میزائل تجربے، ہنگامی اجلاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا کی بڑی اور اہم طاقتوں نے میزائل تجربات کرنے پر شمالی کوریا کی شدید مذمت کی ہے جبکہ جاپان کی درخواست پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس ہو رہا ہے جس میں صورتِ حال پر غور کیا جائے گا۔ ہنگامی اجلاس کے آغاز پر اقوامِ متحدہ میں امریکہ کے سفیر جان بولٹن نے مطالبہ کیا ہے کہ سلامتی کونسل شمالی کوریا کے ان میزائل تجربات کیا بھرپور انداز میں جواب دے۔ انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا کا یہ عمل سراسر اکسانے کی کوشش ہے اور بہت سنجیدہ معاملہ ہے۔ تاہم صورتِ حال پر پہلی بار ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے چین نے جو جنوبی کوریا کا بہت قریبی حلیف ہے، اپنی انتہائی تشویش کا حوالہ دیا ہے۔ ایک سرکاری بیان میں چین نے امید کا اظہار کیا ہے کہ تمام فریق تحمل اور بردباری دکھائیں گے۔ شمالی کوریا نے عالمی دباؤ کے باوجود بدھ کو وقفے وقفے سے میزائلوں کے سات تجربے کیئے ہیں۔ یہ تجربات زیادہ تر قریب مار کرنے والے میزائلوں کے تھے لیکن ان میں سے ایک میزائل طویل فاصلے تک مار کر سکتا ہے اور ماہرین کہتے ہیں کہ اس کی پہنچ امریکہ تک ہو سکتی ہے۔ یہ میزائل تجربات دو حصوں میں کیئے گئے۔ پہلے حصے میں چھ میزائلوں کی آزمائش ہوئی جبکہ ساتواں تجربہ کچھ گھنٹوں کے بعد کیا گیا۔ جنوبی کوریا کی فوج کا کہنا ہے کہ ساتواں میزائل داغے جانے کے چھ منٹ بعد جزیرہ نما کوریا کے پانیوں میں گرا۔ شمالی کوریا نے اس نئے تجرے پر کوئی بیان نہیں دیا البتہ اس کے ایک اہلکار نے جاپانی اخبار نویسوں کو بتایا کہ میزائل تجربے قومی خودمختاری کے لیئے بہت اہم ہیں۔ تاہم امریکہ نے ان تجربات کو اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔ شمالی کوریا کے چھ میزائل تجربوں کے فوری بعد جاپان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کی درخواست کی۔ جاپان کا کہنا ہے شمالی کوریا کے میزائلوں کے تجربے سے اس کی سلامتی کو خطرہ ہے جبکہ امریکہ نے شمالی کوریا کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے اقوامِ عالم کے مطالبے کی قطعاً پروا نہیں کی۔
شمالی کوریا نے میزائلوں کے کئی تجربے کیے ہیں جن میں سے ایک کی مار اتنی دور تک ہے کہ امریکی وزارت خارجہ کے اہلکاروں کے خیال میں وہ امریکہ تک پہنچ سکتا ہے۔ تاہم امریکہ کا خیال ہے کہ گو ٹائپوڈونگ-2میزائل الاسکا تک پہنچ سکتا ہے مگر اس کا تجربہ ناکام ہوا ہے۔ یہ تمام میزائل ایک دوسرے کے بعد چند گھنٹوں کے اندر ہی داغے گئے۔ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کی حد 6000 کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے جس کا مطلب ہے کہ وہ امریکہ کے کچھ حصوں کو نشانہ بناسکتا ہے۔
دیگر میزائل جاپان کے سمندر میں گرے ہیں۔ جاپانی حکومت نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے میزائل ایک اہم مسئلہ ہیں جن کے بارے میں وہ کوئی کارروائی کرے گا۔ امریکہ اور شمالی کوریا کے پڑوسی ممالک اس کے میزائل کے بارے میں فکرمند رہے ہیں۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر جان بولٹن نے کہا ہے کہ وہ اس بارے میں ’ہنگامی سطح‘ پر سلامتی کونسل کے دیگر رکن ممالک سے بات چیت کررہے ہیں۔ امریکی وزارت خارجہ کے ایک اہلکار نے کہا کہ شمالی کوریا کے میزائل داغنے کا مقصد ’غصہ دلانا‘ تھا تاکہ اسے ’توجہ‘ حاصل ہوسکے۔ وائٹ ہاؤس کے پریس سیکرٹری جان اسنو نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’واضح طور پر شمالی کوریا نے پھر سے خود کو تنہا کرلیا ہے۔‘ انہوں نے بتایا کہ صدر بش نے اس بارے میں وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ، وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس اور قومی سلامتی کے مشیر سٹیفن ہیڈلی سے بات کی ہے۔ پیر کو شمالی کوریا نے وارننگ دی تھی کہ اگر امریکہ نے اس کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کیا تو وہ ایک ’نیست و نابود‘ کرنے والا ایٹمی حملہ کردے گا۔ امریکہ نے شمالی کوریا کی اس وارننگ کو ’خام خیالی‘ بتایا تھا۔ سن 2002 میں شمالی کوریا جاپان سے اس بات پر متفق ہوگیا تھا کہ وہ میزائلوں کے تجربے نہیں کرے گا۔ دوسال قبل دونوں ممالک نے اس سمجھوتے پر پھر سے اتفاق کیا تھا۔ |
اسی بارے میں پھر شمالی کوریا کی مذمت12 May, 2005 | آس پاس بیجنگ: چھ قومی مذاکرات معطل07 August, 2005 | آس پاس ’جوہری ہتھیار نہیں بنائیں گے‘ 19 September, 2005 | آس پاس ’نیوکلیئر شمالی کوریا قبول نہیں‘17 November, 2005 | آس پاس امریکہ کو شمالی کوریا کا انتباہ09 April, 2006 | آس پاس شمالی کوریا کو پھر امریکی تنبیہہ17 June, 2006 | آس پاس میزائل ٹیسٹ: شمالی کوریا پر دباؤ20 June, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||