ریاض مسرور بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر |  |
 | | | ریاست کی وزارتِ اعلٰی کے لیے عمر عبداللہ کا نام سامنے آ رہا ہے |
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں اسمبلی انتخابات میں کوئی بھی جماعت واضح اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے تاہم جموں کشمیر نیشنل کانفرنس اٹھائیس نشستیں جیت کر سب سے بڑی جماعت کے طور سامنے آئی ہے۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اکیس نشستوں کے ساتھ دوسرے اور انڈین نیشنل کانگریس سترہ نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی نے گیارہ جبکہ دیگر جماعتوں نے دس نشتیں جیتی ہیں۔ بڑی ہندنواز جماعتوں نیشنل کانفرنس، کانگریس اور پی ڈی پی کے تمام کلیدی رہنماؤں نے چناؤ جیت لیا ہے اور تین سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ، مفتی محمد سعید اور غلام نبی آزاد ووٹوں کے بھاری فرق سے کامیاب ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ نیشنل کانفرنس کے صدر عمرعبداللہ، پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی اور کانگریس کے سابق صدر پیرزادہ محمد سعید نے بھی اپنے اپنے حلقے سے انتخاب جیت لیا ہے۔ مفتی محمد سعید کی پیپلز ڈیموکریٹِک پارٹی یعنی پی ڈی پی کوگزشتہ انتخابات کے مقابلے میں پانچ سیٹوں کا فائدہ ہوا ہے جبکہ فاروق عبداللہ کی نیشنل کانفرنس کی نشستوں کی تعداد برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے۔ جموں میں حالیہ احتجاجی تحریک کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی یعنی بی جے پی نے گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں دس نشستیں زیادہ جیتی ہیں اور اس کی وجہ سے وہاں نیشنل کانفرنس اور کانگریس کو دونوں کو نقصان ہوا ہے۔ کانگریس کو، جس نے گزشتہ انتخابات میں بائیس نشستیں جیتی تھیں اس مرتبہ سترہ نشستوں پر اکتفا کرنا پڑا ہے۔  | | | پی ڈی پی کے رہنما مفتی محمد سعید |
پی ڈی پی نے اپنے روایتی گڑھ جنوبی کشمیر کے علاوہ شمالی کشمیر میں بھی کچھ سیٹیں حاصل کی ہیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کو کم و بیش یکساں تعداد میں سیٹیں ملنے کی وجہ سے اب دونوں کی کوشش رہے گی کہ وہ کانگریس کو اقتدار میں شراکت کے لیے آمادہ کرے۔ واضح رہے کہ ستاسی رُکنی کشمیر اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے کسی پارٹی یا کسی سیاسی اتحاد کے پاس کم از کم چوالیس ممبران کا ہونا ضروری ہے۔ اس دوران کانگریس نے پہلے ہی واضح کر دیا ہے کہ وہ صرف اسی پارٹی کے ساتھ شراکت اقتدار کا معاہدہ کرے گی جس کے پاس سب سے زیادہ سیٹیں ہوں۔ نیشنل کانفرنس کے صدر عمر عبداللہ بھی اتوار کی دوپہر نئی دلّی سے براہ راست سرینگر آئے اور یہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بی جے پی کے ساتھ کسی سیاسی اتحاد کے امکان کو مسترد کر دیا۔ واضح رہے کہ فاروق عبداللہ اور مفتی سعید نے دو ہزار دو کے انتخابات میں حصہ نہیں لیا تھا۔ فاروق ہندوستانی پارلیمنٹ کے لیے نامزد کیے گئے جبکہ مفتی سعید نے وزیراعلی بننے کے چھ ماہ بعد پہلگام حلقے سے چناؤ لڑا اور فاتح قرار دیے گئے۔ دو ہزار دو میں ہی عمرعبداللہ کو ایک غیرمعروف پی ڈی پی کارکن قاضی محمد افضل کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی۔قابل ذکر ہے کہ دو ہزار دو کے انتخابات میں عبداللہ خانوادے کے سبھی اُمیدوار چناؤ ہار گئے تھے۔ |