BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 03 August, 2008, 09:51 GMT 14:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شمالی، جنوبی کوریا کی تلخیاں گہری
فائل فوٹو
ماؤنٹ کمگانگ میں 260 سے زائد جنوبی کورین ملازمت کرتے ہیں
جنوبی کوریا اور شمالی کوریا کے درمیان آپسی تلخیاں مزید گہری ہوتی جا رہی ہیں اور اس بات کا عندیہ تب ملا جب شمالی کوریا نے اپنے ایک پہاڑ پر واقع ریسورٹ سے جنوبی کورین ملازمین کو برخاست کرنے کی دھمکی دی۔

شمالی کوریا کے ماؤنٹ کمگانگ میں 260 سے زیادہ جنوبی کورین کام کرتے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں ملازموں کے رکھنے کو دونوں ملکوں کے درمیان بہتر رشتوں کی پہچان بتائی گئی تھی۔

لیکن اب شمالی کوریا کی فوج کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ ان سارے جنوبی کورین ملازمین کو ریسورٹ سے برخاست کردے گا جن کی ضرورت نہیں ہے۔

جنوبی کوریا اس معاملے کی تفتیش کر رہا ہے اور اس نے شمالی کوریا کے ریسورٹ جانے والے سیاحوں کے ٹورز کو منسوخ کردیا ہے۔

شمالی کوریا نے ملازمین کو برخاست کرنے کا اقدام جنوبی کوریا کی ایک خاتون سیاح کی ماؤنٹ کمگانگ میں ہلاکت کا واقعہ پیش آنے کے بعد اٹھایا ہے۔ جنوبی کوریا سے تعلق رکھنے والی 53سالہ پارک وانگ جا شمالی کوریا کے خصوصی سیاحتی علاقے ماؤنٹ کمگانگ میں ریسورٹ کے پاس ایک سمندر کے کنارے ہلاک کردی گئی تھی۔

شمالی کوریا کا کہنا تھا کہ خاتون کی ہلاکت اس وجہ سے ہوئی کیونکہ وہ حساس فوجی زون میں داخل ہوگئی تھیں لیکن جنوبی کوریا نے اس پر سوال اٹھایا ہے۔ شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ خاتون سیاح فوج کی وارننگ کے باوجود حساس علاقے میں داخل ہوئی تھیں۔

معاملے کی تفتیش کر رہے جنوبی کوریا کے تفتیش کار، جنہیں جائے وقوع پر جانے کی اجازت نہیں دی گئی، کا کہنا ہے سیاح خاتون حساس علاقے کے اتنے اندر نہیں گئیں جتنا کہ شمالی کوریا کی فوج بتا رہی ہے۔

شمالی کوریا نے اتوار کو کہا ہے کہ اگر اسکے ریسورٹ اور فوجی علاقے میں کوئی تھوڑا بھی مخالفانہ رویہ اختیار کرتا ہے تو وہ اس کا جواب دے گا۔

پارک وانگ جا کی ہلاکت کے بعد جنوبی کوریا کے صدر لی میونگ باک کی شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات کا دور شروع کرنے کی بات پس پردہ چلی گئی ہے۔

اس معاملے کے باوجود صدر لی کے شمالی کوریا سے ساتھ مذاکرات کرنے کے فیصلے پر اٹل رہنے کے فیصلے کی جنوبی کوریا میں زبردست تنقید ہو رہی ہے۔

شمالی اور جنوبی کوریائی صدورشمالی و جنوبی کوریا
امن کے لیے دونوں اطراف کے سربراہ ملیں گے
تناؤ کی تاریخ
شمالی کوریا کے جوہری دھماکے سے پہلے کیا ہوا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد