BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 January, 2009, 07:46 GMT 12:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ملی بینڈ پاکستان کے دورے پر

 برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ
ملی بینڈ تین ماہ میں دوسری بار پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں
برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ بھارت کا دورہ مکمل کرنے کے بعد جمعہ کو دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔

برطانوی وزیر خارجہ جمعہ کو اپنے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی، وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کریں گے۔ جبکہ سنیچر کو روانگی سے قبل وہ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے بھی ملیں گے۔

برطانوی وزیر خارجہ کی پاکستان آمد سے محض ایک روز قبل مشیر داخلہ رحمٰن ملک نے ایک نیوز بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان نے ممبئی حملوں کے تناظر میں کاالعدم لشکر طیبہ کے ستر سے زیادہ سرکردہ رہنماوں کو حراست میں لیا ہے جبکہ سوا سو کے قریب دیگر پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

برطانیہ کے وزیراعظم گورڈن براؤن نے چھ ماہ قبل پاکستان کو انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے ساٹھ لاکھ پاؤنڈ دیے تھے۔ برطانوی وزیر خارجہ اس بارے میں ہونے والی پیش رفت، ممبئی حملوں کے ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے، افغانستان کی صورتحال اور شدت پسندی کے خاتمے سمیت مختلف دو طرفہ، علاقائی اور عالمی معاملات پر بات چیت کریں گے۔

ڈیوڈ ملی بینڈ نے اپنے بھارتی ہم منصب سے ملاقات کے بعد دلی میں یہ کہا تھا کہ ممبئی حملوں کے ملزمان پر پاکستان میں ہی مقدمہ چلنا چاہیے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ حملے لشکر طیبہ نے کیے اور وہ پاکستان کی سر زمین استعمال کر رہے ہیں۔‘

برطانوی وزیر نے دورہ بھارت کے دوران یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان کو ممبئی حملوں کے ملزمان کے خلاف کارروائی میں ’رتی برابر بھی نرمی نہیں برتنی چاہیے۔‘ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ برطانیہ سمجھتا ہے کہ ان حملوں میں پاکستان کی ریاست ملوث نہیں ہے۔

انہوں نے گزشتہ دنوں ایک برطانوی اخبار میں لکھے گئے ایک مضمون میں کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے حل سے خطے میں انتہا پسندی کم ہوسکتی ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ تین ماہ سے بھی کم عرصے میں دوسری بار پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔ وہ چھبیس نومبر کو ممبئی میں ہونے والے حملوں کے وقت اسلام آباد میں ہی تھے۔

ڈیوڈ ملی بینڈ کے دورے کے بارے میں بعض مبصرین کا خیال ہے کہ وہ پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت سے بات چیت میں اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ممبئی حملوں کے ملزمان کو سخت سزا دی جائے اور لشکر طیبہ جیسی شدت پسند تنظیموں کا صفایا کیا جائے۔

پاک بھارتممبئی کے اثرات
حملوں کے بعد ٹریک ٹو ڈپلومیسی بھی معطل
پاکستانی فنکار کاشف خانہند پاک کشیدگی
ٹوٹے رشتے فنکار ہی جوڑ سکتے ہیں: مہیش بھٹ
فائل فوٹوممبئی ڈوسیئر
پاکستان کو دیئے گئے شواہد کیا ہیں؟
چاند پر اور زمین پر
انڈیا کے لیے سن دو ہزار آٹھ کیسا رہا؟
امریکی اخبار۔۔۔۔
’پاکستان، اوبامہ کا بدترین بھیانک خواب‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد