شمالی کوریا جوہری پلانٹ کھول دیاگیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ کے جوہری ہتھیاروں کے نگران ادارے نے کہا ہے کہ اس نے شمالی کوریا کی درخواست پر اس کے مرکزی جوہری کمپلیکس پر سے مہریں کھول دی ہیں اور اس کی نگرانی کے لیے لگائے جانے والے کیمرے اتار دیے ہیں۔ شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ یہ یونگ بیون پلانٹ کو دوبارہ شروع کرنے کے منصوبے کی ایک کڑی ہے۔ شمالی کوریا نے کہا ہے کہ وہ اگلے ہفتے سائٹ پر جوہری مادہ واپس لانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ ایسا اس وقت کیا گیا ہے جب تخفیفِ اسلحہ کے لیے امداد کے بین الاقوامی معاہدے پر تنازع پیدا ہو گیا ہے۔ اسی طرح کا ایک قدم 2002 میں بھی اٹھایا گیا تھا جس کے بعد شمالی کوریا کا بحران طول پکڑ گیا اور بالآخر سن 2006 میں پیونگ یانگ نے جوہری دھماکہ کر ڈالا۔ نگراں جوہری ادارے آئی اے ای اے کی ترجمان نے کہا کہ سائٹ پر لگائی جانے والی مہریں اور کیمرے اتار لیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی اے ای اے کو اب پلانٹ تک رسائی نہیں ہے۔ امریکہ نے کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے نگرانوں کو الگ کرنے کا شمالی کوریا کا فیصلہ بہت ’مایوس کن‘ ہے۔ اس نے پیونگ یانگ کو کہا ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کرے یا پھر (بین الاقوامی) تنہائی کے لیے تیار ہو جائے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان گورڈن جونڈرو نے کہا ہے کہ ’ہم جنوبی کوریا سے پر زور اصرار کرتے ہیں کہ وہ اپنے اقدام پر نظرِ ثانی کرے اور فوری طور پر شش فریقی معاہدے میں طے گئی اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’مزید بات چیت کے لیے واشنگٹن کے دروازے کھلے ہیں۔‘ | اسی بارے میں توقعات کے برعکس شمالی کوریا کے 60 برس09 September, 2008 | آس پاس شمالی کوریا جوہری معائنے پر تیار12 July, 2008 | آس پاس یورینیم افزودگی باعثِ تشویش: بش06 July, 2008 | آس پاس شمالی کوریا پرپابندیوں میں کمی27 June, 2008 | آس پاس شمالی کوریا: ایٹمی تفصیلات فراہم26 June, 2008 | آس پاس شام، شمالی کوریا کاایٹمی تعاون 24 April, 2008 | آس پاس امریکی اہلکار شمالی کوریا میں 22 April, 2008 | آس پاس ’ کوریا وعدہ پورا کرنے میں ناکام‘31 December, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||