پاک بھارت مذاکرات کانیا مرحلہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے درمیان جامع مذاکرات کا سلسلہ منگل سے دوبارہ شروع ہو رہا ہے۔ اسلام آباد میں نئی حکومت کے قیام کے بعد دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان یہ پہلا بالمشافہ رابطہ ہوگا۔ مبصرین یہ توقع کر رہے ہیں کہ ان مذاکرات سے فریقین کو ایک دوسرے کی سوچ و نظر معلوم کرنے میں مدد ملے گی۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور سیکریٹری خارجہ سلمان بشیر دونوں اپنے عہدوں پر نئے ہیں اور ان مذاکرات میں پہلی مرتبہ شرکت کر رہے ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اس پہلے اعلیٰ سطحی رابطے کے موقع پر دونوں ممالک کے مابین کئی معاہدوں پر دستخط بھی متوقع ہیں۔ بھارتی سیکرٹری خارجہ شیو شنکر مینن کی اسلام آباد آمد آج متوقع ہے جو کل خارجہ سیکریٹری سطح کے مذاکرات میں اپنے پاکستانی ہم منصب سلمان بشیر سے بات چیت کریں گے۔ وزراء خارجہ کے درمیان مذاکرات اس سے اگلے روز منعقد ہوں گے۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان محمد صادق کے مطابق مذاکرات کے ایجنڈے پر آٹھ نکات ہیں جن میں اعتماد سازی کے اقدامات، جموں و کشمیر، سیاچن، سر کریک، ولر بیراج، دہشت گردی اور منشیات، اقتصادی تعاون اور دوستانہ تبادلوں کا فروغ شامل ہیں۔ تازہ بات چیت میں ان موضوعات پر اب تک کی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا اور رکاوٹوں کو دور کرنے پر غور ہوگا۔
بھارتی وزیر خارجہ پرناب مکھر جی کی پاکستان کے دورے کے موقع پر صدر پرویز مشرف، وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی، پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف سے ملاقات متوقع ہیں۔ ان اور دیگر ملاقاتوں سے بھارتی حکام امید کر رہے ہیں کہ انہیں پاکستان میں سیاسی رجحانات اور فضا جانچنے میں مدد ملے گی۔ اس سے قبل تک دونوں حکومتوں کے درمیان اچھے یا برے بیانات کی حد تک ہی رابطے محدود تھے۔ ان ملاقاتوں سے بھارت کو معلوم ہوسکے گا کہ پیپلز پارٹی حکومت تعلقات کو کس سمت میں لیجانے کی خواہش مند ہے۔ بھارت یہ بھی جاننے کی کوشش کرے گا کہ اس وقت پاکستان میں اصل فیصلے کرنے والی طاقت کون ہے۔ اہم مسائل پر فیصلے کرنا نئی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، صدر کے یا پھر فوج اب بھی پس منظر میں متحرک ہے۔ متنازعہ وادی کشمیر میں گزشتہ دنوں درندازی اور جے پور میں بم دھماکوں کے واقعات کے تناظر میں یہ مذاکرات کافی اہم قرار دیئے جا رہے ہیں۔ ادھر پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی مذاکرات کے آغاز سے قبل اپنی تیاریاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ انہوں نے گزشتہ سنیچر کمشیر کی دونوں جانب قیادت سے مشاورت کی ہے۔ اس ملاقات میں حکومت کی کشمیر پالیسی سے بھی انہیں آگاہ کیا گیا۔
جے پور دھماکوں کے بعد اپنے ردعمل میں بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے کہا تھا کہ اس کا مقصد پاک بھارت تعلقات کو نقصان پہنچانا تھا لہٰذا دونوں کو چاہیے کہ وہ ان مقاصد کو ناکام بنانے کے لئے مشترکہ حکمت عملی تشکیل دیں۔ سفارتی ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری اور متنازعہ مسائل کے حل کے لئے سیاسی حمایت تو موجود ہے لیکن اسے عملی جامع پہنانے میں تاخیر ہو رہی ہے۔ کئی تجزیہ نگار جامع مذاکرات کی سست روی کو بھی وجہ بتا کر ان مذاکرات سے کوئی زیادہ پرامید دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں کشمیر:فائربندی کی خلاف ورزی14 May, 2008 | انڈیا کشمیر جھڑپیں، آٹھ شدت پسند ہلاک17 May, 2008 | انڈیا ’دہشتگردی پر بات چیت ہوگی‘14 May, 2008 | انڈیا خالد کی ہلاکت، خیر سگالی متاثر12 March, 2008 | پاکستان قیدیوں کی رہائی میں تاخیر پرافسوس20 August, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||