قیدیوں کی رہائی میں تاخیر پرافسوس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے بھارت کی جانب سے وہاں قید پاکستانیوں کی رہائی میں تاخیر پر افسوس کا اظہار کیا ہے جبکہ بھارت کے جوہری تجربے کے ردعمل میں اپنی جوہری پالیسی پر نظر ثانی کی دھمکی دی ہے۔ پیر کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران وزارت خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ سال دو ہزار تین سے لے کر اب تک پاکستان اٹھائیس سو سے زائد بھارتی قیدی جن میں دو سو چونٹسھ سویلین اور پچیس سو انسٹھ ماہی گیر تھے، رہا کر چکا ہے۔ اس کے مقابلے میں بھارت، ترجمان کا کہنا تھا، صرف آٹھ سو تیئس افراد جن میں تین سو چھیاسی سویلین تھے رہا کیئے ہیں۔ تسنیم اسلم نے شکایت کی کہ بھارت پاکستانی قیدیوں سے پاکستانی سفارت خانے کے عملے کو ملاقات کی بھی اجازت نہیں دے رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی ایسے پاکستانی اپنی قید کی مدت بھی مکمل کر چکے ہیں لیکن انہیں رہا نہیں کیا جا رہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ترجمان وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ انہیں یہ اندازہ بھی نہیں کہ بھارت میں کتنی تعداد میں پاکستانی قید ہیں۔ ترجمان نے بتایا کہ گزشتہ ماہ پاک بھارت مذاکرات میں بھی اس معاملے کو اٹھایا گیا تھا تاہم اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ پاکستان ن نے گزشتہ ہفتے بھی ایک سو چونتیس بھارتی واہگہ کے راستے رہا کیئے تھے۔ اس کے بدلے بھارت نے ستر رہا کیئے جوکہ بقول پاکستان طے شدہ تعداد سے اننچاس کم تھے۔ بھارت کے جوہری تجربے کی اطلاعات کے بارے میں ترجمان کا کہنا تھا کہ ایسا ہونے کی صورت میں پاکستان بھی اپنی جوہری تجربات نہ کرنے کی پالیسی پر ازسرنو جائزہ لے سکتا ہے۔ | اسی بارے میں بھارت اور امریکہ کا جوہری معاہدہ27 July, 2007 | انڈیا آسٹریلیا کا پابندی اٹھانےکا فیصلہ15 August, 2007 | انڈیا بھارتی جنگی قیدیوں کی تلاش31 May, 2007 | انڈیا باقی باسٹھ قیدی بھی رہا کریں: پاکستان 15 August, 2007 | پاکستان بھارتی قید سے 70 پاکستانی قیدی رہا14 August, 2007 | پاکستان ایک سو چونتیس انڈین قیدی رہا13 August, 2007 | پاکستان پاکستان: بھارتی قیدیوں کی رہائی12 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||