جوہری عدم پھیلاؤ کی مہم کا آغاز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشہور عالمی شخصیات پر مشتمل ایک گروپ نے پیرس میں جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے ایک نئی مہم شروع کی ہے۔ گلوبل زیرو نامی یہ گروپ سو مشہور عالمی شخصیات پر مشتمل ہے جو جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات اور اس مقصد کے حصول کے لیے عوامی حمایت کے لیے کام کرے گا۔ اس گروپ کا کہنا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کے غیر مستحکم گروپوں تک پھیلنے اور انتہا پسند گروپوں کے ہاتھ لگنے کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔ آئندہ دنوں میں یہ گروپ ماسکو اور واشنگٹن میں بھی اپنے اجلاس منعقد کرے گا۔ ماضی میں جوہری عدم پھیلاؤ کےمعاملے کو سیاسی بحث مباحثے میں ایک ثانوی حیثیت حاصل رہی ہے لیکن اب قومی سطح کے سکیورٹی حکام نے یک زبان ہو کر جوہری عدم پھیلاؤ کی بات کی ہے۔ امریکہ میں جوہری عدم پھیلاؤ کے مطالبے کا آغاز سرد جنگ کے زمانے کی شخصیات پر مشتمل ایک گروپ نے کیا ہے جن میں ہنری کیسنجر اور جارج شلز شامل ہیں۔
گلوبل زیرو میں شامل شخصیات میں سابق امریکی صدر جِمی کارٹر، سابق سویت رہنماء میخائیل گورباچوف، برازیل کے سابق صدر فرنینڈو کارڈوسو، برطانوی بزنس مین سر رچرڈ برانسن، پاکستانی جائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کے سابق چیئرمین جنرل احسان الحق اور سابق بھارتی نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر براجیش مشرا خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ | اسی بارے میں شمالی کوریا، مزید دھمکی11 October, 2006 | آس پاس انڈیاامریکہ، جوہری معاہدہ منظور 27 July, 2006 | آس پاس ’پاکستانی ایٹمی اسلحہ کی نگرانی ضروری‘06 January, 2008 | آس پاس امریکہ ایران سے بات چیت پر آمادہ16 July, 2008 | آس پاس ’ایران پالیسی، نظرِ ثانی کی ضرورت‘04 December, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||