BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 December, 2008, 04:11 GMT 09:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: کڑے پہرے میں ووٹنگ
فائل فوٹو
علیحدگی پسند جماعتوں نے انتخابات کا بائیکاٹ کر رکھا ہے
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے دونوں دارالحکومتوں، جموں اور سرینگر میں انتخابات کے آخری مرحلے میں ووٹنگ شروع ہوگئی ہے۔

مقامی انتظامیہ نے انتہائی سخت سکیورٹی انتظامات کئے ہیں اور سرینگر میں ہزاروں سکیورٹی اہلکار تعینات کیے ہیں۔ شہر میں کرفیو سا سماں ہے۔

صوبائی انتظامیہ کرفیو کے نفاذ سے انکار کرتی اور اس کا کہنا ہے کہ لوگوں کی حفاظت کے لئے بعض ’اضافی اقدامات‘ کئے گئے ہیں۔

انتخابات سے ایک روز پہلے کشمیر پولیس نے دعوٰی کیا ہے کہ اس نے جموں میں تین لوگوں کو گرفتار کیا ہے جو وہاں دھماکہ کرنا چاہتے تھے۔

انڈین پولیس نے دعوٰی کیا ہے کہ گرفتار کیے جانے والے افراد میں ایک کا تعلق پاکستان آرمی سے ہے جبکہ دو کالعدم تنظیم جیش محمد سے ہے۔ پاکستان نے الزامات پر کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔

کشمیر کے علیحدگی پسند جماعتوں نے انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے اور اعلان کر رکھا ہے کہ وہ لالچوک تک احتجاجی مارچ کریں گے۔

واضح رہے کہ سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں پچھلے سات جمعہ سے نماز نہیں ہوسکی ہے کیونکہ علیحدگی پسندوں کی کال کے پیش نظر ہر ہفتہ جمعرات سے ہی مسجد کا محاصرہ کیا جاتا ہے اور وہاں عام لوگوں کی نقل و حمل یا بھاری اجتماع کی اجازت نہیں دی جاتی۔

سرینگر میں چناؤ کے آخری مرحلہ کے دوران عوامی مزاحمت کے امکانات کو دیکھتے ہوئے یہاں کے تمام سات سو نوے پولنگ بُوتھوں کو حساس ترین درجہ میں رکھا گیا ہے۔

پچھلے چھہ مرحلوں میں وادی کے تمام انتخابی حلقوں میں اوسطاً ساٹھ فی صد پولنگ ہوئی جو دو ہزار دو کے مقابلے زیادہ تھی۔ سرینگر کو انتخابات کے حوالے سے حساس سمجھا جا رہا ہے۔

پولیس صرف اسی شہری کو سڑک پر چلنے کی اجازت دے رہی ہے جو ووٹ ڈالنے کے لئے گھر سے نکلے اور اس کے ہاتھ میں ووٹر فہرست میں نام کے اندراج کی پرچی ہو۔

سرینگر میں آٹھ انتخابی حلقے ہیں جو اندرون شہر، لالچوک اور سِول لائنز وغیر کے علاوہ سیکنڑوں دیہی بستیوں پر مشتمل ہیں۔

ان آٹھ انتخابی حلقوں کے لئے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ، جو حضرتبل اور سونہ وار سے بیک وقت چناؤ لڑ رہے ہیں، سمیت ایک سو باون امیدوار قسمت آزمائی کررہے ہیں۔ سرینگر میں چناوی مہم کے دوران کئی مرتبہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کارکنوں کے درمیان تصادم آرائیاں ہوئیں۔

اسی بارے میں
ووٹ پڑے تو؟
22 November, 2008 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد