بھارت میں گرفتاریوں کے خلاف احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں کراچی کے تیس سے زائد لوگوں کو اٹاری اور مونا باؤ سٹیشن سے حراست میں لیا گیا ہے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ کراچی پریس کلب کے باہر پیر کو کچھی برادری کے ان لوگوں کے رشتہ داروں نے ان کی رہائی کے لیے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ یہ تمام لوگ بھارتی گجرات کے علاقے کچھ بھج میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے گئے ہوئے تھے اور ان کو فروری سے اپریل کے مہینوں میں گرفتار کیا گیا ہے۔ اقبال شاہ دو ماہ کے ویزے پر بائیس مارچ کو بذریعہ اٹاری بھارت گئے تھے۔ ان کے والد ابراہیم شاہ کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے چھتیس گھنٹے کا سفر طے کر کے ضلع بھج پہنچے جہاں انہوں نے پولیس کو رپورٹ کی اور ایک ماہ قیام کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پورے سفر میں انہیں کہیں نہیں روکا گیا پھر اچانک بھارتی حکام نے انہیں واپس جانے کے لیے کہا اور وہ اٹاری پہنچے تو حراست میں لے لیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً بائیس سال کے بعد ان کا بیٹا اپنی خالہ سے ملنے گیا تھا۔ اگر وہ دہشت گرد ہوتا یا کسی غلط کام کرنے کے لیے جاتا تو پھر واپس کیوں آتا اور کوئی راستہ بھی اختیار کرسکتا تھا۔ گرفتار محمد حسن کے بیٹے عبدالغفور کا کہنا ہے کہ ان کی بہن کی طبیعت ناساز رہتی تھی اور والد ان کی آب و ہوا تبدیل کرانے کے لیے بھارت لے گئے تھے۔ وہ دونوں اتوار کو بذریعہ تھر ایکسپریس کراچی پہنچنے والے تھے۔ ان کے رشتہ دار کراچی کے کینٹ سٹیشن پر ان کا انتظار کرتے رہے مگر وہ نہ آئے۔ عبدالغفور کا کہنا ہے کہ بھارت سے رشتہ داروں نے معلوم کرکے بتایا کہ ان کے والد اور بہن کو جعلی ویزہ رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے والد نے دو ویزوں کے لیے ایجنٹوں کو پچیس ہزار روپے فراہم کیے تھے۔ اب انہیں کیا پتہ کہ وہ ویزہ جعلی ہے، دو ماہ گھومنے کے بعد جب وہ واپس آرہے تھے تو انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔ داؤد مندرہ کے بھائی، بھابھی اور ایک سالہ بھتیجی دس روز سے زائد عرصے سے قید میں ہیں اور ان کے اہل خانہ پریشانی کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ حکومت اور انصار برنی کو درخواستیں دے چکے ہیں مگر کسی نے کوئی مدد نہیں کی جبکہ بھارتی قیدیوں کی رہائی کے لیے غیر معمولی جوش وہ خروش کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارتی سفارت خانے کی تمام رسمی کارروائی پوری کی گئی تھی۔ انہوں نے ایک ویزہ کاغذ فراہم کردیا۔ یہ اصلی ہے یا نقلی ان سے وہ لاعلم تھے۔ یہ تو بھارتی حکومت کا کام ہے کہ وہ معلوم کرے کہ بھارتی سفارتخانے سے کیسے جعلی ویزے جاری ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ بھج کا ویزہ بہت مشکل سے ملتا ہے۔ سو میں سے پانچ خوش نصیب ہوتے ہیں جنہیں وہاں کا ویزہ ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب جن کو یہ ویزہ نہیں ملتا ان کو ایجنٹوں نے سبز باغ دکھا کر کہا کہ ان کے بھارتی سفارتخانے میں تعلقات ہیں بارہ ہزار میں ویزہ لگوادیں گے۔ ان کے مطابق جو لوگ زمانے کے بعد اپنے رشتہ داروں سے ملنے جار رہے ہیں ان کے لیے یہ پیسے کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ داؤد اسماعیل کی قریبی رشتہ دار صغراں بی بی کا تعلق بھارت سے ہے اور وہ اپنے میکے گئیں تھیں اور انہیں بھی حراست میں لے لیا گیا۔
وہ خود کو بدنصیب قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں ’بر صغیر کی تقسیم کے وقت میں یہاں پاکستان میں رہ گیا اور رشتہ دار سرحد کے اس پار۔ اس کا مجھ سے بدلہ لیا جارہا۔‘ اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن نے اٹاری اور موناباؤ سے گرفتاریوں کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ان لوگوں کو جعلی ویزہ رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ہائی کمیشن کے ترجمان سنجے ماتھر نے بی بی سی کو بتایا کہ ایجنٹوں کے بارے میں وہ باخبر ہیں اور اس بارے میں تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان ایجنٹوں کے خلاف کارروائی ان کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے اس بارے میں پاکستانی حکام کو آگاہ کیا جائیگا۔ کچھی برداری کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر ویزہ آفس کراچی میں ہو تو وہ ایجنٹوں سے بچ سکتے ہیں۔ ہائی کمیشن کے ترجمان سنجے ماتھر کا کراچی میں سفارتخانے کے قیام کے حوالے سے کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے تیاریاں مکمل ہیں مگر جب تک ممبئی میں پاکستانی سفارتخانے کا قیام نہیں ہوجاتا اس پر عمل نہیں ہوسکتا۔ پاکستان اور بھارت کی جانب سے ویزہ پالیسی میں نرمی اور کھوکھراپار مونا باؤ سرحد کھلنے کے بعد پاکستان سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد بھارت میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لیے جانے کی خواہش مند ہے جن میں اکثریت سندھ کے لوگوں ہے۔ |
اسی بارے میں پینتیس برس بعد کشمیر آزاد03 March, 2008 | پاکستان بھارت تعاون نہیں کر رہا: دفترِ خارجہ05 March, 2007 | پاکستان ایک سو چونتیس انڈین قیدی رہا13 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||