ممبئی حملے: ’ٹریک ٹو بھی ممکن نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی حملوں کے پس منظر میں پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے سرکاری کے علاوہ غیر سرکاری رابطوں کو بھی معطل کر دیا ہے۔ کئی برسوں سے بھارت کے ساتھ ٹریک ٹو کے نام سے ہونے والے غیر سرکاری رابطوں میں شریک پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ نیاز اے نائیک کا کہنا ہے کہ ممبئی حملوں کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان ٹریک ٹو سفارتکاری کا عمل معطل ہو گیا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نیاز اے نائیک نے کہا ’ممبئی حملوں کے بعد سے دونوں ملکوں میں کشیدگی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ ہمیں سرکاری طور پر بتا دیا گیا ہے کہ ٹریک ٹو سفارتکاری کا سلسلہ بھی فی الحال معطل سمجھا جائے۔‘ بھارت میں طویل عرصے سے سٹیج اداکاری میں مصروف پاکستانی مزاحیہ اداکار شکیل صدیقی کو کام کرنے سے روکنے کے بعد پاکستان جمعرات کے روز کراچی بھیج دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے پاکستانی تھیٹر گروپ ’اجوکا‘ کے بارے میں بھی اس طرح کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ اس کو بھی بھارت میں کام کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی کشیدگی کم کرنے میں ٹریک ون، تھری اور فور کی ناکامی کے بعد ماہرین کی تمام امیدیں ٹریک ٹو ڈپلومیسی سے وابستہ ہوئی تھیں جو اس سے پہلے بھی دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ ماحول کو بہتر بنانے میں کردار ادا کر چکی ہے۔
تاہم پاکستان اور بھارت کے غیر سرکاری حکام پر مشتمل ’نیمرانہ گروپ‘ کے شریک چیئرمین نیاز اے نائیک کا کہنا ہے کہ سرکاری منظوری کے بغیر ٹریک ٹو سفارتکاری کامیاب نہیں ہو سکتی اور موجودہ حالات میں دونوں ملکوں کی حکومتیں اس موڈ میں نہیں کہ ایسے کسی مثبت اقدام کی توقع کی جائے۔ اسی کی دہائی میں امریکہ میں پہلی بار استعمال ہونے والی ’ملٹی ٹریک ڈپلومیسی‘ کی یہ اصطلاحات دو ملکوں کے درمیان روابط کے مختلف طریقوں کی وضاحت کرتی ہیں۔ ٹریک ون باضابطہ سفارتی اور سرکاری روابط کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔ ٹریک ٹو کی اصطلاح دو ملکوں کے غیر سرکاری ماہرین کے درمیان ان روابط کے لئے استعمال کی جاتی ہے جنہیں سرکاری سرپرستی حاصل ہوتی ہے۔ ٹریک تھری کی ذیل میں غیر سرکاری ماہرین کی وہ کوششیں شامل کی جاتی ہیں جو سرکاری سرپرستی کے بغیر کی جا رہی ہوں۔ ٹریک فور دو ملکوں کے شہریوں کے درمیان روابط کو ظاہر کرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ٹریک ٹو سفارتکاری سب سے مؤثر رہی ہے۔ تاہم نیاز اے نائک نے بتایا کہ موجودہ حالات میں ٹریک ٹو ڈپلومیسی یا ’نیمرانہ گروپ‘ کے متحرک ہونے کے امکانات نہیں ہیں۔
اس سوال پر کہ کیا وہ حکومت وقت کی منظوری کے بغیر اپنے بھارتی ہم خیالوں کے ساتھ رابطہ نہیں کر سکتے، نیاز اے نائیک نے کہا ’یہ معاملہ کس قدر حساس ہو چکا ہے اسکا اندازہ پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر محمود علی درانی کی برطرفی سے ہوتا ہے۔ میں ایسا کوئی خطرہ مول لینا نہیں چاہتا۔‘ واضح رہے کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ممبئی میں زیرحراست مبینہ پاکستانی حملہ آور اجمل قصاب کو بلا اجازت پاکستانی قرار دینے کا بیان جاری کرنے پر محمود علی درانی کو ملازمت سے برطرف کر دیا تھا۔ نیاز اے نائیک نے کہا کہ ویسے بھی ان حالات میں دونوں حکومتیں ویزہ اور دیگر سہولیات فراہم کرنے میں لیت و لعل سے کام لیں گی اور دونوں ملکوں کے ماہرین کے لئے ملاقات عملاً نا ممکن ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ نیمرانہ گروپ کے ارکان کے درمیان نئی دلی میں مارچ میں مذاکرات ہونے تھے لیکن موجودہ حالات میں یہ ممکن نظر نہیں آتے۔ نیمرانہ مذاکرات کی ایک اور اہم رکن، ڈاکٹر خالدہ غوث پاکستان اور بھارت کے درمیان اس ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے معطل ہونے کا ذمہ دار بھارتی قیادت کو قرار دیتی ہیں۔ پاک بھارت تعلقات بہتر بنانے میں گزشتہ تین دہائیوں سے مصروف سکالر نے کراچی سے فون پر کہا ’بھارتی قیادت جس طرح کے انا پرستی پر مبنی بیانات جاری کر رہی ہے اس سے مجھ جیسا امن پسند فرد بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔ میں بہت دکھ سے یہ کہہ رہی ہوں کہ اگر بھارتی قیادت نے یہ نفرت انگیز بیانات جاری کرنا بند نہ کیے تو ان کے منفی اثرات طویل عرصے تک برقرار رہیں گے۔‘ |
اسی بارے میں ’پاکستان، بھارت جنگ سے بچیں‘29 December, 2008 | پاکستان اسلام آباد: سفارتی مصروفیات تیز26 December, 2008 | پاکستان ’قوم مقابلے کے لیے متحد ہے‘24 December, 2008 | پاکستان ممبئی حملے اور جہادیوں کے اصل مقاصد17 December, 2008 | پاکستان مشترکہ تفتیش کے لیے تیار: پاکستان02 December, 2008 | پاکستان ممبئی حملے، پاکستان کی مذمت27 November, 2008 | پاکستان ممبئی میں حملے اور پاکستان کافریدکوٹ30 November, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||