BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 January, 2009, 16:56 GMT 21:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ثبوت مل جائیں، تو سزادیں: مقرن

رحمان ملک(فائل فوٹو)
’سعودی عرب کی کوشش ہوگی کہ بعض امور پر نواز لیگ اور پیپلز پارٹی میں جو چپقلش ہے وہ بات چیت سے طے کی جائے‘
پاکستان کا دورہ کرنے والے سعودی عرب کے چیف آف جنرل انٹیلی جنس شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز نے بدھ کو مشیر داخلہ رحمٰن ملک سمیت دیگر حکام سے ملاقاتیں کیں۔

شہزادہ مقرن کی ملاقاتوں اور سرگرمیوں کے بارے میں سرکاری طور پر تاحال کچھ بھی نہیں بتایا گیا۔ لیکن بعض حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے دورے کا مقصد پاکستان اور بھارت میں کشیدگی کم کرنا، افغانستان میں طالبان کو قومی دھارے میں شامل کرنا اور پاکستان میں سیاسی قوتوں کو متحد کرنا ہے۔

تریسٹھ سالہ شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ ان کی کوشش ہے کہ ممبئی حملوں کے الزام میں گرفتار ذکی الرحمٰن لکھوی اور ضرار شاہ کے خلاف ثبوت ملنے پر انہیں سزا دی جانی چاہیے۔

سعودی شہزادے کے بارے میں یہ بتایا گیا ہے کہ ان کی کوشش ہے کہ ذکی الرحمٰن لکھوی اور ضرار شاہ، جن سے جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید بھی لا تعلقی ظاہر کرچکے ہیں، ان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے فوج اور حکومتی قیادت میں ہم خیالی پیدا کی جائے۔

سنہ دو ہزار پانچ میں سعودی عرب کے چیف آف جنرل انٹیلی جنس کا عہدہ سنبھالنے والے شہزادے مقرن کے دورہ پاکستان کے بارے میں بعض مبصرین کا خیال ہے کہ وہ مختلف امور پر آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف میں اختلافات کی خلیج کم کرنے کے لیے بھی کوشش کریں گے۔

کچھ مبصرین کہتے ہیں کہ سعودی شہزادے کے دورے کا تیسرا اہم مقصد افغانستان کے آئندہ انتخابات میں طالبان کی شرکت کو یقینی بنانا بھی ہوسکتا ہے۔

ایسی ہی رائے پاکستان کے ایک سیاسی تجزیہ کار پروفیسر حسن عسکری رضوی کی ہے جو کہتے ہیں کہ سعودی عرب کا پاکستان اور افغانستان میں اثر رسوخ ہے اور ان کی کوشش ہوگی کہ آئندہ انتخابات میں طالبان کے بعض عناصر ضرور شرکت کریں تاکہ صورتحال بہتر ہوسکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’سعودی عرب کی کوشش ہوگی کہ بعض امور پر نواز لیگ اور پیپلز پارٹی میں جو چپقلش ہے وہ بات چیت سے طے کی جائے‘۔

پروفیسر عسکری کی رائے کو ماضی قریب میں سعودی عرب کی حکومت کی جانب سے طالبان حکومت میں بعص اہم عہدوں پر رہنے والی شخصیات سے اس بارے میں بات چیت کی گئی تھی۔ لیکن اس وقت کوشش تھی کہ تمام طالبان قومی دھارے میں شامل ہوجائیں۔

اس بارے میں جب افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے گزشتہ برس طالبان کو باضابطہ پیشکش کی تھی تو طالبان نے کہا تھا کہ جب تک امریکی افواج واپس نہیں جائیں گی اس وقت تک ایسا ممکن نہیں۔

اسی بارے میں
پابندی پر غور کر رہے ہیں: ملک
11 December, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد