BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 27 June, 2007, 11:36 GMT 16:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شمالی کوریا کے ری ایکٹر کا معائنہ جلد
یونگ بینون رئیکٹر
شمالی کوریا نے بین الاقوامی معائنہ کاروں کو نکالنے کے بعد یہ رئیکٹر دوبارہ شروع کر دیا تھا۔
اقوام متحدہ کے ماہرین جلد ہی شمالی کوریا کی اس جوہری پلانٹ کا معائنہ کریں گے جسے بندکرنے کے لیے حال ہی میں ایک بین الاقوامی معاہدہ طے پایا تھا۔

اطلاعات کے مطابق سن دو ہزار دو کے بعد یونگ بیون جوہری ری ایکٹر کا دورہ کرنے والی یہ پہلی بین الاقوامی ٹیم ہوگی۔ نامہ نگاروں کے مطابق یہ انتہائی اہم پیش رفت ہے کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شمالی کوریا اس ری ایکٹر کو بند کرنے کے وعدے پر قائم ہے۔

شمالی کوریا نے یہ وعدہ اس بین الاقوامی معاہدے کے تحت کیا تھا جو فروری میں طے پایا تھا اور اس کے عوض اسے دس لاکھ ٹن تیل دیا جانا تھا۔

اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے ادارے کی ٹیم کے سربراہ اولی ہائی نونن نے جاپان کی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ ’ہم یونگ بیون جا رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ چار رکنی ٹیم جمعرات کو جوہری پلانٹ کا معائنہ کرے گی اور جمع کو پیون یانگ لوٹ آئے گی جہاں وہ آجکل مذاکرات کر رہے ہیں۔

فروری کا معاہدہ
معاہدے میں شمالی کوریا نے امداد کے عوض اپنی جوہری تنصیات بند کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

ادارے کے معائنہ کاروں کو سن دو ہزار دو میں اس تنصیب سے نکال دیا گیا تھا۔ جس کے بعد شمالی کوریا نے ری ایکٹر پھر سے شروع کر دیا اور اطلاعات کے مطابق اتنی مقدار میں پلوٹونیم افزودہ کر لیا جو کئی جوہری بم بنانے کے لیے کافی تھا۔

اگرچہ معائنہ کاروں کی واپسی کی خبر خوش آئند ہے لیکن اس بارے میں ابھی سوالات باقی ہیں کہ انہیں کس حد تک رسائی حاصل ہوگی۔

یونگ بیون ری ایکٹر دارالحکومت سے سو کلومیٹر شمال میں واقع ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے احاطے میں تقریباً سو عمارتیں ہیں اور اس کی حفاظت کے لیے طیارہ شکن توپیں بھی نصب ہیں۔

شمالی کوریا میں لوگ جوہری آزمائش کا نظارہ ٹی وی پر دیکھتے ہوئے

حال ہی میں یورپی یونین کے ایک وفد نے بھی پیونگ یانگ کا دورہ کیا تھا اور اس کا بھی یہی خیال تھا کہ شمالی کوریا اپنی جوہری تنصیبات بند کرنے کے معاملے میں سنجیدہ ہے۔

جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ نے بھی بدھ کو کہا ہے کہ ان کے خیال میں شمالی کوریا کے دارالحکومت میں جاری مذاکرات کے بعد، جتنا جلدی ہوسکےگا، پلانٹ بند کر دیا جائے گا۔

فروری کے معاہدہ پر عمل درآمد میں امریکہ کی عائد کردہ پابندیاں آڑے آرہی تھیں کیونکہ شمالی کوریا کا اسرار تھا کہ کسی بھی پیش رفت سے قبل بین الاقوامی بنکوں میں اس کے منجمند کھاتے واگزار کیے جائیں۔

کئی ہفتوں سے جاری گفت شنید کے بعد شمالی کوریا نے پیر کو اعلان کیا کہ اسے اپنے پچیس ملین ڈالر مل گئے ہیں، لہذا اب وہ اس پلانٹ کو بند کرنے کی کارروائی شروع کر دے گا۔

جنوبی کوریا نے بھی منگل کو کہا تھا کہ وہ غذائی اشیا کی شکل میں شمال کی امداد بحال کر رہا ہے۔

پاکستان اور طالبان
امریکی کانگریس میں پاکستان پر نیا بِل
تناؤ کی تاریخ
شمالی کوریا کے جوہری دھماکے سے پہلے کیا ہوا
قذافیقذافی کا شکوہ
مغرب نے لیبیا کو مایوس کیا
نیوکلیئرجوہری بلیک مارکیٹ
ایٹمی سمگلنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے: ماہرین
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد