امریکی فوجی کی غیر معمولی کہانی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے سابق فوجی چارلز جنکنز جو1965 میں کوریا میں مقیم فوج سے بھاگ گئے تھے،کئی سال بعد اپنی بیوی سے ملنے کے لیے انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتا پہنچ گئے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ جنکنز نے 1965 میں امریکی فوج سے بھاگ کرر جنوبی کوریا میں کچھ سال بعد ہتومی سوگا نامی لڑکی سے شادی کر لی تھی۔ ہتومی سوگا کو 1978 میں جنوبی کوریا نے جاپان سے اغواء کر لیا تھا اور وہ تب سے جنوبی کوریا میں ہی مقیم تھیں۔ 2000 میں ہتومی سوگا کو جاپان واپس جانے کی اجازت دے دی گئی مگر جنکنز جنوبی کوریا میں ہی رہے۔ ان کا خیال تھا کہ اگر وہ جاپان چلے گئے تو امریکی فوج ان پر فوج کو چھوڑ کر بھاگنے کے الزام میں مقدمہ چلائے گی۔ جنکنز اور سوگا نے جکارتا میں ملنے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ انڈونیشیا اور امریکہ کے درمیان افراد کی حوالگی کا کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ مسٹر جنکنز اور ان کی دو بیٹیاں، اکیس سالہ میکا اور اٹھارہ سالہ بلنڈا، جاپانی حکومت کی طرف سے فراہم کیے گئے ہوائی جہاز میں جنوبی کوریا سے جکارتا پہنچ گئے ہیں۔ مسٹر جنکنز لگ بھگ چالیس سال سے جنوبی کوریا سے باہر نہیں نکلے ہیں اور ان کی بیٹیوں کے لیے یہ باہر کی دنیا کا پہلا سفر ہے۔ جنکنز 1965 میں کوریا میں ایک گشت کے دوران غائب ہو گئے تھے۔ امریکی افواج کا خیال ہے کہ وہ فوج چھوڑ کر بھاگ گئے تھے، مگر ان کے گھر والوں کا خیال ہے کہ انہیں اغواء کر لیا گیا تھا۔ خیال ک یا جاتا ہے کہ اگر مسٹر جنکنز چاہیں تو جنوبی کوریا کے بارے میں اہم باتوں پر روشنی ڈال سکتے ہیں۔ جنوبی کوریا کے باقی دنیا کے ساتھ بہت کم تعلقات ہیں۔ مسٹر جنکنز اور ان کی بیوی کی ملاقات ایک اہم سیاسی اور سفارتی مسئلہ بھی بن گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جاپانی وزیر اعظم جونیچیرو کوئیزومی اس ملاقات کو اپنے سیاسی مقاصد پورے کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ انڈونیشیا جاپان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا چاہتا ہے اور جنوبی کوریا کا مقصد جاپان کے ساتھ 1970-1980 کے دوران اغواء شدا جاپانیوں کا مسئلہ حل کرنا ہے۔ جاپان کے وزیر اعظم نے حال ہی میں جنوبی کوریا کے ساتھ تعلقات بہال کرنے کے لیے اغواء شدا جاپانیوں کے مسئلے کو حل کرنے کی شرط رکھی تھی۔ ہتومی سوگا کو اکتوبر 2002 میں جاپان کے وزیر اعظم کے پیانگینگ کے دورے کے بعد جاپان لوٹ جانے کی اجازت دے دی گئی تھی، مگر جنکنز اور ان کی دو بیٹیاں امریکی افواج کے ڈر کی وجہ سے نہیں گئے تھے۔ مئی میں کوئزومی ایک بار پھر پیانگینگ گئے تھے جہاں ان کی ملاقات جنکنز سے ہوئی تھی۔ اطلاعات ہیں کہ جنکنز اور ہتومی سوگا کی ملاقات کپ ازکم کچھ ہفتوں تک چلے گی۔ ہتومی سوگا نے کہا ہے کہ وہ اپنے خاندان کو جاپان لوٹ آنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کریں گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||