BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 December, 2008, 13:20 GMT 18:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آخری مرحلے کی پولنگ مکمل
فائل فوٹو
علیحدگی پسند جماعتوں نے انتخابات کا بائیکاٹ کر رکھا ہے
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں ساتویں اور آخری مرحلے کی پولنگ تشدد کے اکا دُکا واقعات کے درمیان بدھ کے روز مکمل ہوگئی۔

آخری مرحلے میں انتہائی سخت اقدامات کے درمیان سری نگر ضلع کی آٹھ اور جموں کی تیرہ سیٹوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔ سری نگر میں مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور پولیس کی کارروائی میں نو لوگ زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں پولیس کے دو جوان بھی شامل ہیں۔

سری نگر میں نیم فوجی دستوں اور ریاستی پولیس کے ہزاروں جوان تعینات کیے گئے تھے۔

سری نگر میں پولنگ سے قبل علیحدگی پسندوں نے ’لال چوک چلو‘ کا نعرہ دیا تھا جس کے پیش نظر لوگوں کو اپنے گھروں میں ہی رہنے کو کہا گیا تھا۔ کئی جگہ خاردار تار لگائی گئی تھی۔

نامہ نگار الطاف حسین کے مطابق یہ پہلی بار ہے کہ پولنگ سے قبل پورے شہر میں کرفیو لگا دیا گیا تھا جس سے عام زندگی متاثر ہوئی۔

صوبائی انتظامیہ کرفیو کے نفاذ سے انکار کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ لوگوں کی حفاظت کے لئے بعض ’اضافی اقدامات‘ کئے گئےتھے۔

انتخابات سے ایک روز پہلے کشمیر پولیس نے دعوٰی کیا کہ اس نے جموں میں تین لوگوں کو گرفتار کیا ہے جو وہاں دھماکہ کرنا چاہتے تھے۔

انڈین پولیس نے دعوٰی کیا ہے کہ گرفتار کیے جانے والے افراد میں ایک کا تعلق پاکستان آرمی سے ہے جب کہ دو کا کالعدم تنظیم جیش محمد سے ہے۔ پاکستان نے الزامات پر کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔

کشمیر کے علیحدگی پسند جماعتوں نے انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل کی تھی۔

سرینگر میں چناؤ کے آخری مرحلہ کے دوران عوامی مزاحمت کے امکانات کو دیکھتے ہوئے یہاں کے تمام سات سو نوے پولنگ بُوتھوں کو حساس ترین درجہ میں رکھا گیا ہے۔

پچھلے چھہ مرحلوں میں وادی کے تمام انتخابی حلقوں میں اوسطاً ساٹھ فی صد پولنگ ہوئی جو دو ہزار دو کے مقابلے زیادہ تھی۔

پولیس صرف اسی شہری کو سڑک پر چلنے کی اجازت دے رہی تھی جو ووٹ ڈالنے کے لئے گھر سے نکلے اور اس کے ہاتھ میں ووٹر فہرست میں نام کے اندراج کی پرچی ہو۔

سری نگر کے آٹھ انتخابی حلقوں کے لئے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ، جو حضرت بل اور سونہ وار سے بیک وقت چناؤ لڑ رہے ہیں، سمیت ایک سو باون امیدوار قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔ سرینگر میں چناوی مہم کے دوران کئی مرتبہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کارکنوں کے درمیان تصادم آرائیاں ہوئیں۔

اسی بارے میں
ووٹ پڑے تو؟
22 November, 2008 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد