’کشیدگی پاکستان ہی ختم کرسکتاہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی قومی انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر ڈینس بلیئر کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان موجود کشیدگی کے خاتمے کی چابی پاکستان کے پاس ہے اور اسے کشیدگی ختم کرنے کے لیے اسلامی شدت پسندوں کے خلاف سخت کارروائی کرنا ہو گی۔ ڈینس بلیئر نے یہ بات جمعرات کو سینیٹ سلیکٹ کمیٹی کے سامنے اپنے پہلے سالانہ بیان میں کہی۔ خیال رہے کہ جمعرات کو ہی حکومتِ پاکستان نے ممبئی حملوں کے حوالے سے تحقیقاتی رپورٹ جاری کرتے ہوئے پہلی بار یہ اعتراف کیا تھا کہ ممبئی حملوں کی سازش کے کچھ حصے پاکستان میں تیار ہوئے تھے۔ پاکستان کی جانب سے رپورٹ کے اجراء کے بعد امریکی اور بھارتی وزارتِ خارجہ نے تحقیقاتی رپورٹ کے اجراء کو ایک مثبت قدم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ رپورٹ اس بات کا اظہار ہے کہ پاکستان ممبئی حملوں کے ذمہ دار افراد سے نمٹنے کے تئیں سنجیدہ ہے۔ تاہم امریکی محکمۂ خارجہ کے بیان کے برعکس ڈینس بلیئر کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان نے اسلامی شدت پسندوں کے خلاف سخت کارروائی نہ کی تو بھارت یہ سوچنے پر مجبور ہو سکتا ہے کہ وہ سکیورٹی خطرات سے پُر اس خطے میں ایک بڑی لڑائی چھیڑ دے۔
امریکی قومی انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر نے کہا کہ ’تعلقات میں بہتری کی پاکستانی اور بھارتی رہنماؤں کی کوششیں اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتیں جب تک پاکستان، بھارت مخالف شدت پسند گروہوں کی پاکستان حکومت کی جانب سے مدد کے حوالے سے بھارتی تشویش کے خاتمے کے لیے ٹھوس اور بامقصد اقدامات نہیں کرتا‘۔ ڈینس بلیئر کا کہنا تھا گزشتہ برس نومبر میں’ممبئی حملوں نے بہت سے بھارتیوں کو یقین دلا دیا ہے پاکستان کے فوجی لیڈر بھارت کے بین الاقوامی تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے اب اس حکمتِ عملی کے حق میں ہیں کہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے گروپوں کو دنیا میں بھارت کی پہچان سمجھے جانے والے اہداف کو نشانہ بنانے یا پھر مذہبی تشدد پھیلا کر بھارتی شبیہہ کو بگاڑنے کی اجازت دی جائے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی نہ کرنے کی صورت میں اب بھارتی عوام وہ واضح اقدامات چاہتی ہے جن سے ظاہر ہو کہ پاکستان ان حملوں کے ذمہ دار افراد کو سزا دینے اور اپنے مقامی دہشتگرد گروہوں کی بیخ کنی کے لیے کوشاں ہے‘۔ ڈینس بلیئر نے خبردار کیا کہ اگر ممبئی حملوں جیسے واقعات دوبارہ پیش آتے ہیں تو یہ علاقے میں پاک بھارت جنگ چھڑنے کی وجہ بن سکتے ہیں۔ القاعدہ اور فاٹا انہوں نے کہا کہ ’سنہ 2008 سے القاعدہ اپنے کماندار ڈھانچے کا ایک اہم حصہ کھو چکی ہے اور پاکستان میں القاعدہ کی مرکزی کمان پر ہمارے اور ہمارے اتحادیوں کے شدید دباؤ اور عراق میں القاعدہ کے حامیوں میں کمی کی وجہ سے آج القاعدہ اتنی قابل اور بااثر نہیں رہی جتنی وہ ایک برس قبل تھی‘۔ان کا کہنا تھا کہ تھوڑے عرصے میں متعدد اہم رہنماؤں کی ہلاکت سے’ القاعدہ کے لیے ان کے متبادل افراد کی تلاش ایک مشکل کام بن گیا ہے‘۔ ڈینس بلیئر نے کہا کہ اگر القاعدہ کو قبائلی علاقوں میں اس کی محفوظ پناہ گاہیں چھوڑنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے تو اس خیال پر یقین کیا جا سکتا ہے کہ وہ جنوبی ایشیا میں کہیں اور، خلیج یا پھر افریقہ کے کچھ حصوں میں اپنا ٹھکانہ بنا سکتی ہے لیکن’ہمارا اندازہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی جگہ ان کی آپریشنل ضروریات کے لیے اتنی موزوں ثابت نہیں ہو سکتی جتنی کہ پاکستان کے قبائلی علاقے ہیں‘۔ |
اسی بارے میں ’ممبئی سانحہ، بھارتی ناکامی‘10 January, 2009 | پاکستان ثبوت نا کافی ہیں: قائمہ کمیٹی06 January, 2009 | پاکستان ’حکومت بھارت کے دباؤ میں نہ آئے‘23 December, 2008 | پاکستان بیشتر دہشتگردی پاکستان سے: براؤن14 December, 2008 | پاکستان ’جماعتہ الدعوۃ پر پابندی لگائی جائے‘10 December, 2008 | پاکستان مشترکہ تفتیش کی دوبارہ پیشکش 08 December, 2008 | پاکستان پہلے والی لسٹ میں کون کون مطلوب تھے05 December, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||