’سیاسی استحکام کا قیام سب سے بڑا چیلنج‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جموں و کشمیر کی ستاسی رکنی اسمبلی میں نیشنل کانفرنس اٹھائیس نشتیں حاصل کر کے سب سے بڑی پارٹی بن کر اُبھری ہے۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی یا پی ڈی پی اکیس سیٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے جبکہ سترہ نشتوں کے انتخابی نتائج کانگریس کے حق میں ہیں۔ باقی ماندہ اکیس سیٹوں میں سے ہندوتوا نواز بی جے پی نے سب سے زیادہ یعنی گیارہ سیٹوں پر قبضہ جمالیا ہے اور دیگر دس سیٹیں پینتھرس پارٹی اور آزاد اُمیدواروں کے درمیاں بٹ گئیں۔ نتائج سامنے آنے کے بعد دو اہم سوال اُبھرے ہیں۔ ایک سوال کا تعلق حکومت سازی سے ہے جبکہ ایک لانگ ٹرم سوال یہ ہے کہ نئی حکومت یہاں کی علیحدگی پسندانہ سوچ کو قابو کرنے میں کامیاب ہوگی یا نہیں۔ حکومت سازی کے حوالے سے اگلے دو یا تین روز تک غیریقینی صورتحال بنے رہنے کا امکان ہے کیونکہ نیشنل کانفرنس نے اکثریتی جماعت ہونے کی بنا پر اپنے اس آئینی حق کا اظہار کرلیا ہے کہ وہ حکومت بنانے میں پہل کرے گی اور اقتدار میں شراکت کے لیے کانگریس کو ترجیح دے گی۔
نیشنل کانفرنس کے صدر عمرعبداللہ اور پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے چناؤ جیتنے کے فوراً بعد الگ الگ بیانات میں یہ اعلان کر ڈالا کہ وہ کانگریس کے ساتھ شراکت اقتدار کے لیے مذاکرات کا آغاز کریں گے۔ لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ جموں میں بی جے پی کو کم از کم دس سیٹوں کا فائدہ اور امسال گرما میں پی ڈی پی کی بغاوت سے کانگریس سرکار کا گِرجانا دو ایسے پہلو ہیں جن پر کانگریس ہائی کمان تذبذب میں ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق گو کہ عبداللہ اور گاندھی خانوادوں کے درمیان کشیدگی کی طویل تاریخ ہے لیکن عمرعبداللہ اور راہُل گاندھی کے مابین حالیہ برسوں میں بنے گہرے مراسم نیشنل کانفرنس کو سونیا گاندھی اور منموہن سنگھ کا چہیتا بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ قابل ذکر ہےکہ کانگریس نے دو ہزار دو کے انتخابات میں بائیس سیٹیں حاصل کی تھیں۔ اس بار اسے صرف سترہ نشستیں ملی ہیں۔ پانچ سیٹوں کے نقصان کے باوجود کانگریس کا نئی حکومت سازی میں کلیدی رول ہے، کیونکہ نیشنل کانفرنس یا پی ڈی پی چوالیس سیٹوں کا جادوئی سکور حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں اور پھر آزاد اُمیدواروں کی تعداد بھی دس سے زیادہ نہیں ہے۔
نئی حکومت سازی کے لئے کانگریس این سی یا پی ڈی پی میں سے کس کو ترجیح دے گی؟ اس بارے میں مختلف حلقے مختلف رائے رکھتے ہیں۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ مفتی محمد سعید چونکہ سونیا گاندھی اور منموہن سنگھ کے قریب ہیں، لہٰذا فیصلہ ان ہی دو شخصیات کی مرضی کے مطابق ہوگا۔ تاہم عددی قلّت بھی ایک رکاوٹ ہے۔ کانگریس کی سترہ اور پی ڈی پی کی اکیس سیٹیں ملا کر واضح اکثریت میں چھ نشستیں کم ہونگی۔ اگر پی ڈی پی کا الائنس کانگریس کے ساتھ ہوتا ہے تو اسے آزاد اُمیدواروں میں سے کم از کم چھ ممبران کی حمایت درکار ہوگی۔ لیکن اگر نیشنل کانفرنس اور کانگریس الائنس پر آمادہ ہوتے ہیں تو این سی کی اٹھائیس اور کانگریس کی سترہ سیٹوں کو ملا کر دونوں کی عددی قوت پینتالیس بن جاتی ہے جو مطلوبہ اکثریت سے ایک زیادہ ہے۔ اگر کانگریس نے این سی کو ترجیح دی تو یہ محض عددی ضرورت کی بنیاد پر نہیں ہوگا۔ اس کا ایک پس منظر ہے۔ پی ڈی پی نے بی جے پی کی طرح ہی کشمیر میں مُسلم نواز نعرہ دیا۔ امرناتھ شرائن بورڑ کو زمین کی منتقلی میں گو کہ پی ڈی پی کے ہی دو سینئر وزراء شامل تھے، پی ڈی پی نے جولائی میں کانگریس کے ساتھ شراکت اقتدار کا معاہدہ توڑ دیا اور حکومت تحلیل ہوگئی۔
لیکن اس معاملے پر بھی کانگریس کی ہائی کمان اور پی ڈی پی قیادت کے درمیان کچھ زیادہ تلخی پیدا نہیں ہوئی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ مفتی سعید چونکہ بہت سینئیر کانگریسی ہیں، لہٰذا نئی دلّی میں کانگریس کی اعلیٰ قیادت میں ان کی خوب رسائی ہے۔ کانگریس نے اگر حکومت سازی کے لئے پی ڈی پی کی بجائے این سی کو چُن لیا تو اس کی وجہ پی ڈی پی کی ناپسندیدگی نہیں بلکہ جموں میں بی جے پی کو ملنے والی گیارہ سیٹیں ہیں۔ تجزیہ نگار طارق علی میر کہتے ہیں: ’جموں میں نیشنل کانفرنس کا زیادہ نقصان نہیں ہوا۔ یہ تو کانگریس کا ووٹ بینک ہے جس پر بی جے پی نے قبضہ کرلیا۔ اور بی جے پی تو پی ڈی پی کو علیحدگی پسند جماعت سمجھتی ہے۔ اگر کانگریس نے دوبارہ پی ڈی پی کو گلے لگایا تو اس حکومت کے لیے ٹِکنا بہت مشکل ہو جائے گا۔ کانگریس استحکام چاہتی ہے تاکہ وہ لوک سبھا الیکشن میں جموں کشمیر سے زیادہ سے زیادہ سیٹیں جیت سکے۔‘ ظاہر ہے بی جے پی کو سیاسی فائدہ حالیہ دنوں جموں میں چونسٹھ روز تک جاری رہنے والے کشمیر مخالف احتجاج کی بدولت ہوا ہے۔ مبصرین کو خدشہ ہے کہ آئندہ جون میں جب ایک بار پھر امرناتھ یاترا شروع ہوگی، تو بی جے پی اپنی شرطوں پر یاترا منعقد کروانے کے لیے یہاں کی حکومت پر دباؤ ڈالے گی۔ اس طرح دوبارہ کشیدگی کا امکان ہے۔ اور ان خدشات کو تقویت ملنے کا خدشہ ہے کہ انتہائی پُرامن ماحول میں منعقد ہونے کے باوجود یہ انتخابات یہاں علیحدگی پسندی کی تحریک کے لیے ایندھن کا کام کرینگے۔
سیاسی مبصر جاوید صدیق میر کا کہنا ہے کہ ’ان نتائج سے تو لگتا ہے کہ جموں کا ہندو ووٹ مستحکم ہوا ہے اور پورے صوبے کا مُسلم ووٹ کانگریس، نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی میں بکھر گیا ہے۔ جموں میں پہلے ہی علیحدہ ریاست کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔جب بی جے پی مضبوط ہوگی تو یہاں کے لوگوں کو یہ احساس دلانے کی ضرورت ہی نہیں کہ انہیں کس سے خطرہ ہے۔ ‘ ’ابھی اقتصادی ناکہ بندی اور مسلم کش فسادات کل ہی کی بات ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حریت کانفرنس اپنی ناکامیوں اور نااہلی کے باجودو ایک بار پھر سیاسی منظر پر اُبھرے گی۔‘ مبصرین کا غالب حلقہ اس بات پر متفق نظر آتا ہے کہ اسمبلی انتخابات کے نتائج جموں اور کشمیر کے ہندو اور مسلم اکثریتی خطوں میں بٹ جانے کی وجہ سے اگلی حکومت کے لیے ریاست میں سیاسی استحکام قائم رکھنا سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔ |
اسی بارے میں عسکریت سے فوج کی جاسوسی تک17 December, 2008 | انڈیا بدلے بدلے میرے سرکار نظر آتے ہیں19 December, 2008 | انڈیا آخری مرحلے کی پولنگ مکمل24 December, 2008 | انڈیا کشمیر: نیشنل کانفرنس کی کامیابی28 December, 2008 | انڈیا ’ہم دل سے ووٹ نہیں ڈالتے‘30 November, 2008 | انڈیا ہند پاک رشتوں کی بہتری کی شرط14 December, 2008 | انڈیا سری نگر میں ’غیر اعلانیہ کرفیو‘21 November, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||