’موت کی اطلاع میں تاخیر کی گئی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کی جیل میں پراسرار حالات میں ہلاک ہونے والے خالد محمود کے ورثا نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان اور ہندوستان کے حکام کی ملی بھگت سے اس کی لاش واپس لانے میں تاخیر کی گئی تاکہ ان کے بقول کشمیر سنگھ کی رہائی میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو سکے۔ خالد محمود کے بھائی عبیداللہ انوار اور بہن ثریا طلعت نے ایک پریس کانفرنس میں دونوں ملکوں کے درمیان خط و کتابت پر مبنی دستاویزات کی نقول میڈیا میں تقسیم کیں۔ انہوں نے جو دستاویزات تقسیم کیں ان میں پاکستانی ہائی کمیشن کی جاری کردہ ایک رسید شامل ہے جس میں پاکستانی حکام نے اقرار کیا ہے کہ انہوں نے تیرہ فروری کو ہندوستانی جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی فراہم کردہ تحریری اطلاع وصول کی تھی۔ انڈین ہائی کمیشن کا بھی یہی کہنا ہے کہ پاکستان کو ہلاکت کی بروقت اطلاع دے دی گئی تھی لیکن اس کی جانب سے لاش کی پاکستان واپسی کا مطالبہ تین ہفتوں کے بعد آیا۔
خالد محمود کے بھائی نے کہا کہ انہیں یہ علم نہیں تھا کہ ان کا بھائی ہلاک ہوچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اطلاع ایک سازش کے تحت ان سے چھپائی گئی کیونکہ اگر خالد محمود کی لاش پہلے واپس آجاتی تو ہندوستانی شہری کشمیر سنگھ کی جیل سے رہائی اور انڈیا واپسی کے عمل میں ان کے بقول رکاوٹ پیدا ہو سکتی تھی۔ کشمیر سنگھ جاسوسی کے الزام میں پیینتس برس کی قید کے بعد پاکستان کے وزیر برائے انسانی حقوق انصار برنی کی کوشش سے رہا ہوئے تھے۔ وہ پانچ مارچ کو پیدل واہگہ کے راستے سرحد پار کرگئے اور خالد محمود کے بھائی کے بقول ان کے سرحد پار کرنے کے صرف ایک گھنٹے کے بعد انہیں خالد محمود کی ہلاکت کی اطلاع مل گئی۔ کشمیر سنگھ کی ہندوستان واپسی کے بعد میڈیا میں ان کے ایسے بیانات سامنے آئے تھے جس میں انہوں نے بھارتی جاسوس ہونے کا اعتراف کیا تھا۔ ان بیانات کے بعد پاکستانی وزیر کو ان کی رہائی کروانے پر بعض حلقوں کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی دوران خالد محمود کی لاش واہگہ کے راستے پاکستان آگئی۔ متوفی کے ورثا نے الزام عائد کیا ہے کہ کشمیر سنگھ کی رہائی کا جواب ہندوستان نے خالد محمود کی لاش کی صورت میں دیا ہے۔ جمعہ کو ہونے والی پریس کانفرنس میں ان عقب میں جو بینر لگا تھا اس پر بھی سرخ رنگ سے لکھا تھا کہ ’کشمیر سنگھ کی رہائی کے بدلے بھارتی پیغام خالد میو کی لاش؟؟؟؟؟؟‘ خالد محمود کی بہن ثریا طلعت نے کہا کہ وہ اپنے بھائی کو ملنے گئی تو اس کا برا حال تھا۔ مبینہ تشدد سے اس کے پاؤں سوجے ہوئے تھے، انگلیوں کے ناخن پلاس سے کھینچے گئے تھے، سر کے بال گرم پانی ڈالنے کی وجہ سے گر گئے تھے۔ انہوں نے کہا وہ اپنے بھائی کی حالت دیکھ کر رو رو کر بےہوش ہوگئی تھیں۔
خالد محمود کو سپرد خاک کر دیا گیا ہے تاہم ان کے بھائی کا کہنا ہے کہ وہ جلد ان کی لاش کی ایسی تصاویر میڈیا کو جاری کریں گے جس سے ان پر بھارتی تشدد ثابت ہوجائے گا۔ پاکستانی حکام نے معاملہ سفارتی سطح پر اٹھانے کا عندیہ دیا ہے۔ جواباً ہندوستان نے خالد محمود کو جاسوس قرار دے دیا ہے۔ ثریا طلعت نے ہندوستانی حکام کے اس موقف کی تردید کی ہے کہ ان کا بھائی جاسوس تھا۔ انہوں نے کہا جب وہ ہندوستان کی جیل میں اپنے بھائی سے ملنے گئی تھیں تو کسی نے اس الزام کی بات نہیں کی۔ خود ان کے بھائی نے بھی یہ نہیں بتایا کہ ان پر جاسوسی کا الزام ہے۔ خالد محمود کے بھائی اور بہن نے مطالبہ کیا کہ پاکستانی سینیٹ میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو انڈیا جاکر اس پراسرار ہلاکت کی چھان بین کرے۔ ثریا طلعت نے کہا کہ خالد محمود کا قصور محض اتنا تھا کہ وہ سنہ دو ہزار پانچ میں جب کرکٹ میچ دیکھنے انڈیا گئے تو ان کا پاسپورٹ گم ہوگیا۔ جس کے بعد خالد محمود کے ورثا کے بقول ہندوستان اور پاکستان دونوں ملکوں کے حکام کا رویہ افسوسناک رہا اور نتیجہ خالد محمود کی المناک موت کی صورت میں نکلا۔ |
اسی بارے میں انڈیا سے پاکستانی کی لاش واپس10 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||