کشمیری شیخوں سے جڑے ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جب سن دو ہزار دو میں نیشنل کانفرنس اقتدار میں نہیں آئی تو بیشتر سیاسی اور عوامی حلقے یہ مان کے چلے تھے کہ این سی کا زمانہ گیا اور وہ بھی کشمیر کی سیاسی تاریخ کے ایک صفحے تک محدود ہوکر رہ جائیگی حالانکہ اُس وقت بھی پارٹی نے باقی سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں بڑی پارٹی کی حیثیت اختیار کی تھی۔ مگر اُس وقت چونکہ بھارت سرکار کا دل نیشنل کانفرنس سے بھر گیا تھا اور وہ بار بار کی این سی کی سیاسی اُچھل کود سے تنگ آگی تھی لہذا اس نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے زمین ہموار کر کے این سی کو اقتدار سے دور رکھنے کا خوب مزا چکھایا جو نیشنل کانفرنس کے رہنماؤں کے لیے ایک طرح کا قہر الٰہی تھا۔ بھارت کی دوسری ریاستوں میں کوئی بھی حکومت بنا سکتا ہے اور کوئی بھی پارٹی صاف و شفاف جمہوری عمل کے ذریعے اقتدار حاصل کرسکتی ہے مگر کشمیر کے لیے حالات مختلف ہیں کیونکہ کوئی بھروسہ نہیں کہ فلور پر آ کر اراکین اسمبلی کونسی زبان یا رخ اختیار کر سکتے ہیں۔ بھارتی سرکار پہلے اس کی ضمانت حاصل کرتی ہے کہ تمام منتخب لوگ متحد ہوکر وہی بات بولیں جو انہیں سکھائی گئی ہو۔ نیشنل کانفرنس کبھی کبھی اس سے مکُر جاتی ہے جس کی سزا اسکو کئی بار ملی بھی ہے۔ حالیہ انتخابات کے بعد یہ بولنا کہ شیخ خاندان سے چھُٹکارا ملنا آسان نہیں کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ حقیقت اصل میں یہ ہے کہ خود کشمیری شیخوں کے بنا اپنے آپ کو یتیم اور صغیر سمجھتے ہیں اور برصغیر کے عوام کی اس سوچ کو بدلنا انتہائی مشکل ہے۔
بھارتی اپنے آپ کو نہرو خاندان کے اثرسے کیا نکل پائے ہیں؟ وہ تو بھلا ہو سونیا گاندھی کا جس نے نہ صرف ایک فرمانبردار بہو کی مثال قائم کی بلکہ نہرو کی طرح یہاں کے عوام کا درد سمجھ کر ان کے ساتھ لگی لپٹی رہی ورنہ ایک ارب آْبادی کو رستہ دکھانے والا ایک رہنما بھی میسر نہیں ہوتا۔ پھر پاکستان پر نظر ڈالیے اگر زرداری جیل سے رہا نہیں ہوۓ ہوتے تو بچارے سولہ کروڑ عوام اس وقت شاید دوسرے ملکوں میں ایک لیڈر کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہوتے۔ کشمیر تو بھارت اور پاکستان کے مقابلے میں ایک چھوٹی سی جگہ ہے جہاں شیخ خاندان نے لوگوں پر ایسا جادو کیا ہے کہ نفرت کے اظہار کے باوجود وہ فاروق عبداللہ یا عمر عبداللہ کو سننے کے لیے بے قرار ہوتے ہیں۔ وہ کشمیر کو کئی بار چھوڑ کر چلے بھی گیے مگر یقین مانیے خود کشمیری منتیں کرکے انہیں واپس لائے۔ ایسے مناظر دیکھ کر خود بھارت سرکار کو بھی اپنی سوچ میں بار بار تبدیلی لانا پڑی اور نیشنل کانفرنس کو واپس اقتدار سنبھالنے پر منوانا پڑا۔ لوگ کہتے ہیں کہ انہوں نے بجلی پانی اور سڑک کے لیے جوق در جوق نیشنل کانفرنس کوووٹ ڈالے مگر گزشتہ ساٹھ برسوں میں کیا یہ مسائل پانچ فیصد بھی حل کیے گئے کہ اب کوئی انہیں حل کرنے میں دلچسپی لے۔ جب کسی قوم کی سمت نہیں ہوتی اسکا شیرازہ بکھر جاتا ہے اور اس کی قیادت محلوں میں تکیہ بناکر تقریریں کرتی ہے تواس قوم کی حالت کشمیر جیسی ہوتی ہے جہاں کسی کو یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ ووٹ دے، بھارت کے خلاف مظاہرہ کرے یا پاکستان کو کوسے۔ شیخ خاندان کا موجودہ جانشین تو پھر بھی سلُجھا اور پڑھا لکھا شخص ہے اور اپنے والد کے مقابلے میں سنجیدہ بھی اور ابھی تک کھری کھری بات کہنے کا قائل بھی۔ مگر جو ان کے خاندانی پیش رووں کی داستانیں ہیں اس میں جتنا قصور ان کا تھا اس سے زائد ان کے پیروکاروں کا جو ان کے نام پر کلمہ بھی پڑھنے لگے تھے اور ان کا ہاتھ ہمیشہ اپنےسر پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ کہ کشمیر کے موجودہ حالات کی ذمہ دار کسی حد تک خود نیشنل کانفرنس اور اس کے سربراہان ہیں۔ عمر عبداللہ چاہیں تو اپنے خاندان پر لگے اس داغ کو مٹا بھی سکتے ہیں۔ جو خون اب تک بہا، جو نسلیں برباد ہوئیں اور جو بربادی کی داستانیں رقم ہوئیں ہیں اس کو بدل کر ایک نیا باب رقم کرسکتے ہیں تاکہ وہ قرض ادا ہو جس کا ان کا خاندان ابھی تک مقروض ہے۔ |
اسی بارے میں عمرعبداللہ نے وزیر اعلٰی کا حلف اٹھالیا05 January, 2009 | انڈیا عمر عبداللہ کی خواہشیں، مشکلیں05 January, 2009 | انڈیا عمر کووزیرِ اعلی بنایا جائے:فاروق29 December, 2008 | انڈیا کشمیر: نیشنل کانفرنس کی کامیابی28 December, 2008 | انڈیا ’سیاسی استحکام کا قیام سب سے بڑا چیلنج‘28 December, 2008 | انڈیا سرینگر میں ووٹنگ کے دوران احتجاج24 December, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||