خالد کی ہلاکت، خیر سگالی متاثر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان محمد صادق کا کہنا ہے کہ بھارتی قید میں پاکستانی شہری خالد محمود کی ہلاکت سے بھارتی شہری کشمیر سنگھ کی رہائی سے پیدا ہونے والی خیر سگالی کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان محمد صادق نے کہا کہ اس واقعے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان ، قیدیوں کے معاملات طے کرنے کے لیے حال ہی میں عدالتی کمیٹی بنانے کا جو سمجھوتہ ہوا تھا اس پر بھی برا اثر پڑا ہے ۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ خالد محمود کی موت پراسرار حالات میں ہوئی ہے اور بھارتی حکام نے اس کی گرفتاری سے انہیں لاعلم رکھا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اس گرفتاری کے بارے میں موت کے بعد بتایا گیا۔ ’خالد محمود کی ہلاکت کی خبر ملنے کے بعد ہم نے فوری طور پر پاکستان کے اندر متعلقہ حکام سے تصدیق کے لیے رابطہ کیا کہ آیا ان کے پاس بھارت میں موجود پاکستانی قیدیوں کی کسی لسٹ میں خالد محمود کا نام تو نہیں۔ لیکن اس کا نام کہیں نہیں تھا ۔‘ دفتر خارجہ کے ترجمان کاکہنا تھا کہ پاکستان نے بھارتی حکام سے اس سلسلے میں تفصیلی رپورٹ مانگی ہے جس سے پتہ چل سکے کہ وہ کیونکر گرفتار ہوا اور اس کی موت کن حالات میں ہوئی۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بھارتی حکام سے تفصیلی رپورٹ کے آنے کے بعد خالد محمود کی ہلاکت کے حوالے سے کوئی اقدام کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے کشمیر سنگھ کو محض انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کیا تھا۔’ہمیں امید تھی کہ ہندوستان کی طرف سے بھی ایسی ہی خیر سگالی کا مظاہرہ کیا جائے گا ۔ لیکن بد قسمتی سے ہمیں جواباً خالد محمود کی میت وصول کرنا پڑی۔‘ ترجمان نے کہا کہ وہ بھارتی حکام کو یاد دہانی کرانا چاہتے ہیں کہ وہ بھارتی جیلوں میں قید پاکستانی شہریوں سے مناسب انسانی سلوک کو یقینی بنائیں اور پاکستان ان تمام قیدیوں کی جلد واپسی کےلیے اپنی کوششیں جاری رکھےگا۔ تاہم ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے واضح کیا کہ اس افسوسناک واقعے کے باوجود پاک بھارت دو طرفہ مذاکرات کا عمل جاری رہےگا۔ایران میں غیر قانونی طور پر محصور پاکستانیوں کی رہائی کے بارے میں ترجمان محمد صادق نے بتایا کہ چھتیس میں سے تیئس پاکستانی شہری رہا ہو کر پاکستان پہنچ چکے ہیں جبکہ باقی تیرہ کے نام ایرانی حکام تک پہنچا دیے گئے ہیں ۔امید ہے وہ بھی جلد اپنے اہلخانہ سے آ ملیں گے۔ | اسی بارے میں ہاں میں جاسوس تھا: کشمیر سنگھ07 March, 2008 | انڈیا بھارتی قیدی: پینتیس برس بعد رہائی29 February, 2008 | پاکستان ’جنگی میدان سے آگے جاکر کام کیا‘08 March, 2008 | انڈیا پینتیس برس بعد کشمیر آزاد03 March, 2008 | پاکستان ’خون کو کیسے نہیں پہچانیں گے‘04 March, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||