BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 02 October, 2007, 12:54 GMT 17:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شمالی، جنوبی کوریا کی ملاقات
شمالی کوریا کے کمیونسٹ رہنما کِم جونگ اِل اور جنوبی کوریا کے صدر روہ موہیان گارڈ آف آنر کا معائنہ کر رہے ہیں
سیول کو امید ہے کہ اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان مستقل امن قائم ہو جائے گا
شمالی کوریا کے کمیونسٹ رہنما کِم جونگ اِل نے جنوبی کوریا کے صدر روہ موہیان کو پیونگ یانگ میں تاریخی مذاکرات کے لیے خوش آمدید کہا ہے۔

ٹی وی پر دکھائے گئے فوٹیج میں دونوں رہنماؤں کو شمالی کوریا کے دارالحکومت میں ہاتھ ملاتے دکھایا گیا۔

شمالی کوریا کے کمیونسٹ رہنما سے روہ مُوہیان کی ملاقات انیس پچاس۔ترپن کی کوریا جنگ کے بعد سے دوسری ایسی ملاقات ہے۔ انیس سو ترپن تک جاری رہنے والی کوریائی جنگ باضابطہ طور پر ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔

صدر روہ مُوہیان نے اپنے اس تاریخ ساز سفر کے بارے میں کہا کہ ان کا مقصد ’اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ امن کی آبادکاری‘ ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات تین دن جاری رہے گی۔

جنوبی کوریا کے دارالحکومت سول سے صدر روہ مُوہیان کے ساتھ چلنے والے کارواں میں تجارتکار، بیوروکریٹس، شعراء اور مذہبی رہنما ہیں۔

یہ کارواں سرحد پر ’غیرفوجی علاقے‘ میں رکا تاکہ جنوبی کوریائی صدر اور ان کی اہلیہ کاون یانگ سُوک علامتی طور پر پیدل چل کر شمالی کوریا میں داخل ہوسکیں۔ انہوں نے ایک پیلی پٹی پر قدم رکھا جس پر دو الفاظ تحریر تھے: امن اور ترقی۔

اس موقع پر صدر روہ مُوہیان نے کہا کہ سرحد ’پار کرنے کے بعد امید کرتا ہوں کہ مزید لوگ اس راہ پر چلیں گے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’یہ لکیر آہستہ آہستہ ختم ہوجائے گی اور دیوار گر جائے گی‘

سرحد پار کرنے کے بعد پھر یہ کارواں پیونگ یانگ کی جانب روانہ ہوگیا۔ دونوں ملکوں کے درمیان اس سے قبل واحد سربراہی اجلاس سن 2000 میں ہوا تھا۔ اس وقت شمالی کوریا کے رہنما نے وعدہ کیا تھا کہ وہ جنوبی کوریا کا دورہ کرینگے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

پہلے سربراہی اجلاس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جنوبی کوریا کے سابق صدر کِم ڈے جنگ کو شمالی کوریا کی جانب ان کی پرامید پالیسی کے لیے امن کے نوبل اعزاز سے نوازا گیا۔

تب سے دونوں ملکوں کے درمیان ریل اور روڈ کے ذریعے سفر کا آغاز ہوا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تقسیم ہونے والے متعدد خاندان، مختصر وقفے کے لیے ہی صحیح، آپس میں مل سکے ہیں۔

اسی بارے میں
مذاکرات دوبارہ شروع
18 December, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد