جوہری انڈر ورلڈ: حکومتی انکشافات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جوہری پھیلاؤ کے متعلق پاکستانی حکام نے جو تفتیش کی ہے اس سے بلیک مارکیٹ میں ایٹمی ٹیکنالوجی سمگل کرنے والے ایک بین الاقوامی گینگ کا بھی پتہ چلا ہےـ پاک فوج کے ایک جنرل نے حال ہی میں ایک بیک گراؤنڈ بریفنگ میں دعویٰ کیا کہ جرمنی کے تین شہری جوہری بلیک مارکیٹ اور جوہری انڈر ورلڈ کے طور پرکام کر رہے ہیں۔ پاکستان میں کی گئی تفتیش کے مطابق سات عالمی ’ایٹمی سمگلروں‘ کا بھی پتہ لگایا گیا ہے جن میں تین جرمنی کے شہری ہیں، دو سری لنکا کے شہری ہیں اور ایک کا تعلق ہالینڈ سے ہے جبکہ ایک متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھتا ہےـ حکام کے مطابق یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ دبئی جوہری عالمی بلیک مارکیٹ کا مرکز ہے اور ایک پاکستانی سائنسدان کےاس عالمی جوہری گینگ سے دیرینہ روابط تھے- عسکری ذرائع کے مطابق چند برس قبل امریکی خفیہ ادارہ سی آئی اے، اس سائنسدان کی تلاش میں تھا اور جب پاکستانی حکام کو اس بات کا پتہ چلا تو ان کے بیرونی دوروں پر پابندی عائد کر دی گئی کیوں کہ انکی گرفتاری یا قتل کا شبہ تھا- فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ ملیشیاء سے تعلق رکھنے والے مشتبہ افراد فاروق اور طاہر نے ملیشیاء میں ایک فیکٹری بھی لگائی تھی۔ ان دونوں افراد کو ملیشیاء سے ہی گرفتار کیا گیا ہےـ اس فیکٹری میں جوہری آلات اور مشینیں بنائی جاتی تھیں جو یورینیم کو اس حد تک افرودہ کرتی تھیں کہ وہ ایٹم بم میں استعمال کیا جا سکتا تھاـ اس فیکٹری سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کے قریبی ساتھی ڈاکٹر فاروق (کے آر ایل والے) کا تعلق تھاـ ڈاکٹر فاروق متعدد بار ملیشیاء میں واقع اس فیکٹری میں گئے ہیںـ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||