ہے اور اس کی اہم تر ین بات یہ ہے کہ اس کی تعمیر پر ایرانی حکومت کا ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہوا اور ساری تعمیر ایرانی عوام کے پیسے سے ہوئی ہے۔ اگلے روز نیشاپور کے لیے روانگی تھی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں فیروزے کے پتھر کی کانیں ہیں اور دنیا بھر میں نیشاپور کا فیروزہ بہت مشہور ہے۔ اسی جگہ اہل تشیع کے آٹھویں امام سید علی رضا علیہ السلام کی زیارت اور چشمہ آب حیات ہے جس کا پانی کئی سو سال سے اسی طرح رواں ہے۔ ایک زمانے سے میری خواہش تھی کہ کبھی رباعیات کے امام عمر خیام اور شاہنامے کے خالق فردوسی کے مزار دیکھوں اور اس سفر ایران میں یہ خواہش بھی پوری ہوئی۔ نیشاپور میں عمر خیام کا مزار آج بھی عام سیاحوں کی
ایران کا مقدس شہر قم دنیا بھر میں جانا پہچانا جاتا ہے جہاں سب سے بڑا مزار امام رضا کی بہن معصومہ قم کا ہے۔ قم کی دوسری بڑی اہمیت یہاں کی مذہبی یونیورسٹی ہے جہاں کے فارغ التحصیل مجتہد ، اور آیت اللہ تک ہوتے ہیں۔ قم روانگی سے پہلے میں نے اپنے میزبانوں سے ایران کا قبرستان بہشت زہرا دیکھنے کی خواہش ظاہر کی جس میں ایران عراق جنگ میں ہلاک ہونے والوں اور انقلاب اسلامی اور بعد انقلاب جاں بحق ہونے والوں کی بلا مبالغہ ہزاروں نہیں لاکھوں قبریں ہیں اور ایران نے وطن کے لیے جان دینے والوں کی اکژیت کو ہر شہر کے در و دیوار پر تصاویر کی صورت میں محفوظ کر رکھا ہے۔ تہران میں مجھے تہران یونیورسٹی بھی دیکھنی تھی جو طلبا کی مناسبت سے ملک کی ہر بڑی تحریک کا مرکز رہی ہے۔ ایران میں سب سے بڑی زیارت گاہ مقدس شہر مشہد میں ہے جہاں میں نے تین روز گزارے۔ تہران سے ہوائی جہاز کے ذریعے مشہد کا سفر کوئی ڈیڑھ گھنٹے کا ہے۔ یہاں دنیا بھر کے کونے کونے سے زائرین لاکھوں کی تعداد امام رضا کے روضے کی زیارت کو آتے ہیں اور ہر روز چوبیس گھنٹے زائرین کا ہجوم رہتا ہے۔ امام کا یہ حرم کئی سو ایکڑ میں ہے جس کے متعدد دروازے شہر میں چاروں جانب ہیں اور ان تمام دروازوں کے باہر دکانیں بھی دن رات کھلی رہتی ہیں۔ مشہد میں خریداری اس قدر سستی ہے کہ اسے خواتین کی جنت کہا جا سکتا ہے۔ بس اس سے اندازہ لگا لیں کہ لندن میں جو جوتا بیس پاؤنڈ کا ہے وہ وہاں تین پاؤنڈ کا اور دو سو پاؤنڈ والا تھری پیس سوٹ مشہد میں چالیس پاؤنڈ میں مل جاتا ہے۔ امام رضا علیہ السلام کے حرم میں واقع کئی منزلہ میوزیم ہے جسے دیکھنے کے لیے پورا ایک دن بھی ناکافی ہے۔ مطبوعات کا شعبہ آستانہ قدس رضوی لندن کے برٹش میوزیم سے بھی بڑا ہے جہاں دنیا کی متعدد زبانوں میں کتب موجود ہیں اور شائع بھی ہوتی ہیں۔ ایران کے تمام شہروں خاص طور پر تہران کی سڑکوں پر گاڑیوں کے تعداد اس قدر زیادہ ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے اور ٹیکسیاں لاہور کے تانگوں کی طرح ہیں جن میں مسافر کسی جگہ سے سوار ہو سکتا ہے اور اتر سکتا ہے۔ایران کی متعدد خوبیوں پر اسکی ایک ہی خامی غالب ہے اور وہ سڑکوں پر ٹریفک اور ڈرائیونگ ہے اور یہاں ہر سفر کے بعد ایک نئی زندگی ملنے کا احساس ہوتا ہے۔
طوس میں شاہنامے کے خالق فردوسی کا مزار بھی ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہتا ہے۔ آٹھ روز کے دن رات کی سفر کو دو تین صفحات میں سمونا دریا کو کوزے میں بند کرنا ہے اور میں اس فن سے آشنا نہیں۔دوسرے یہ کہ کوزے میں دریا بند ہوتے صرف سنا ہے دیکھا نہیں ہاں جو دیکھا ہے اسکی روشنی میں شاعر مشرق علامہ اقبال کا یہ شعر سچا لگتا ہے کہ۔ تہران ہو گر عالم مشرق کا جنیوا مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدی، عالمی سیاست نے ایسا ہونے نہیں دیا اور شاید ہونے بھی نہ دے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||