BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 13 February, 2009, 14:47 GMT 19:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ممبئی حملے، پاکستانی ایجنسیاں کہاں تھیں؟

داخلی سکیورٹی کے مشیر رحمان ملک نے رپورٹ میڈیا کے سامنے پیش کی

حکومت پاکستان کی جانب سے اعتراف کہ ممبئی حملوں کی سازش جزوی طور پر پاکستان میں تیار کی گئی ایک مرتبہ پھر ایک انتہائی سنگین مسئلے کی جانب توجہ مبذول کرتی ہے۔ بات پھر گھوم پھر کر پاکستان کی جانب ہی آئی ہے۔ یہاں شدت پسندوں کی جڑیں موجود ہیں۔ شدت پسندی کے اس کانٹے دار پودے سے آپ جتنا بھی دامن بچانا چاہیں بچ نہیں پاتا۔

جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے ممبئی حملوں کے فورا بعد انگلیاں پاکستان کی جانب اٹھنے لگیں۔ البتہ پاکستان نے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے اسے اس میں ملوث کرنے سے ابتدائی طور پر منع کیا تھا۔ دونوں ممالک نے سرکاری سطح پر تو احتیاط سے کام لیا لیکن بھارتی اور پاکستانی ذرائع ابلاغ میں الزامات کی ایک جنگ شروع ہوگئی۔ قوم پرستی غالب آگئی اور جہاں بھارتی میڈیا پاکستان کو ملوث کرنے کی سرتوڑ کوشش کرنے لگا، وہیں پاکستانی میڈیا ابتدائی شواہد کو غلط ثابت کرنے میں مصروف ہوگیا۔ ایک دوسرے کو غلط ثابت کرنے کی حتی الامکان کوششیں ہوئیں۔

اگرچہ مشیر داخلہ رحمان ملک کی بریفنگ کے مطابق ممبئی سازش کے تانے بانے کئی دیگر ممالک سے بھی ملتے ہیں۔ اس بابت سپین، اٹلی اور امریکہ کے نام بھی لیے گئے ہیں۔ ان ممالک میں بھی یقینا شدت پسندوں کے حامی موجود ہیں اور وقتا فوقتا مختلف انداز سے مدد کرتے رہے ہیں۔ لیکن جو تحقیقات سے بات کھل کر سامنے آئی ہے اس سے تو صاف ظاہر ہے کہ اس سازش کا اسی سے نوے فیصد بلکہ ہوسکتا ہے اس سے بھی زیادہ حصہ پاکستان میں ہی تیار ہوا ہو۔

 شدت پسند عناصر سرکاری ہوں یا غیرسرکاری، نہ چاہتے ہوئے بھی ان کی جڑیں ہم تک پہنچ ہی گئی ہیں۔ شدت پسند ملک کے اندر یا بیرون ملک کارروائیاں کریں مسئلہ ہمارا ہے۔ اب تک کی تحقیقات سے سب سے جو اہم ترین سوال سامنے آیا ہے وہ یہ ہے کہ ہماری خفیہ ایجنسیاں کیا سو رہی تھیں؟ اتنا بڑا منصوبہ تیار ہوا، سامان اکٹھا کیا گیا اور پھر یہاں سے روانگی بھی ہوئی لیکن نہ تو خفیہ اداروں اور نہ ہی سکیورٹی اداروں کو کانوں کان علم ہوا؟ اس صورتحال میں لوگوں کے دلوں میں شک پیدا ہو تو کسی کو شکایت نہیں ہونی چاہیے۔
بھارت کے مطابق تمام حملہ آور پاکستانی تھے، پاکستانی تفتیش کے مطابق تین کشتیاں، ربڑ بوٹ کا انجن، لائف جیکٹس وغیرہ پاکستان میں سے ہی حاصل کی گئیں، حملہ آوروں کی تربیت بھی یہیں ہوئی اور بینک اکاؤنٹس بھی یہیں کے تھے۔

دوسری طرف دو سو اڑتیس ڈالر کی ہیوسٹن، امریکہ میں قائم کمپنی سے انٹرنیٹ ڈومین کی سپین اور اٹلی میں خریداری اور ادائیگی کوئی ایسا بڑا ثبوت نہیں ہے جو ان ممالک کو اس میں کسی بڑے پیمانے پر ملوث کرسکے۔ اس سے سپین اور اٹلی کی حد تک وہاں شدت پسندوں کے رابطے ضرور ثابت ہوتے ہیں۔ لیکن امریکہ کا جس طرح سے انٹرنٹ پر کنٹرول ہے ہماری تقریبا تمام ای میلیں وہیں سے روٹ ہوکر آتی جاتی ہیں۔ اکثر ڈومین وہیں موجود ہیں۔

پاکستان کا ردعمل آغاز سے اس شخص کی طرح تھا جس نے ریچھ کو کمبل سمجھ کر اسے گلے تو ماضی میں لگا لیا لیکن اب ایک حد تک اس سے جان چھڑانے کی کوشش اسے مزید ڈبو رہی ہے۔ ممبئی حملہ آوروں میں سے زندہ بچ جانے والے اجمل قصاب کی شہریت کے بارے میں ابتداء سے پاکستان نے انکار کیا۔ پھر کہا تحقیقات کی جا رہی ہیں اور بالآخر ایک بھونڈے انداز سے اسے تسلیم کر لیا۔

شکر ہے اس مرتبہ حکومت نے انتہائی خفیہ انداز میں کی جانے والی تحقیقات کو مثبت انداز میں سامنے لائی۔ بےچین پاکستانی میڈیا نے وقت سے پہلے خبر دینے کی اپنی بھرپور کوشش کی اور ایک روز قبل ہی تیرہ افراد کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا لیکن یہ خبر غلط نکلی۔

یہاں ایک سوال یہ تاہم پیدا ہوتا ہے کہ اگر انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں ممبئی حملوں کی تحقیقات کی پاکستانی تفتیش کار صلاحیت رکھتے ہیں تو پھر حکمراں پیپلز پارٹی کی رہنما اور سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کے مقدمے کی تحقیقات ہم خود کیوں نہیں کر پا رہے۔ کیوں اقوام متحدہ کی مدد حاصل کی جا رہی ہے؟ اگر بےنظیر قتل کیس کی پشت پر بین الاقوامی سازش تھی تو پاکستان کے مطابق ممبئی حملے بھی ایک عالمی سازش تھی۔

شدت پسند عناصر سرکاری ہوں یا غیرسرکاری، نہ چاہتے ہوئے بھی ان کی جڑیں ہم تک پہنچ ہی گئی ہیں۔ شدت پسند ملک کے اندر یا بیرون ملک کارروائیاں کریں مسئلہ ہمارا ہے۔ اب تک کی تحقیقات سے سب سے جو اہم ترین سوال سامنے آیا ہے وہ یہ ہے کہ ہماری خفیہ ایجنسیاں کیا سو رہی تھیں؟ اتنا بڑا منصوبہ تیار ہوا، سامان اکٹھا کیا گیا اور پھر یہاں سے روانگی بھی ہوئی لیکن نہ تو خفیہ اداروں اور نہ ہی سکیورٹی اداروں کو کانوں کان علم ہوا؟ اس صورتحال میں لوگوں کے دلوں میں شک پیدا ہو تو کسی کو شکایت نہیں ہونی چاہیے۔

اس تحقیق سے یہ بھی خطرناک اشارے ملتے ہیں کہ پاکستان کے اندر ممبئی جیسے بڑے دہشت گرد حملے کرنے کی صلاحیت بھی شدت پسندوں کے پاس آگئی ہے۔ اگر یہ تحقیقات پاکستان اور بھارت کی حکومتوں کی سیاست کی نظر ہونے سے بچ گئیں تو انہیں ان کے منتقی انجام تک پہنچانا بہت ضروری ہوگیا ہے۔ اس مقصد کے حصول میں سب سے بڑا سوالیہ نشان اس میں سکیورٹی اداروں کی سیاسی حکومت کو حمایت کلیدی ہوگی۔

ممبئی دہشت گرد حملےکب کیا ہوا؟
ممبئی حملے: دہشت گردی، بیانات، الزامات
ہولبروکامریکی ایلچی کی آمد
’کشمیرہولبروک کےایجنڈے میں نہیں‘
رچرڈ ہالبروکہالبروک سے توقعات
رچرڈ ہالبروک سے بوسنیا جیسے نتائج کی توقع
لشکر طیبہ سوچ بدل گئی؟
لشکرِ طیبہ کی جانب سے پرامن جدوجہد کا اعلان
تصویر کیسے؟
لکھوی کی تصویر انڈیا کو کہاں سے ملی؟
ممبئی حملوں کا مقدمہ
دونوں ملکوں کے سابق سفارتکار کیا کہتے ہیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد