نعیمہ احمد مہجور بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن |  |
 | | | پاکستان یا عسکری تنظیموں کو اپنی کمزوریوں کا علم تھا تو وہ یہ ایڈونچر کیوں کرنے نکلے تھے |
جب ایک شدت پسند تنظیم کُھلے عام اعلان کرے کہ وہ عسکری کارروائیاں ترک کر کے پرامن جہدوجہد کا ساتھ دے گی جس نے دنیا کی ایک بڑی طاقتور فوج کے ساتھ ساتھ عوام کے ایک بڑے طبقے پر اپنی گہری چھاپ ڈالی ہو تو فوراً سمجھ لینا چاہیے کہ حالات ٹھیک نہیں اور بالکل ٹھیک نہیں کیونکہ یہ وہی تنظیم ہے کہ جس نے ایک زمانے میں کشمیر میں ہی نہیں بلکہ دلی کے لال قلعے پر پرچم لہرانے کا عہد کیا تھا۔ لشکر طیبہ کا نام ممبئی حملوں سے پہلے بھی کئی حملوں میں لیا گیا اور جواب میں ان کے خلاف کارروائی کرنے کی دھمکیاں بھی آئیں مگر لشکر اپنے رویے میں اتنی بڑی تبدیلی کبھی نہیں لائی اور نہ عسکری تحریک ختم کرنے کا ایسا کوئی وعدہ کیا۔ اس بار حالات بہت بدل گئے ہیں جس کا احساس نہ صرف خود لشکر کوہوا ہے بلکہ حکومت پاکستان کو بھی جو عالمی دباؤ کا بوجھ برداشت کرنے کی اب شاید طاقت نہیں رکھتی۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پاکستان کو یہ یقین دہانی کرائی گئی ہو کہ کشمیر کی وجہ سے جو شدت پسند اسے پالنے پڑ رہے ہیں اس کی ضرورت اب نہیں رہے گی کیونکہ بھارتی حکومت کسی حد تک کشمیریوں کو’ کچھ دینے پر‘ تیار ہوگئی ہے جس کا اشارہ آج کل نئے وزیراعلی ِکشمیر عمر عبداللہ بھی بار بار دے چکے ہیں۔ بیشتر کشمیری اگرچہ آزادی کی پرُ امن تحریک کی حمایت کرتے ہیں اور اپنی جنگ خود لڑنے کے حق میں ہیں مگر وہ لشکر سے زیادہ پاکستان پر برہم ہیں جو اب دباؤ میں آ کر کشمیری تحریک پر کوئی بھی سمجھوتہ کرنے پر آمادہ ہو رہا ہے جیسا کہ بعض مبصرین کہہ رہے ہیں کہ’پاکستان کا جب اپنا وجود خطرے میں ہے تو وہ کشمیر کو کیا بچائے‘۔ لوگوں کو حیرت اس بات پر ہے کہ اگر پاکستان یا عسکری تنظیموں کو اپنی کمزوریوں کا علم تھا تو وہ یہ ایڈونچر کیوں کرنے نکلے تھے۔ اتنا خون بہا کر اگر حالات وہیں پر آ گئے ہیں جہاں سے یہ تحریک شروع ہوئی تھی تو فائدہ کس کا ہوا۔ کیا کوئی قدم اٹھانے سے پہلے یہ دیکھا جانا ضروری نہیں تھا کہ ٹھوکر بھی لگ سکتی ہے اور اس کے لیے تیار بھی رہنا پڑے گا۔ لشکر کا میدان سے ہٹنا غلط نہیں اور شاید اسے کہا بھی گیا ہو کہ عالمی حالات اور بھارتی دباؤ کے پیش نظر پاکستان کی بقا کے لیے ایسا کرنا لازمی ہے مگر دور اندیش سیاست دان یا حکمران ایسی پالیسیاں نہیں بناتے جس کی وجہ سے ان کی اپنی قوم کو پچھتانا پڑے اور اس کی بڑی قیمت ادا کرنا پڑے۔ بہتر ہے کہ ایسی کوئی پالیسی ہی نہ بنائی جائے جس کی وجہ سے بعد میں شرمندہ ہونا پڑے۔ لشکر کے بعد عنقریب ہی دوسری تنظیموں کی جانب سے بھی ایسے بیانات آئیں گے جو نہ صرف چونکا دینے والے ہوں گے بلکہ انہیں پڑھنے کے لیے کافی جرات کی ضرورت ہوگی۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ تنظیمیں قومی دھارے میں شامل ہونے کا اعلان کر کے انہیں بھی پیچھے چھوڑ دیں جو ہتھیار ڈال کر اب بھارتی فوج کے جاسوس بن گئے ہیں۔ |