’ایٹمی بجلی گھر مہینوں بند رہے گا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جاپان میں گزشتہ ماہ آنے والے زلزلے سے متاثرہ جوہری پلانٹ کا جائزہ لینے والے اقوامِ متحدہ کے انسپکٹروں کا کہنا ہے کہ پلانٹ کے دوبارہ کھولے جانے سے قبل مزید جانچ کی ضرورت ہے۔ اقوامِ متحدہ کے جوہری نگرانی کے ادارے آئی اے ای اے کی ٹیم نے یہ بات کاشی وازاکی۔کاریوا نامی جوہری پلانٹ کے چار روزہ معائنے کے بعد کہی۔ ٹیم کے سربراہ فلپ جیمٹ کا کہنا تھا کہ پلانٹ کو دوبارہ چالو کرنے میں کئی مہینے یا اس سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ فلپ جیمٹ نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ جوہری بجلی گھر کو پہنچنے والے نقصان کا مکمل جائزہ لینے میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ’بجلی گھر کو دوبارہ چلانے سے قبل مکمل جائزہ ضروری ہے اور اس میں کتنے مہینے یا پھر سال لگے گا، میں کچھ نہیں کہہ سکتا‘۔ زلزلے کے بعد مقامی حکام نے آئی اے ای اے سے جوہری بجلی گھر کا جائزہ لینے کی درخواست کی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی حکام کے جائزے سے بھاری نقصان کی افواہوں کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ یاد رہے کہ ریکٹر سکیل پر چھ اعشاریہ آٹھ طاقت کے زلزلے سے جوہری پلانٹ میں پچاس کے قریب خرابیاں پیدا ہوئی تھیں اور بعد ازاں یہ بات سامنے آئی تھی کہ اس حادثے کے نتیجے میں خارج ہونے والا جوہری مواد ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ تھا۔ | اسی بارے میں زلزلے سے جوہری پلانٹ کو نقصان17 July, 2007 | آس پاس کوریا نے مزید تنصیبات بند کر دیں18 July, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||