’ کوریا وعدہ پورا کرنے میں ناکام‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کا کہنا ہےکہ شمالی کوریا وعدے کے مطابق بین الاقوامی امداد کے بدلے اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے بدقسمتی سے شمالی کوریا نے اب تک اپنا وعدہ پورا نہیں کیا اور اپنے ایٹمی پروگرام کے خاتمے کی کاروائی کو بھی سست کر دیا ہے۔ شمالی کوریا نے اکتوبر میں اپنے نیوکلیائی پروگرام کے ظاہر کرنے اور اکتیس دسمبر تک یانگ بیانگ کے ایٹمی پلانٹ سے سہولیات کے خاتمے پر اتفاق کیا تھا۔ اس کے بدلے میں خطےکی بڑی طاقتوں نے ایندھن کی فراہمی اور سفارتی حمایت پر اتفاق کیا تھا۔ یہ عمل فروری میں چھ رکنی مذکرات کے بعد طے پانے والے معاہدے کا دوسرا حصہ ہے جس میں چین، امریکہ، جاپان، روس، شمالی کوریا اور جنوبی کوریا شامل تھے اور ابتدائی قدم کے طور پر شمالی کوریا نے اپنے جوہری پروگرام کے خاتمے کا فیصلہ کیا تھا۔ اکتوبر میں ہونے والے چھ رکنی مذاکرات میں شمالی کوریا نے اس سال کے آخر تک کی حتمی تاریخ پر اتفاق کیا تھا۔ امریکی حکام نے شمالی کوریا پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کی مکمل تفصیل فراہم کرے۔ امریکہ اور جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کتنا پلوٹونیم پیدا کیا جاچکا ہے اور وہ ایسے شواہد دیکھنا چاہتے ہیں جس سے ظاہر ہو کہ ہتھیاروں کی تیاری کے لیئے یورینیم کی افزودگی کا کوئی خفیہ پروگرام نہیں ہے۔ اس ماہ کے آغاز میں امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے شمالی کورین رہنما ’ کِم یانگ اِل’ کو ایک ذاتی خط بھیجا جس میں انہیں وعدہ پورا کرنے پر زور دیا۔ یہ خط امریکی صدر نے اپنے ایلچی کرِسٹوفر ہِل کے ذریعے بھیجا جو امریکی ماہرین کی زیرِ نگرانی شمالی کوریا کے مرکزی جوہری رِی ایکٹر ’بیانگ یانگ’ کو ناکارہ بنانے کے پروگرام کا جائزہ لینے گئے تھے۔ اپنے دورے کے بعد ان کا کہنا تھا کہ پروگرام کو ناکارہ بنانے کا عمل درست اور شیڈول کے مطابق جاری ہے۔ |
اسی بارے میں ’ایٹمی پروگرام کا خاتمہ،کوریا تیار‘02 September, 2007 | آس پاس شمالی کوریا کی نئی شرائط20 September, 2005 | آس پاس ’جوہری ہتھیار نہیں بنائیں گے‘ 19 September, 2005 | آس پاس ’قرارداد پر عمل نہیں کریں گے‘16 July, 2006 | آس پاس ایران پر پابندیوں کی قرارداد مؤخر28 September, 2007 | آس پاس ’ایران کےمعاملےمیں مغرب ناکام رہا ہے‘15 May, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||