ممبئی حملے: پاکستان میں سزا کس قانون کے تحت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کا کہنا ہے کہ اگر ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کے شبہے میں ملک کے اندر کسی کو گرفتار کیا جاتا ہے تو اسے بھارت کے حوالے نہیں کیا جائے گا بلکہ اس پر ملکی عدالت میں ہی مقدمہ چلے گا۔ لیکن پاکستان کے قانونی ماہرین اس سوال پر بٹے ہوئے نظر آتے ہیں کہ آیا بھارت کے شہر ممبئی پر حملوں میں اگر کوئی پاکستانی شہری ملوث پایا جاتا ہے تو اس پر ملک کے اندر مقدمہ چلایا جاسکتا ہے یا نہیں۔ قانون دان اقبال حیدر کا کہنا ہے کہ پاکستانی قوانین میں ایسی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ سرحد پار ہوئے کسی جرم کے ملزمان پر ملکی عدالت میں مقدمہ چلایا جا سکے۔ ’برطانیہ اور امریکہ نے دہشتگردی کے خلاف قوانین میں اپنی عدالتوں کو یہ اختیار دے رکھا ہے کہ دہشتگردی کا واقعہ کسی بھی غیرملک میں کیوں نہ ہو اس کے مقدمے کی سماعت ان کے ملکوں میں ہو سکتی ہے لیکن پاکستان کی عدالتوں کے پاس یہ اختیار ہی نہیں ہے کہ کسی غیر ملک میں ہونے والے جرم کا مقدمہ چلائیں۔‘ حشمت حبیب ملک کے اندر اور باہر دہشتگردی کے الزام میں گرفتار ہونے والے بعض اہم ملزمان کے وکیل رہ چکے ہیں جن میں مسافر طیاروں کے ذریعے امریکہ پر حملے کرنے کی مبینہ سازش میں برطانیہ کو مطلوب پاکستانی شہری راشد رؤف اور شدت پسند قاری سیف اللہ اختر بھی شامل ہیں۔ وہ بھی اقبال حیدر کی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ پاکستان کے قانون کے تحت یہاں کی عدالتوں کو ملکی حدود سے باہر ہوئے جرم کے مقدمے کی سماعت کرنے کا اختیار نہیں لیکن ان کے بقول ایک صورت ایسی ہے جس کے تحت ممبئی حملوں سے متعلق مقدمہ ملک کے اندر مقدمہ چل سکتا ہے۔
’ہمارے یہاں ایک نئی ایف آر درج ہوسکتی ہے کہ جی فلاں فلاں نے کراچی یا کسی اور شہر میں بیٹھ کر ان حملوں کی منصوبہ بندی کی۔ اس بنیاد پر ان کے خلاف یہاں مقدمہ چل سکتا ہے اور انہیں سزا دی جا سکتی ہے کیونکہ دہشتگردی کی منصوبہ بندی کرنا بذات خود ایک جرم ہے۔‘ قاضی فیض عیسیٰ سینئر قانون دان ہیں اور بارہ مئی 2007ء کو معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی آمد کے موقع پر کراچی میں ہوئے فسادات کے متعلق آئینی درخواستوں کی سماعت کے دوران سندھ ہائی کورٹ کے معاون کے فرائض بھی انجام دے چکے ہیں۔ وہ بالکل مختلف بات کہتے ہیں۔ ’پاکستان میں یہ مقدمہ چل سکتا ہے کیونکہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 188 یہ واضح طور پر کہتی ہے کہ جہاں بھی اگر ایک پاکستانی شہری جرم کرے کہیں بھی دنیا میں، اس پر پاکستانی عدالت میں مقدمہ چلایا جاسکتا ہے اور ایسا سمجھا جائے گا جیسے کہ وہ جرم اس نے پاکستان میں کیا ہو۔‘ لیکن قاضی فیض عیسی کا کہنا ہے کہ اگر بالفرض پاکستان میں ایسا کوئی مقدمہ چلتا بھی ہے تو اس میں دونوں ملکوں کو پوری طرح تعاون کرنا ہوگا ورنہ کئی طرح کی پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں جس کا فائدہ ملزمان کو ہوگا۔ ’جب تک دونوں ملک ان واقعات کی مشترکہ تحقیقات نہیں کریں گے تو اس طرح کے مقدمے کی سماعت میں مشکلات ہوسکتی ہیں کیونکہ بھارت کے پاس ان حملوں کے ثبوت ہوں گے اور جن لوگوں نے ان واقعات کی تفتیش کی ہے انہیں بھی گواہی دینے کے لیے عدالت میں پیش ہونا ہوگا اس لیے دونوں ملکوں کا تعاون بہت ضروری ہے۔‘ واضح رہے کہ پاکستان اس بات کی تصدیق کرچکا ہے کہ ممبئی حملوں کے دوران واحد زندہ پکڑا جانے والا حملہ آور اجمل قصاب پاکستانی شہری ہے اور ان واقعات کے بعد ملک کے مختلف حصوں سے 124 افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے تاہم حکومت پاکستان نے اب تک یہ نہیں بتایا ہے کہ گرفتار افراد سے ہونے والی تفتیش میں کیا معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ |
اسی بارے میں ’ڈوسیئر پر مزید تفتیش کی ضرورت‘16 January, 2009 | پاکستان ممبئی حملے: ’ٹریک ٹو بھی ممکن نہیں‘15 January, 2009 | پاکستان ممبئی: ’کارروائی میں 124گرفتار‘15 January, 2009 | پاکستان ثبوت مل جائیں، تو سزادیں: مقرن14 January, 2009 | پاکستان ’پاک بھارت کشیدگی کم ہو‘13 January, 2009 | پاکستان گیلانی:معلومات ہیں ثبوت نہیں13 January, 2009 | پاکستان حافظ سعید کی نظربندی، توسیع10 January, 2009 | پاکستان ’قصاب کو قانونی دفاع فراہم کریں‘09 January, 2009 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||