شمالی کوریا، ’تمام معاہدے ختم‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی کوریا نے جنوبی کوریا پر جارحیت کا ارادہ رکھنے کا الزام عائد کر کے تمام فوجی اور سیاسی معاہدے ختم کردیے ہیں۔ شمالی کوریا کی کمیٹی برائے پرامن ادغام نے سرکاری میڈیا پر کہا ہے کہ جنوبی کوریا کی حکومت نے حالات کو جنگ کی طرف دھکیل دیا ہے۔ دوسری طرف جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کے اس فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا اور مذاکرات پر زور دیا ہے۔ شمالی کوریا کی کمیٹی برائے پرامن اتحاد کا کہنا ہے ’جنوبی اور شمالی کوریا کے درمیان فوجی اور سیاسی جارحیت ختم کرنے کے معاہدے ختم ہو گئے ہیں۔‘ جنوبی کوریا کی وزارت اتحاد کے ترجمان کا کہنا ہے ’ہماری حکومت کو نہایت افسوس ہوا ہے۔ ہم شمالی کوریا پر زور دیتے ہیں کہ وہ ہماری مذاکرات کی دعوت قبول کرے۔‘ واضح رہے کہ اکتوبر دو ہزار آٹھ میں شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان فوجی معاملات پر ہونے والے مذاکرت بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگئے تھے۔ شمالی اور جنوبی کوریا کے مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکی سفیر کرسٹوفر ہل شمالی کوریا سے جوہری پروگرام سےمتعلق مذاکرات کے لیے پیانگ یانگ پہنچے تھے۔ شمالی کوریا نے دھمکی دی تھی کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ شروع کر رہا ہے کیونکہ امریکہ نے وعدے کے باوجود اسے دہشتگردی کی حمایت کرنے والے ممالک کی فہرست سے خارج نہیں کیا ہے۔ شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان دوبارہ مذاکرات جنوبی کوریا میں فروری میں ہونے والے نئے صدراتی انتخابات کے بعد پہلی بار ہوئے۔ | اسی بارے میں شمالی کوریا جوہری پلانٹ کھول دیاگیا24 September, 2008 | آس پاس شمالی کوریا جوہری معائنے پر تیار12 July, 2008 | آس پاس شمالی کوریا مذاکرات پھر شروع08 July, 2008 | آس پاس شمالی کوریا پرپابندیوں میں کمی27 June, 2008 | آس پاس شمالی کوریا: ایٹمی تفصیلات فراہم26 June, 2008 | آس پاس امریکہ میزائل شیلڈ نہ بنائے: روس، چین23 May, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||