’قرارداد پر عمل نہیں کریں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی کوریا نے اقوام متحدہ کی اس قرارداد پر عمل کرنے سے سختی سے انکار کر دیا ہے جس میں اس کے میزائل ٹیسٹوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ وہ انہیں فوری طور پر بند کردے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر شمالی کوریا کے خلاف پابندیوں کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ قرارداد کے مطابق اقوامِ متحدہ کے اراکین نے شمالی کوریا کو میزائل سے وابستہ کسی بھی قسم کے میٹیریل کی درآمد اور برآمد پر پابندی لگانے کے ساتھ اس سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنے دور مار کرنے والے گولوں کے تجربات بند کر دے۔ شمالی کوریا کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ مذکورہ قرار داد امریکی خواہشات کی تکمیل ہے اور شمالی کوریا اس پر عمل در آمد کا پابند نہیں ہے۔ وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا ہر ممکن طریقے پر اپنا جوہری پروگرام جاری رکھے گا۔ دوسری جانب جنوبی کوریا نے بھی پیانگ یانگ حکومت سے میزائل ٹیسٹوں کے تجربات ملتوی کرنے کی درخواست کی ہے اور ایٹمی معاملات پر چھ ملکی مذاکرات کی میز پر واپس آنےکو کہا ہے۔ اقوام متحدہ نے اس قرار داد میں شمالی کوریا سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بلاسٹک میزائل کا پروگرام بند کر دے اور تمام رکن ممالک سے کہا گیا تھا کہ وہ شمالی کوریا کو میزائل یا ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے کسی قسم کی مدد فراہم نہ کریں۔ سلامتی کونسل میں متفقہ طور پر منظور ہونے والی اس قرار داد میں اقوام متحدہ کے باب سات کا کوئی حوالہ موجود نہیں ہے۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے منشور کا باب سات ایسے ملکوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی اجازت دیتا ہے جس کے خلاف سلامتی کونسل میں قرارداد منظور ہو چکی ہو۔ اس قرار داد میں باب سات کو شامل کرنے پر چین نے ویٹو کرنے کی دھمکی دی تھی۔ اس قرار داد کا مسودہ جاپان نے پیش کیا تھا۔ یہ قرار داد ایک ایسے وقت میں منظور ہوئی ہے کہ جب شمالی کوریا نے سات میزائلوں کے تجربات کیئے ہیں جس میں سے ایک دور مار کرنے والا میزائل تائیپو ڈونگ۔2 بھی شامل ہے جس کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ وہ الاسکا تک پہنچ سکتا ہے۔ اقوام متحدہ میں برطانوی اور امریکی سفیروں نے قرار داد کو شمالی کوریا کے خلاف بھرپور اور مؤثر قرار دیا ہے۔
امریکی سفیر جان بولٹن کا کہنا تھا کہ قرار داد کی شکل میں ایک واضح، غیر مبہم اور متفقہ پیغام پیانگ یانگ حکومت تک پہنچ گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر شمالی کوریا اس قرار داد پر عمل در آمد نہیں کرتا تو اس کے خلاف مزید کارروائی کے بارے میں غور کیا جا سکتا ہے۔ شمالی کوریا اس بارے میں کہہ چکا ہے کہ ’اور اگر عالمی برداری نے پیانگ یانگ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تو وہ اس کا بھر پور عملی جواب دے گا‘۔ جاپان ایک ایسا ایشیائی ملک ہے جو شمالی کوریا پر انتہائی سخت موقف رکھتا ہے۔ اس نے شمالی کوریا کی طرف سے سات میزائل تجربوں کے فوری بعد اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کی درخواست کی تھی اور یہ اجلاس جاپان کی اس درخواست پر ہی ہو رہا ہے جس میں اس نے کہا تھا کہ شمالی کوریا کے میزائلوں کے تجربات اس کی سلامتی کے لیئے خطرہ ہیں۔ تاہم چین، روس اور جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ تادیبی کارروائی ضروری نہیں ہے۔ |
اسی بارے میں شمالی کوریا پر پابندیوں کا ووٹ16 July, 2006 | آس پاس پھر شمالی کوریا کی مذمت12 May, 2005 | آس پاس بیجنگ: چھ قومی مذاکرات معطل07 August, 2005 | آس پاس ’جوہری ہتھیار نہیں بنائیں گے‘ 19 September, 2005 | آس پاس ’نیوکلیئر شمالی کوریا قبول نہیں‘17 November, 2005 | آس پاس امریکہ کو شمالی کوریا کا انتباہ09 April, 2006 | آس پاس شمالی کوریا کو پھر امریکی تنبیہہ17 June, 2006 | آس پاس میزائل ٹیسٹ: شمالی کوریا پر دباؤ20 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||