BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 10 December, 2008, 15:49 GMT 20:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جوہری عدم پھیلاؤ کی مہم کا آغاز

اردن کی شہزادی نور بھی گلوبل زیرو کی اہم شخصیات میں شامل ہیں
مشہور عالمی شخصیات پر مشتمل ایک گروپ نے پیرس میں جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے ایک نئی مہم شروع کی ہے۔

گلوبل زیرو نامی یہ گروپ سو مشہور عالمی شخصیات پر مشتمل ہے جو جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات اور اس مقصد کے حصول کے لیے عوامی حمایت کے لیے کام کرے گا۔

اس گروپ کا کہنا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کے غیر مستحکم گروپوں تک پھیلنے اور انتہا پسند گروپوں کے ہاتھ لگنے کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔

آئندہ دنوں میں یہ گروپ ماسکو اور واشنگٹن میں بھی اپنے اجلاس منعقد کرے گا۔

ماضی میں جوہری عدم پھیلاؤ کےمعاملے کو سیاسی بحث مباحثے میں ایک ثانوی حیثیت حاصل رہی ہے لیکن اب قومی سطح کے سکیورٹی حکام نے یک زبان ہو کر جوہری عدم پھیلاؤ کی بات کی ہے۔

امریکہ میں جوہری عدم پھیلاؤ کے مطالبے کا آغاز سرد جنگ کے زمانے کی شخصیات پر مشتمل ایک گروپ نے کیا ہے جن میں ہنری کیسنجر اور جارج شلز شامل ہیں۔

آئندہ دنوں میں یہ گروپ ماسکو اور واشنگٹن میں بھی اپنے اجلاس منعقد کرے گا
گلوبل زیرو جوہری عدم پھیلاؤ کے معاملے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے علاوہ اس پر عوامی سطح پر ایک بحث مباحثے کا آغاز بھی کرنا چاہتا ہے۔

گلوبل زیرو میں شامل شخصیات میں سابق امریکی صدر جِمی کارٹر، سابق سویت رہنماء میخائیل گورباچوف، برازیل کے سابق صدر فرنینڈو کارڈوسو، برطانوی بزنس مین سر رچرڈ برانسن، پاکستانی جائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کے سابق چیئرمین جنرل احسان الحق اور سابق بھارتی نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر براجیش مشرا خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔

اسی بارے میں
شمالی کوریا، مزید دھمکی
11 October, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد