جنوبی کوریائی صدر کا تاریخ ساز قدم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی کوریا کے صدر نُو مُُوہیان نے منگل کے روز سرحد پار ایک تاریخ ساز قدم رکھا اور شمالی کوریا کے دارالحکومت پیونگ یانگ میں اپنے ہم منصب کِم جونگ اِل سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ شمالی کوریا کے کمیونسٹ رہنما سے نُو مُوہیان کی ملاقات انیس پچاس-ترپن کی کوریا جنگ کے بعد سے دوسری ایسی ملاقات ہے۔ انیس سو ترپن تک جاری رہنے والی کوریائی جنگ باضابطہ طور پر ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ صدر نُو مُوہیان نے اپنے اس تاریخ ساز سفر کے بارے میں کہا کہ ان کا مقصد ’اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ امن کی آبادکاری‘ ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات تین دن جاری رہے گی۔ جنوبی کوریا کے دارالحکومت سول سے صدر نُو مُوہیان کے ساتھ چلنے والے کارواں میں تجارتکار، بیوروکریٹس، شعراء اور مذہبی رہنما ہیں۔ یہ کارواں سرحد پر ’غیرفوجی علاقے‘ میں رکا تاکہ جنوبی کوریائی صدر اور ان کی اہلیہ کاون یانگ سُوک علامتی طور پر پیدل چلکر شمالی کوریا میں داخل ہوسکیں۔ انہوں نے ایک پیلی پٹی پر قدم رکھا جس پر دو الفاظ تحریر تھے: امن اور ترقی۔ اس موقع پر صدر نُو مُوہیان نے کہا کہ سرحد ’پار کرنے کے بعد امید کرتا ہوں کہ مزید لوگ اس راہ پر چلیں گے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’یہ لکیر آہستہ آہستہ ختم ہوجائے گی اور دیوار گر جائے گی‘ سرحد پار کرنے کے بعد پھر یہ کارواں پیونگ یانگ کی جانب روانہ ہوگیا۔ دونوں ملکوں کے درمیان اس سے قبل واحد سربراہی اجلاس سن 2000 میں ہوا تھا۔ اس وقت شمالی کوریا کے رہنما نے وعدہ کیا تھا کہ وہ جنوبی کوریا کا دورہ کرینگے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ پہلے سربراہی اجلاس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جنوبی کوریا کے سابق صدر کِم ڈے جنگ کو شمالی کوریا کی جانب ان کی پرامید پالیسی کے لیے امن کے نوبل اعزاز سے نوازا گیا۔ تب سے دونوں ملکوں کے درمیان ریل اور روڈ کے ذریعے سفر کا آغاز ہوا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تقسیم ہونے والے متعدد خاندان، مختصر وقفے کے لیے ہی صحیح، آپس میں مل سکے ہیں۔ | اسی بارے میں ’شمالی کوریا کو کیسے سزا دیں‘09 October, 2006 | آس پاس جاپان، جنوبی کوریا: پابندیوں کا خیرمقدم15 October, 2006 | آس پاس دوسرا تجربہ:’شمالی کوریا باز رہے‘18 October, 2006 | آس پاس مذاکرات دوبارہ شروع18 December, 2006 | آس پاس ’معاہدے سے پھرے تو پابندیاں‘13 February, 2007 | آس پاس طالبان نے کوریا کے شہری رہا کردیے30 August, 2007 | آس پاس ’ایٹمی پروگرام کا خاتمہ،کوریا تیار‘02 September, 2007 | آس پاس مغوی کوریائی وطن واپس پہنچ گئے02 September, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||