ممبئی حملوں کا مقدمہ، سفارتکاروں کی رائے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی حملوں کے سلسلے میں پاکستان کےاس اعتراف کے بعد کہ سازش کا کچھ حصہ پاکستان میں تیار ہوا تھا، چند بنیادی سوال پیدا ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر کیا پاکستان نے یہ قدم بین الاقوامی برادری کے دباؤ میں اٹھایا ہے؟ کیا ہندوستان اس کارروائی سے مطمئن ہوگا؟ اور دونوں ملکوں کے تعلقات پر اس کا کیا اثر پڑے گا؟ اس پر سابق سفارتکار کیا کہتے ہیں؟ ہم نے پاکستان کے سابق خارجہ سیکریٹری نجم الدین شیخ اور ہندوستان کے سابق خارجہ سیکریٹری ششانک کے سامنے یہ سوال رکھے۔ (سوال) ممبئی حملوں کے سلسلے میں پاکستان کی جانب سے مقدمہ درج کیے جانے میں بین الاقوامی دباؤ کس حد تک اثر انداز ہوا؟ (نجم الدین شیخ) میرے خیال میں بین الاقوامی تشویش کا تو ضرور خیال رکھا گیا ہے لیکن حکومت پاکستان کو خود بھی یہ احساس تھا کہ اس واقعہ کی تفتیش کرنی ہوگی کیونکہ حکومت یہ کہتی رہی ہے کہ دہشت گردی صرف ہندوستان کے لیے ہی نہیں پاکستان کے لیے بھی بڑا خطرہ ہے۔ (ششانک) بین الاقوامی برادری کی طرف سے جو مسلسل دباؤ رہا اس کا کچھ تو اثر نظر آتا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک کی موجودگی بھی اہم رہی۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ہندوستان نے جو ثبوت فراہم کیے تھے ان پر کتنی کارروائی کی گئی ہے۔
(سوال) ہندوستان نے جس جارہانہ سفارتکاری کاسہارا لیا، اقوام متحدہ میں جماعت الدعوۃ کے خلاف کارروائی کرائی، اس سےکیا پاکستان دباؤ میں آگیا تھا؟ (نجم الدین شیخ) نہیں، اس کے برعکس مجھے لگتا ہے کہ ہندوستان اگر اس معاملے کو اتنا نہ اچھالتا تو پاکستان شاید زیادہ مستعدی سے کارروائی کرتا۔ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی نوعیت کچھ ایسی ہے کہ یہاں کوئی یہ تاثر نہیں دے سکتا کہ ہندوستان کے دباؤ میں کوئی کارروائی کی جارہی ہے۔ انکوائری تو ہونی ہی تھی، اگر ہندوستان کی طرف سے دباؤ پیدا نہ ہوتا تو وہ زیادہ بہتر ماحول میں ہوتی کیونکہ اندرون ملک سیاسی مسائل کا خطرہ نہیں ہوتا۔ (ششانک) وجہ تو کئی رہی ہوں گی لیکن اہم بات یہ ہے کہ دیر ہی سے سہی، کچھ اقدامات کیے گئے ہیں۔ اب ہندوستان کی کوشش یہ ہوگی کہ اس کارروائی کو تیزی سے آگے بڑھایا جائے۔ (سوال) یہ کہنا کس حد تک درست ہوگا کہ پاکستان در اصل بین الاقوامی برادری کو مطمئن کرنے کی کوشش کر رہا ہے؟ کیا وہ اس تفتیش کو انجام تک پہنچائے گا؟ (نجم الدین شیخ) میرے خیال میں ملک میں اب تشویش کافی بڑھی ہوئی ہے اور دہشت گردی کو ختم کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش کی جارہی ہے۔ (ششانک) میرے خیال میں کوشش تو یہ ہی ہوگی کہ بات یہیں رک جائے۔ ہندوستان میں اس پورے تفتیشی عمل کے بارے میں بہت شک و شبہات ہیں۔ عام خیال یہ ہی ہے کہ پاکستان نے جو کچھ قدم اٹھائے ہیں وہ بہت دیر کے بعد اٹھائے ہیں اور وہ کافی نہیں ہیں۔
(سوال) پاکستان کے اندر کس طرح کے رد عمل کی توقع ہے؟ خاص طور پر مذہبی جماعتوں کی طرف سے؟ (نجم الدین شیخ) اگر حکومت اس طریقہ سے چلے کہ عدالت کو ثبوت فراہم کرنے کے لیے جو کارروائی کرنی ہے وہ کی جارہی ہے تو مذہبی جماعتوں کے لیے احتجاج کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر من مانے طریقے سے گرفتاریاں کی گئیں تو احتجاج کا راستہ کھل جاتا ہے۔ لیکن اسی وجہ سے شاید یہ کارروائی کافی سوچ سمجھ کر کی جا رہی ہے۔ (سوال) آپکا تجربہ کیا کہتا ہے کہ ہندوستان کیا اس کارروائی سے مطمئن ہوگا یا دباؤ قائم رکھے گا؟ (نجم الدین شیخ) میرے خیال میں ہندوستان میں اسے بغیر کسی جوش کے قبول کیا جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان جس بین الاقوامی برادری سے پاکستان پر دباؤ ڈلوانا چاہتا ہے اسی سے ہندوستان کو یہ پیغام بھی مل رہا ہے کہ دونوں ملکوں میں جتنا کم ٹکراؤ ہو اتنا اچھا ہے اور وہ بات چیت کے ذریعہ اپنے اختلافات دور کریں۔ وہ کہیں گے کہ کچھ پیش رفت ہوئی ہے لیکن اتنی نہیں جتنی ہم چاہتے تھے۔ (ششانک) میرے خیال میں یہ دیکھا جائے گا کہ پاکستان نے تمام پہلوؤں کی تفتیش کی ہے یا صرف انہیں معاملات کی جہاں وہ گھر گئے تھے، جہاں انہیں خیال تھا کہ پاکستانی پکڑے جائیں گے۔ انہوں نے دوسرے ملکوں میں کیا ہوا یہ تو معلوم کر لیا لیکن اب تک یہ پتہ نہیں لگا سکے کہ اندرون ملک کس کس نے اس سازش میں مدد کی تھی۔ کیا کوئی ریاستی ایجنسی بھی اس میں ملوث تھی؟ یعنی وہ باتیں اب تک پتہ نہیں چلیں جو ان آٹھ ہفتوں میں چل سکتی تھیں۔ (سوال) باہمی تعلقات کے لیے آپ اس پیش رفت کو کتنا اہم مانتے ہیں؟ (نجم الدین شیخ) یہ اہم رہے گا۔ مجھے اس بارے میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس سلسلے میں ہندوستان میں غصہ بھی ہے اور تشویش بھی لیکن وہاں بھی تجزیہ نگار یہ ہی کہہ رہے ہیں کہ کوئی ایسا کام نہ کیا جائے جس سے حکومت پاکستان کے لیے اس تفتیش کے سلسلے میں مزید مشکلات پیدا ہوں۔ میں اس بات سے بھی اتفاق نہیں کرتا کہ حکومت ہند عنقریب ہونے والے پارلیمانی انتخابات کی وجہ سے سخت رویہ اختیار کرے گی کیونکہ ممبئی حملوں کے فوراً بعد جو ریاستی انتخابات ہوئے تھے ان پر ممبئی حملوں کا کوئی خاص اثر دیکھنے کو نہیں ملا تھا۔ (ششانک) جس طرح کے حالات ہو گئے ہیں ان میں امن کا عمل جاری رہے یہ تو بہت مشکل ہے۔ لہذا اعتماد کی فضا بحال کرنے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا ہوگا۔ |
اسی بارے میں انڈین وزیر: حملہ آور پاکستانی تھے، گیلانی کا غیر ملکی دورہ منسوخ30 November, 2008 | انڈیا چدمبرم نئے وزیر داخلہ30 November, 2008 | انڈیا ساٹھ گھنٹے: ممبئی کی روح یرغمال رہی29 November, 2008 | انڈیا ریاستی وزیر داخلہ کو آگہی تھی30 November, 2008 | انڈیا تحقیقات میں مدد کرنے کا اعلان30 November, 2008 | انڈیا ممبئی پولیس: میڈیا اور پولیس کا کردار29 November, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||