’ڈوسیئر پر مزید تفتیش کی ضرورت‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے جانے مانے قانون دان اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر عابد حسن منٹو کا کہنا ہے کہ ممبئی حملوں کے بعد ہندوستان نے پاکستان کو پچپن صفحات پر مشتمل جو ڈوسیئر یا معلومات دی ہیں اس پر مزید تفتیش اور تائیدی ثبوتوں کے بغیر کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جاسکتی۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عابد منٹو نے کہا کہ بھارت کا موقف ہے کہ پاکستان کو ثبوت فراہم کردیے ہیں جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ ثبوت نہیں بلکہ معلومات ہیں اس لیے اس تنازعہ کو جوڈیشل افسر ہی حل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوئی جوڈیشل افسر ہی اس بات کا تعین کر سکتے ہیں کہ معلومات اور ثبوتوں میں کیا فرق ہے۔ عابد منٹو کا کہنا ہے کہ ممبئی حملوں کے مقدمے کی نوعیت بھی فوجداری مقدمہ کی ہے، اس لیے جو مواد ہندوستان کی طرف سے پاکستان کو فراہم کیا گیا ہے اس کے بارے میں کئی ایسے سوالات ہیں جن کے جوابات درکار ہیں۔ ان کے بقول فوجداری مقدمہ پر کارروائی کا ایک ضابطہ ہے اور اسی ضابطہ کے تحت کارروائی کرنی ہوتی ہے۔ ان کے بقول پستول از خود نہیں بولتا کہ کہاں سے آیا اور یہ کس طرح دستیاب ہوا ہے اس لیے اس بات کی ابھی چھان بین ہونا باقی ہے کہ جو پستول برآمد ہوا ہے وہ کس طرح پہنچا اور کس نے اسے پہنچایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح سیٹلائٹ فون کا جو تذکرہ کیا گیا ہے اس میں یہ بات جاننا بہت ضروری ہے کہ فون کے استعمال کے دوران آواز کی شناخت کس طرح ہوئی اور کس نے ان آوازوں کو شاخت کیا۔ سپریم کورٹ بار کے سابق صدر کہتے ہیں کہ یہ وہ پیچیدہ قانونی اور عدالتی سوالات ہیں جن کا جواب حاصل کیے بغیر حتمی طور پر کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔
ان کا کہنا ہے کہ جو مواد ہندوستان کی طرف سے پاکستان کو دیا گیا ہے اس معلومات یا ثبوتوں کے حوالے سے مزید ایسی شہادتیں اکٹھی کرنی ضرورت ہے جو تائیدی ثبوت کے طور پر استعمال کی جاسکیں۔ بقول ان کے پاکستان کو یہ حق ہے کہ اس مواد کے حوالے سے خود سے مزید تفتیش کرے اور ہندوستان سے بھی اس مواد کے بارے میں تائیدی ثبوت مانگے جس کی بنیاد پر کوئی فیصلہ کیا جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک معمولی سے مقدمے میں بھی پولیس مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کرتی ہے اور اور چھان بین کے دوران ثبوت اکھٹے کیے جاتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ تفتیش میں یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ کون مشکوک ہے اور کس پر الزامات عائد ہوتے ہیں تفتیش کے بعد ان ثبوتوں کو عدالت میں پیش کیا جاتا ہے اور عدالت یہ فیصلہ کرتی ہے کہ مجرم کون ہے۔ اجمل قصاب کے اقبالیہ بیان کے بارے میں عابد منٹو کہتے ہیں کہ اقبالیہ بیان میں کیا کہا گیا ہے اس بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے تاہم ان نکات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ اجمل قصاب کو کب پکڑا گیا، کتنے عرصہ تک وہ پولیس کی حراست میں رہا ہےاور اس سے کیا سلوک کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان سوالوں کے جواب کے بعد یہ انداز لگایا جاسکتا ہے کہ اقبالیہ بیان کتنا آزاد ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقبالیہ بیان کے سیاق و سباق کا مطالعہ کیے بغیر حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہوگا۔ منٹو کہتے ہیں کہ قصاب کی ویڈیو ریکارڈنگ اسے سزا دلانے کے لیے کافی نہیں ہے کیونکہ بقو ل ان کے ویڈیو ریکارڈرنگ از خود اجمل قصاب کی موجودگی کی وجہ بیان نہیں کر رہی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اجمل قصاب کیا خود وہاں گیا تھا یا پھر اس کو وہاں لایا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ مجرموں کی حوالگی کے حوالے سے پاکستان اور ہندوستان میں کوئی معاہدہ نہیں اور اگر کوئی ایسا معاہدہ ہوا تو اس صورت میں بھی پہلے تمام مواد جوڈیشل افسر کے سامنے پیش کیا جائے اور جوڈیشل افسر کے فیصلے کی روشنی میں مزید کارروائی کی جاسکتی ہے۔ عابد منٹو کا کہنا ہے کہ پاکستان کو چاہیے کہ بھارت نے جو مواد فراہم کیا ہے اس پر تفتیش کی جائے اور اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ بھارت نے ڈوسیئر میں جو الزامات لگائے ہیں ان میں کتنی جان اور سکت ہے اور تفتیش سے کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس پاکستان اور ہندوستان کو اس معاملے کو حل کرنے کے لیے مشترکہ تفتیش کرنی چاہیئے۔ |
اسی بارے میں ممبئی: ’کارروائی میں 124گرفتار‘15 January, 2009 | پاکستان ملی بینڈ پاکستان کے دورے پر 16 January, 2009 | پاکستان ’سرحد پر پاکستانی فوج میں اضافہ‘14 January, 2009 | آس پاس ’کارروائی نہیں تو تمام رشتے منقطع‘14 January, 2009 | انڈیا ملی بینڈ، رات چارپائی پر گزاری15 January, 2009 | انڈیا پاکستانی ماہی گیر بھارتی حراست میں 16 January, 2009 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||