BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 December, 2008, 15:02 GMT 20:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرینگر، الیکشن سے قبل محاصرہ

فائل فوٹو
انتخابات سے پہلے ہی وادی فوج کی چھاؤنی لگتی ہے
ہندوستانی زیرانتظام کشمیر کے دونوں دارالحکومتوں ، جموں اور سرینگر میں ُبدھ کو منعقد ہونے والے انتخابات کے آخری مرحلے سے قبل مقامی انتظامیہ نے انتہائی سخت سکیورٹی انتظامات کئے ہیں۔

اندورن شہر میں سوموار کی صبح سے شام تک بغیر اعلان کے کرفیو نافذ کیا گیا جس کے دوران شہر کی تقریباً نصف آبادی محصور ہوکر رہ گئی۔

منگل کے روز مزید سخت پابندیوں کے خدشہ سے لوگوں نے سوموار کو ہی ضروری اشیاء کی خریداری کرلی ہے۔

صفاکدل کے عبدالمجید نے بی بی سی کو بتایا : ’جب ہم صبح فجر کی نماز سے واپس آرہے تھے تو ہم نے دیکھا کہ بھاری تعداد میں نیم فوجی عملہ گشت کررہا ہے۔ مسلح اہلکار لوگوں سے کہہ رہے تھے کہ آج گھروں میں ہی رہنا۔‘

واضح رہے کہ سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں پچھلے سات جمعہ سے نماز نیہں ہوسکی ہے کیونکہ علیحدگی پسندوں کی کال کے پیش نظر ہر ہفتہ جمعرات سے ہی مسجد کا محاصرہ کیا جاتا ہے اور وہاں عام لوگوں کی نقل و حمل یا بھاری اجتماع کی اجازت نہیں دی جاتی۔

تاہم صوبائی انتظامیہ کے سربراہ مسعود سامون نے کرفیو کے نفاذ سے انکار کیا اور اپنے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ ’لوگوں کی حفاظت کے لئے بعض اضافی اقدامات کئے جارہے ہیں۔‘

قابل ذکر ہے کہ سرینگر میں چناؤ کے آخری مرحلہ کے دوران عوامی مزاحمت کے امکانات کو دیکھتے ہوئے یہاں کے تمام سات سو نوے پولنگ بُوتھوں کو حساس ترین درجہ میں رکھا گیا ہے۔

پچھلے چھہ مرحلوں میں وادی کے تمام انتخابی حلقوں میں اوسطاً ساٹھ فی صد پولنگ ہوئی جو دو ہزار دو کے مقابلے زیادہ تھی۔ سرینگر کو انتخابات کے حوالے سے حساس سمجھا جارہا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ اندرون شہر میں جامع مسجد ہے اور اس کے گردونواح کا علاقہ، نوہٹہ، گوجوارہ، رعناواری وغیرہ عوامی مظاہروں اور پتھراؤ کے لئے مشہور ہے۔

بعض اخبارات شہر کے اندرونی علاقے کو کشمیر کی ’غزہ پٹی‘ کہتے ہیں۔

پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ بدھ کو سکیورٹی پابندیوں کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’سیدعلی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق، محمد یٰسین ملک یا شبیر شاہ سبھی سرینگر میں مقیم ہیں اور یہیں سیاست کرتے ہیں۔ لہٰذا انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ پولنگ میں گڑبڑ پھیلانے پر آمادہ عناصر سرینگر کے انتخابات میں زیادہ سرگرم ہونگے۔‘

پولیس افسر نے انکشاف کیا کہ مقامی انتظامیہ اور پولیس کے درمیان ایک اجلاس میں یہ طے پایا ہے کہ شہرمیں صرف اسی شہری کو سڑک پر چلنے کی اجازت ہوگی جو ووٹ ڈالنے کے لئے گھر سے نکلے اور اس کے ہاتھ میں ووٹر فہرست میں نام کے اندراج کی پرچی ہو۔

دو ماہ سے اپنے ہی گھر میں نظربند میرواعظ عمرفاروق نے بی بی سی کو فون پر بتایا: ’حکومت ہند کا اصرار ہے کہ یہاں ہونے والے الیکشن جمہویت کا حصہ ہیں۔ لیکن یہ الیکشن کرانے کے لئے پوری آبادی کو محصور کیا جارہا ہے۔ ہم تو یہ مسلہ اقوام متحدہ میں جمہوریت کے چارٹر کی روشنی میں عالمی برادری کے سامنے رکھیں گے۔‘

سرینگر میں آٹھ انتخابی حلقے ہیں جو اندرون شہر، لالچوک اور سِول لائنز وغیر کے علاوہ سیکنڑوں دیہی بستیوں پر مشتمل ہیں۔ سرینگر کے ایک تاجر محمد عبداللہ زرّو کہتے ہیں : ’مجھے لگتا ہے بٹہ مالو، امیراکدل، خانیار وغیرہ حلقوں میں بائیکاٹ کا خاصا اثر رہے گا اور مظاہرے بھی ہونگے، لیکن مضافات میں لوگوں کی خاصی تعداد ووٹ بھی ڈالے گی۔‘

ان آٹھ انتخابی حلقوں کے لئے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ، جو حضرتبل اور سونہ وار سے بیک وقت چناؤ لڑ رہے ہیں، سمیت ایک سو باون امیدوار قسمت آزمائی کررہے ہیں۔ سرینگر میں چناوی مہم کے دوران کئی مرتبہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کارکنوں کے درمیان تصادم آرائیاں ہوئیں۔

اسی بارے میں
ووٹ پڑے تو؟
22 November, 2008 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد