عبداللہ سے عمر تک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں کانگریس کی حمایت یافتہ نیشنل کانفرنس حکومت کے وزیراعلیٰ بننے والے اڑتیس سالہ عمرعبداللہ کی خاندانی پہچان ان کے مختصر سیاسی سفر پر ابھی بھی بھاری ہے۔ وہ کشمیر کے معروف رہنما شیخ محمد عبداللہ مرحوم کے پوتے ہیں، اور یہ خصوصیت ان کی بُنیادی شناخت تصور کی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ شیخ عبداللہ نے سیاسی سفر کا آغاز اُنیس سو اِکتیس میں جاگیرداری نظام اور شخصی راج کے خلاف چلی تحریک سے کیا اور بلآخر تقسیم ہند کے بعد ریاست کے وزیرِ اعظم گئے۔ ان کی موت کے بعد ان کے فرزند فاروق عبداللہ جو عمرعبداللہ کے والد ہیں ریاست کے وزیراعلٰی بنے۔ وہ سن تراسی کے بعد ستاسی اور چھیانوے کی حکومتوں کے وزیراعلٰی بھی بنے۔ فاروق عبداللہ نے یورپی خاتون سے شادی کی اور عمرعبداللہ دس مارچ اُنیس سو ستّر کو راچفورڑ ایسیکس شہر میں پیدا ہوئے۔ لیکن عمر کی ابتدائی تعلیم سرینگر میں معروف عیسائی مشنری سکول برن ہال میں ہوئی۔ اس کے بعد وہ شملہ کے سماور اور ممبئی کے سِڈنم بزنس کالج میں زیرِ تربیت رہے۔ انہوں نے بزنس منیجمنٹ میں بھی تربیت حاصل کی ہے۔ عمرعبداللہ کی اڑتیس سالہ زندگی کا بیشتر حصہ لندن، دلّی اور ممبئی میں گذرا ہے۔ وہ پچھلے بارہ سال سے کشمیری زبان سیکھ رہے ہیں، لیکن ان کی کشمیری گفتگو ابھی بھی نیم پختہ ہے۔ تاہم وہ اُردو اور انگریزی پورے اعتماد سے بولتے ہیں، اور سیاسی مباحثوں میں اپنی بات کو مضبوط دلائل کے ساتھ پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جموں کشمیر پر چھ سالہ گورنر راج اور شورش کے بعد فاروق عبداللہ نے اُنیس سو چھیانوے میں دوبارہ حکومت سنبھالی تو عمر عبداللہ اُسوقت ممبئی میں کسی ’اچھی نوکری‘ کی تلاش کررہے تھے۔ چنانچہ اُنیس سو اٹھانوے میں ہندوستانی پارلیمان کے لیے انتخابات ہوئے تو عمرعبداللہ نے سرینگر حلقے سے چناؤ جیتا۔ اُنیس سو ننانوے میں پھر چناؤ جیتا اور بی جے پی کی قیادت والی مخلوط حکومت میں خارجی امور کی وزارت میں شامل کیے گئے۔ نائب وزیرخارجہ کی حیثیت سے انہوں نے سعودی عرب ،امریکہ اور بعض افریقی و یورپی ممالک کا دورہ کیا۔
دو ہزار ایک میں جب فاروق سرکار کی مدت اختتام کو پہنچی اور ان کے حریف مفتی محمد سعید کی بیٹی محبوبہ مفتی مقامی سیاست میں نمایاں ہونے لگیں، تو فاروق نے نیشنل کانفرنس کی صدارت عمر عبداللہ کو سونپ دی۔ لیکن عمرعبداللہ کا جادو نہیں چل پایا، اور پارٹی نے دو ہزار دو کے چناؤ میں اُنتیس سیٹوں پر شکست کھائی پارٹی کو صرف اٹھائیس سیٹیں مل پائیں۔ خود عمر کو ان کے خاندانی انتخابی حلقے گاندربل سے ایک غیر معروف سیاسی ورکر نے ووٹوں کے بھاری فرق سے ہرا دیا۔ تاہم وہ دو ہزار چار کے پارلیمانی انتخابات سرینگر حلقے سے جیت گئے۔عمرعبداللہ کے اقرباء کا کہنا ہے کہ وہ اپنے والد فاروق عبداللہ کے مقابلے سنجیدہ اور کم گو ہیں۔ عبداللہ فیملی کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ ’فاروق سیاست کو دل سے دیکھتے ہیں اور عُمر دماغ سے، فاروق منہ پھٹ ہیں اور عمر کم گو۔ عمر کی شادی اُنیس سو چورانوے میں سِکھ فرقہ سے تعلق رکھنے والی پائل نامی خاتون کے ساتھ ہوئی، جو بعد ازاں قبول اسلام کے بعد پائل عبداللہ بن گئیں۔ ان کا بڑا بیٹا شیخ ضامن بارہ سال کا ہے جبکہ چھوٹا بیٹا شیخ ظاہر آٹھ سال کا ہے۔ عمرعبداللہ گو کہ ہونہار اور باوصف نوجوان ہیں، جو سیاست کی ابجد سے پہلے ہی واقف ہوچکے ہیں، لیکن سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس قدر کم وقت میں اتنی بڑی کامیابی کے پیچھے گاندھی خاندان کے ساتھ ان کے اچھے مراسم کا کلیدی کردار ہے۔
عمرعبداللہ کانگریس کی صدر اور حکمران یو پی اے کی سربراہ سونیا گاندھی کے فرزند راہُل گاندھی کے دوست ہیں۔ یہاں تک کہ پارلیمنٹ میں دونوں کی نشستیں ساتھ ساتھ ہوتی ہیں۔ راہُل اور عمر کے درمیان بعض پہلوؤں کے اعتبار سے دلچسپ مماثلت ہے۔ دونوں کم عمری میں ہی اور تقریباً ایک ساتھ سیاست میں آئے، دونوں کو سیاسی اقتدار ورثے میں ملا ہے (راہُل ابھی صرف پارلیمنٹ ممبر ہیں، کانگریس انہیں وزیراعظم کے امیدار کے طور پر اگلے الیکشن میں پیش کرسکتی ہے، دونوں مغرب کے صنعتی اور معاشی نظام سے متاثر ہیں، دونوں تبدیلی لانا چاہتے ہیں اور دونوں کی مائیں یورپی نژاد ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ عمرعبداللہ کے والد فاروق عبداللہ اور راہُل گاندھی کے والد راجیو گاندھی نے اُنیس سو ستاسی میں کشمیر پر ’راجیو۔فاروق‘ معاہدہ کیا تھا لیکن ایک سال بعد کشمیر میں مسلح شورش برپا ہوگئی۔ پانچ جنوری دوہزار نو کو جب جموں میں عمرعبداللہ نے جموں کشمیر کے وزیراعلٰی کی حیثیت سے حلف لیا تو ان کے والد اور سابق وزیراعلٰی فاروق عبداللہ نے نامہ نگاروں سے کہا مجھے میرے والد شیخ محمد عبداللہ مرحوم کے الفاظ یاد آتے ہیں۔ وہ کہتے تھے یہ کانٹوں کا تاج ہے، اور مجھے (عمر کے سر پر کانٹوں کا) وہی تاج نظر آتا ہے‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||