ملی بینڈ پاکستان کے دورے پر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ بھارت کا دورہ مکمل کرنے کے بعد جمعہ کو دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ برطانوی وزیر خارجہ جمعہ کو اپنے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی، وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کریں گے۔ جبکہ سنیچر کو روانگی سے قبل وہ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے بھی ملیں گے۔ برطانوی وزیر خارجہ کی پاکستان آمد سے محض ایک روز قبل مشیر داخلہ رحمٰن ملک نے ایک نیوز بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان نے ممبئی حملوں کے تناظر میں کاالعدم لشکر طیبہ کے ستر سے زیادہ سرکردہ رہنماوں کو حراست میں لیا ہے جبکہ سوا سو کے قریب دیگر پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ برطانیہ کے وزیراعظم گورڈن براؤن نے چھ ماہ قبل پاکستان کو انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے ساٹھ لاکھ پاؤنڈ دیے تھے۔ برطانوی وزیر خارجہ اس بارے میں ہونے والی پیش رفت، ممبئی حملوں کے ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے، افغانستان کی صورتحال اور شدت پسندی کے خاتمے سمیت مختلف دو طرفہ، علاقائی اور عالمی معاملات پر بات چیت کریں گے۔ ڈیوڈ ملی بینڈ نے اپنے بھارتی ہم منصب سے ملاقات کے بعد دلی میں یہ کہا تھا کہ ممبئی حملوں کے ملزمان پر پاکستان میں ہی مقدمہ چلنا چاہیے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ حملے لشکر طیبہ نے کیے اور وہ پاکستان کی سر زمین استعمال کر رہے ہیں۔‘ برطانوی وزیر نے دورہ بھارت کے دوران یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان کو ممبئی حملوں کے ملزمان کے خلاف کارروائی میں ’رتی برابر بھی نرمی نہیں برتنی چاہیے۔‘ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ برطانیہ سمجھتا ہے کہ ان حملوں میں پاکستان کی ریاست ملوث نہیں ہے۔ انہوں نے گزشتہ دنوں ایک برطانوی اخبار میں لکھے گئے ایک مضمون میں کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے حل سے خطے میں انتہا پسندی کم ہوسکتی ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ تین ماہ سے بھی کم عرصے میں دوسری بار پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔ وہ چھبیس نومبر کو ممبئی میں ہونے والے حملوں کے وقت اسلام آباد میں ہی تھے۔ ڈیوڈ ملی بینڈ کے دورے کے بارے میں بعض مبصرین کا خیال ہے کہ وہ پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت سے بات چیت میں اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ممبئی حملوں کے ملزمان کو سخت سزا دی جائے اور لشکر طیبہ جیسی شدت پسند تنظیموں کا صفایا کیا جائے۔ |
اسی بارے میں ممبئی: ’کارروائی میں 124گرفتار‘15 January, 2009 | پاکستان ملی بینڈ، رات چارپائی پر گزاری15 January, 2009 | انڈیا ’غیر ضروری بیان کی ضرورت نہیں‘ 15 January, 2009 | انڈیا ’کارروائی نہیں تو تمام رشتے منقطع‘14 January, 2009 | انڈیا ’سرحد پر پاکستانی فوج میں اضافہ‘14 January, 2009 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||