شمالی، جنوبی کوریا کی تلخیاں گہری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی کوریا اور شمالی کوریا کے درمیان آپسی تلخیاں مزید گہری ہوتی جا رہی ہیں اور اس بات کا عندیہ تب ملا جب شمالی کوریا نے اپنے ایک پہاڑ پر واقع ریسورٹ سے جنوبی کورین ملازمین کو برخاست کرنے کی دھمکی دی۔ شمالی کوریا کے ماؤنٹ کمگانگ میں 260 سے زیادہ جنوبی کورین کام کرتے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں ملازموں کے رکھنے کو دونوں ملکوں کے درمیان بہتر رشتوں کی پہچان بتائی گئی تھی۔ لیکن اب شمالی کوریا کی فوج کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ ان سارے جنوبی کورین ملازمین کو ریسورٹ سے برخاست کردے گا جن کی ضرورت نہیں ہے۔ جنوبی کوریا اس معاملے کی تفتیش کر رہا ہے اور اس نے شمالی کوریا کے ریسورٹ جانے والے سیاحوں کے ٹورز کو منسوخ کردیا ہے۔ شمالی کوریا نے ملازمین کو برخاست کرنے کا اقدام جنوبی کوریا کی ایک خاتون سیاح کی ماؤنٹ کمگانگ میں ہلاکت کا واقعہ پیش آنے کے بعد اٹھایا ہے۔ جنوبی کوریا سے تعلق رکھنے والی 53سالہ پارک وانگ جا شمالی کوریا کے خصوصی سیاحتی علاقے ماؤنٹ کمگانگ میں ریسورٹ کے پاس ایک سمندر کے کنارے ہلاک کردی گئی تھی۔ شمالی کوریا کا کہنا تھا کہ خاتون کی ہلاکت اس وجہ سے ہوئی کیونکہ وہ حساس فوجی زون میں داخل ہوگئی تھیں لیکن جنوبی کوریا نے اس پر سوال اٹھایا ہے۔ شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ خاتون سیاح فوج کی وارننگ کے باوجود حساس علاقے میں داخل ہوئی تھیں۔ معاملے کی تفتیش کر رہے جنوبی کوریا کے تفتیش کار، جنہیں جائے وقوع پر جانے کی اجازت نہیں دی گئی، کا کہنا ہے سیاح خاتون حساس علاقے کے اتنے اندر نہیں گئیں جتنا کہ شمالی کوریا کی فوج بتا رہی ہے۔ شمالی کوریا نے اتوار کو کہا ہے کہ اگر اسکے ریسورٹ اور فوجی علاقے میں کوئی تھوڑا بھی مخالفانہ رویہ اختیار کرتا ہے تو وہ اس کا جواب دے گا۔ پارک وانگ جا کی ہلاکت کے بعد جنوبی کوریا کے صدر لی میونگ باک کی شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات کا دور شروع کرنے کی بات پس پردہ چلی گئی ہے۔ اس معاملے کے باوجود صدر لی کے شمالی کوریا سے ساتھ مذاکرات کرنے کے فیصلے پر اٹل رہنے کے فیصلے کی جنوبی کوریا میں زبردست تنقید ہو رہی ہے۔ |
اسی بارے میں شمالی، جنوبی کوریا کی ملاقات02 October, 2007 | آس پاس جنوبی کوریائی صدر کا تاریخ ساز قدم02 October, 2007 | آس پاس شمالی کوریا، سینکڑوں ہلاک14 August, 2007 | آس پاس دو خواتین مغویوں کو رہا کر دیا گیا13 August, 2007 | آس پاس کوریائی سربراہان کی تاریخی ملاقات08 August, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||