BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 December, 2008, 18:32 GMT 23:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرینگر میں ووٹنگ کے دوران احتجاج
سرینگر میں احتجاج پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا
سرینگر میں ریاستی ا نتخابات کے ساتویں اور آخری مرحلے کی ووٹنگ کے دوران احتجاج ہوا جس میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم میں کئی افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ پولیس پر پتھراؤ اور اس کے بعد لاٹھی چارج میں کم از کم نو افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ زخمی ہونے والوں میں دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے ان مظاہروں کے علاوہ بھارت کے زیر انتظام کشیمر کے مختلف علاقوں میں آخری مرحلے کی ووٹنگ کے دوران مجموعی طور پر کوئی ناخوشگوار واقعہ نہیں ہوا۔


کشمیر میں علیحدگی پسند تنظیمیں ان انتخابات کا بائیکاٹ کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان انتخابات میں حصہ لینا بھارت کے کشمیر پر تسلط کو جائز قرار دینے کے مترادف ہے۔

کشمیر میں انتخابات کئی ہفتوں کے وقفے سے مرحلہ وار کرائے گئے جس سے حکام کو سکیورٹی فورسز کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لیجانے کا وقت بھی مل گیا۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت سرینگرمیں حکام نے غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کر رکھا تھا اور شہر کے ہر چوراہے پر بھاری تعداد میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار تعینات تھے۔

ہزاروں کی تعداد میں مسلح فوجی اور پولیس اہلکار سرینگر کی سنسان گلیوں میں گشت کرتے رہے۔

کچھ چوراہوں اور سڑکوں کو ناکے لگا کر مکمل طور پر سیل کر دیا گیا تھا تاکہ وہاں لوگ جمع نہ ہو سکیں۔

کشمیر کے دیگر علاقوں میں ووٹ ڈالنے والوں کی شرح غیر متوقع طور پر زیادہ رہی لیکن سرینگر کے حلقوں میں بہت کم ووٹ ڈالے گئے۔

ان ریاستی انتخابات میں سرینگر میں کل رجسٹرڈ ووٹروں کے دس فیصد سے بھی کم نے ووٹ ڈالے۔

ووٹنگ والے دن دکانیں، مارکیٹیں، سرکاری دفاتر اور بینک بند رہے۔ زیادہ تر کشمیروں کا خیال ہے کہ یہ پابندیاں غیر ضروری اور ظالمانہ ہیں۔

حکام کا کہنا تھا کہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر انہیں اس طرح کے سخت اقدامات اٹھانے پڑے۔

ایک ووٹر میراج الدین نے کہا کہ وہ اس لیے ووٹ ڈالے رہے ہیں تاکہ بہتر لوگ ریاست پر حکمران کے لیے منتخب کیئے جا سکیں۔

انہوں نے فرانسیسی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ انہوں نے ایسے امیدوار کو ووٹ ڈالے ہے جو علاقے کی ترقی کے لیے بہتر طور پر کام کر سکتا ہے۔

سرینگر کے کچھ دیگر باسیوں نے جن میں ادریس شاگلو شامل تھے کہا کہ وہ ووٹ نہیں ڈال رہے۔

ادریس شاگلو نے کہا کہ ’ہم بھارت سے آزادی چاہتے ہیں اس لیے ووٹ نہیں ڈال رہے۔‘

اسی بارے میں
کشمیر: کڑے پہرے میں ووٹنگ
24 December, 2008 | انڈیا
آخری مرحلے کی پولنگ مکمل
24 December, 2008 | انڈیا
سرینگر : چناؤ سے قبل تناؤ
19 December, 2008 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد