BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 May, 2008, 14:06 GMT 19:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر:فائربندی کی خلاف ورزی

فوجی
بھارت کا کہنا ہے کہ ٹنگڈار سیکٹر میں پاپا بنکر پوسٹ پر تعینات پاکستانی رینجرز نے ہلکے ہتھیاروں سے فائر کیا تھا
کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے ایک واقعہ کے بعد بھارتی فوج نے کہا ہے کہ پاکستان نے چار سالہ سیز فائر کی خلاف ورزی کی ہے۔

اس واقعہ کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے فوجی افسروں کی فلیگ میٹنگ منعقد ہوئی ہے جس میں ہندوستانی افسروں نے پاکستان سے وجوہات طلب کی ہے۔

ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں تعینات فوج کی پندرہویں کور کے ترجمان کرنل انِل کمار ماتھُر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’منگل کو چھ بجے شمالی کشمیر کے ٹنگڈار سیکٹر میں پاکستانی کنٹرول والے علاقے میں پاپا بنکر پوسٹ پر تعینات پاکستانی رینجرز نے ہلکے ہتھیاروں سے ہمارے جوانوں پر فائرنگ کی۔ ہم نے کوئی جوابی کاروائی نہیں کی۔ یہ پچھلے چار سال سے جاری سیز فائر کی پہلی خلاف ورزی ہے۔‘

مسٹر ماتھُر نے تفصیلات بتتے ہوئے کہا کہ گولیوں کا سلسلہ دس سے بارہ منٹ تک جاری رہا جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ترجمان کے مطابق پاکستانی رینجرز نے ہلکے ہتھیاروں سے گولیاں چلائیں، جس پر بھارتی افواج نے ردعمل نہیں دکھایا۔

جموں کے سانبہ سیکٹر میں گزشتہ ہفتے ہندپاک سرحد پر مسلح جنگجوؤں اور فوج کے درمیان تصادم کے بعد جنگجوؤں نے سانبہ کے کیہلی منڈی میں پناہ لے لی تھی اور اس دوران ایک سیاسی کارکن اور اس کی بیوی کو ہلاک کردیا تھا۔ فوجی آپریشن میں دونوں جنگجوؤں سمیت آٹھ لوگ مارے گئے۔ ایک تیسرا جنگجو دوسرے دن فوجی کیمپ کے باہر تصادم میں مارا گیا۔

واضح رہے کہ نومبر سن دوہزار تین میں اُس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم ظفراللہ خان جمالی نے کنٹرول لائن پر یک طرفہ فائر بندی کا اعلان کر کے امن کے عمل کی شروعات کا اعلان کیا تھا۔ اس پر اُس وقت کے ہندوستانی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے بھی یکساں ردعمل دکھاتے ہوئے کنٹرول لائن پر سیز فائر کا اعلان کیا تھا۔ سیز فائر کے تین ماہ بعد پاکستانی صدر پرویز مشرف اور وزیر اعظم واجپائی کےدرمیان امن معاہدہ طے پایا تھا، جس کے مطابق ابھی بھی امن کوششیں ہورہی ہیں۔

اِدھر شمالی کشمیر میں ہی رفیع آّباد گاؤں میں مقامی باشندوں نے فوج کے خلاف سرینگر بارہمولہ شاہراہ پر مظاہرے کیے۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ فوج نے چار سیاسی کارکنوں پر اندھا دھندگولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوگئے۔

اس واقعہ کے حوالے سے فوج کا کہنا ہے کہ رات کے اندھیرے میں ان شہریوں کو رُکنے کا اشارہ کیا گیا جو انہوں نے نظرانداز کیا اور ڈیوٹی پر مامور جوانوں نے حملہ آور سمجھ کر ان پر فائر کیا۔ لیکن فائرنگ میں شدید زخمی ہونے والوں کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ خورشید، اشرف، فردوس اور غلام محمد نامی یہ افراد مقامی ایم ایل اے دلاور میر سے سرینگر میں ملاقات کے بعد یاربگ میں واقع گھر لوٹ رہے تھے کہ آدھ کلومیٹر پہلے ہی فوجی اہلکاورں نے ان پر فائرنگ کردی۔

ایک فوجی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’فوج کو پہلے ہی خفیہ اطلاع تھی کہ وہاں سے جنگجوؤں کا گزر ہونا ہے، لہٰذا انہوں نے گھات لگا رکھی تھی، چنانچہ ان لوگوں نے وارننگ کو نظر انداز کیا تو انہیں ایسا لگا کہ جنگجو ہی آگئے۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد