عمر عبداللہ کی خواہشیں، مشکلیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں یہ سوال ہرطبقہ میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے کہ آیا صوبے میں اب تک کے سب سے کم عمر وزیراعلٰی عمرعبداللہ جموں کشمیر کی صورتحال پر کوئی مثبت اثر مرتب کرپائیں گے یا نہیں؟ گو کہ اکثر سیاسی حلقے، جن میں ان کے حریف مفتی محمد سعید بھی شامل ہیں، عمرعبداللہ کی قابلیت کا اعتراف کرتے ہیں، لیکن کشمیر کے پیچیدہ حالات کو دیکھتے ہوئے مبصرین کا بڑا حلقہ سمجھتا ہے کہ عمرعبداللہ کے لیے اقتدار بہت بڑے چیلنج لے کر آیا ہے۔ ان کا پہلا چیلنج ان سے وابستہ توقعات ہیں ۔ خود عمرعبداللہ بھی ان کے بارے میں پیدا شدہ توقعات سے قدرے مخدوش ہیں۔ جموں روانگی سے قبل بی بی سی کے ساتھ ایک گفتگو کے دوران انہوں نے کہا واضح رہے عمرعبداللہ اچھی انگریزی بولتے ہیں، نئی دلّی میں نائب وزیرخارجہ کے عہدے پر فائز رہ کر انہوں نے دُنیا بھر کی سیر کی ہے، وہ پہلے وزیراعلٰی ہیں جو پاکستان میں سیاسی اور فوجی قیادت کے ساتھ ملاقاتیں کرچکے ہیں اور اپنے والد فاروق عبداللہ کے مقابلہ میں سنجیدہ مزاج کے مالک ہیں۔
سیاسی مبصر ڈاکڑ سلیم رحمٰن کہتے ہیں ’ یہ سب صفات کشمیر جیسے پیچیدہ صورتحال والے صوبے پر کامیاب حکومت کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ عمر کا چلینج یہ کہ ان کا نظریہ کشمیر نواز ہے اور انہوں نے اقتدار میں انڈین نیشنل کانگریس کو شریک کردیا ہے۔ اصل میں انہیں صرف تعمیر و ترقی کی بات کرنے میں آسانی ہوگی، کیونکہ کانگریس کو بی جے پی کا مقابلہ ہے، وہ نہیں چاہے گی کہ جموں کشمیر میں جس پارٹی کے ساتھ وہ اقتدار میں شامل ہے وہ علیحدگی پسندانہ بات کرے۔ چند ماہ میں پارلیمانی الیکشن ہے۔ یہ تو اگلے ایک سال میں پتہ چلے گا کہ عمر کتنا آگے جا پائیں گے۔‘ عمرعبداللہ کے بیانات کی روشنی میں حساس حلقوں کا ماننا ہے کہ وہ اپنے ایجنڈے کو محض تعمیروترقی تک محدود نہیں رکھنا چاہتے ہیں، بلکہ اس میں مسئلہ کشمیر، عوامی انصاف اور دیگر پہلوؤں کو بھی ملانا چاہتے ہیں۔ پیر کے روز حلف برداری سے ذرا قبل انہوں نے جموں میں ایک ٹیلی ویژن چینل سے کہا کہ’امرناتھ بورڑ کو زمین کی منتقلی کے معالے پر حال ہی میں علاقائی اور فرقہ وارانہ خطوط پر ہوئے تشدد سے جو زخم لگے ہیں ان پر مرہم لگانا ضروری ہے۔‘ اس سے قبل وہ ناانصافیوں کی فہرست مرتب کرنے کے لیے جنوبی افریقہ میں قائم ٹرُوتھ اینڈ ری کَنسی لِیشن کمیشن کی طرز پر جموں کشمیر میں ایک کمیشن کا قیام چاہتے ہیں۔
واضح رہے جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کے خلاف تحریک کی کامیابی کے بعد یہ کمیشن نوے کی دہائی کے دوران وہاں کے مقبول رہنما نیلسن منڈیلا نے عالمی اداروں کی معاونت سے قائم کیا تھا۔ اس کا مقصد اکثریتی سیاہ فام آبادی کے خلاف سفید فام اقلّیت کے مظالم کی تفتیش کرنا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ الیکشن سے قبل بائیس جولائی دو ہزار سات کو پارلیمنٹ میں عمر عبداللہ نے ہندوانتہاپسندوں کے خلاف جو تقریر کی اسے بھی بیشتر کشمیری حلقوں نے سراہا۔ امرناتھ زمین تنازعہ کے پس منظر میں کی گئی اس تقریر میں انہوں نے کہا تھا: ’ہم جان دینگے ، لیکن زمین کی ایک انچ بھی نہیں دینگے۔‘ سماجی کارکن ایک سِکھ رہنما جگدیش سنگھ آزاد کہتے ہیں ’عالمی کمیشن کی بات کہہ کر عمر عبداللہ نے علیحدگی پسندوں کے ایجنڈے کی طرف اشارہ کیا ہے اور مرہم لگانے کی بات کر کے انہوں نے موجود سیاسی مزاج کی بات کی ہے۔ دونوں باتیں اچھی ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ عمرعبداللہ کی حکومت میں کانگریس برابر کی شریک ہے۔ کیا وہ دلّی والوں کو مسئلہ کشمیر سے متعلق کسی تاریخی اقدام کے لیے آمادہ کرپائیں گے؟‘ کشمیریونیورسٹی میں شعبہ سیاستات پروفیسر گُل محمد وانی کہتے ہیں، |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||